آدمی تنہا ہے لشکر یا ہے لشکر آدمی ،رپور تاژ ،نصرت نسیم

0
1716

کتاب کے حوالے سے ایک اور اہم ملاقات اور شخصیت کاذکر کرنا بھی ضروری ہے۔جو بوجوہ اب تک نہیں کر پاے۔
اکیڈمی ادبیات اسلام آباد کچھ عرصہ پہلے افتخار عارف کی کتاب بیتی کے لئے پہنچے۔تو تقریب ختم ہو چکی تھی۔سواگلی بار جب جناب فتح محمد ملک کی کتاب بیتی تھی۔تو ہم بروقت پہنچ گئے۔بات کتاب کی ہو اور کتاب بیتی فتح محمد صاحب کی تو کیسی بھر پورتقریب ہوگی۔سارے راستے اس تصور سے ہی شاداں رہے۔حسب توقع یہ ایک بہت دلچسپ اور شاندار تقریب تھی۔جس کے اختتام پر محترم فتح محمد ملک صاحب سے بات چیت کرنے کاموقع مل گیا(۔اس کی تفصیل ایک رپور تاژ میں لکھ چکے )
پھر کچھ عرصے بعد ہماری خود نوشت “بیتے ہوے کچھ دن ایسے ہیں “زیور طباعت سے آراستہ ہوکر آئی تو سوچا کہ اکیڈمی ادبیات اسلام آباد کے چئرمین جناب یوسف خشک صاحب کو بھی کتاب دینی ہے۔سو جب بیٹی کے گھر گئے تو اکیڈمی ادبیات فون کیاجو کوشش کے باوجود نہ مل سکا۔بیٹی نے کہا محرم کے دن ہیں شاید موبائل کام نہیں کر رہے ہمارے گھر سے اکیڈمی ادبیات دس منٹ کے فاصلے پر ہے۔آپ جا کر دے آئیں۔ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ہم نے پوتی کو ساتھ لیا۔کتاب اٹھائ اور چل دئیے۔
اکیڈمی ادبیات پہنچے تو خلاف توقع چیرمین صاحب ایوان اعزاز کے دروازے کے پاس کچھ مہمان خواتین سے محو گفتگو تھے۔انہوں نے خندہ پیشانی سے سواگت کیا۔خواتین خداحافظ کہہ کر رخصت ہوئیں ۔ انہوں نے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا۔آئیے آفس میں چل کر بیٹھتے ہیں۔میں نے معذرت کی۔کہ بوجہ آسٹو پراسس میرے لئے سیڑھیاں چڑھنا قدرے مشکل ہے۔اگر ادھر لاونج میں ہی بیٹھ جائیں تو بہتر رہے گا۔وہ خوش دلی سے لاونج میں پڑے صوفے کی طرف بڑھ گئے۔
میں نے اپنی خود نوشت” بیتے ہوے کچھ دن “کے حوالے سے اور ادب سے جڑے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔اتنے میں کرن بھی آکر شریک گفتگو ہو گئیں۔
پی آر او سعید صاحب کوبھی بلوا لیا۔کہ خبر ادبیات کے پیج پر لگائیں۔قہوہ پیتے ہوے خوب مزے کی گفتگو رہی۔کتاب پیش کی تو ساجد صاحب نے ان لمحات کو کیمرے میں محفوظ کیا۔ایوان اعزاز دیکھا ہے آپ نے۔؟نہیں ابھی دیکھنا ہے۔چلیں !آئیں دیکھیں۔
جناب یوسف خشک صاحب کرن، اختر رضا سلیمی صاحب کے ہمراہ ایوان اعزاز دیکھا اور دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔یاد آیا کہ پہلے جب آئ تھی تو اکیڈمی ادبیات کی کینٹین میں مشاہیر ادب کی تصاویر دیکھ کر دل رنجیدہ سا ہوگیا تھا۔آج اس وسیع وعریض شاندار ہال میں ادبا ءوشعرا کی تصاویر جیسے مسکرا رہی تھیں۔تصویر لینے لگے۔تو علامہ اقبال کی تصویر کے پاس کھڑے ہو کر تصویر بنائی۔ایوان اعزاز میں لگی بہت خوب صورت تصاویر دیکھیں۔احساس جمال نے مسرور کیا۔خوب صورت ایوان، روشنیاں اور اہل قلم کے روشن چہرے، چمکتی آنکھوں نے دل ونگاہ کو روشن کیا۔
یوسف خشک صاحب بہت خوش خلقی سے پیش آے ۔تکبر اور بڑائی کے اس زعم سے کوسوں دور جو عموما”سرکاری اداروں کے چئرمین کا خاصہ ہوا کرتا ہے۔میں بغیر اطلاع دیئے، وقت لئے بنا آگئ تھی۔مگر پھر بھی انہوں نے اچھا خاصا وقت دیا۔
کشادہ دلی اور خوش خلقی سے پیش آے۔ہم نے ایوان اعزاز دیکھ کر اجازت چاہی۔تو پوچھا اگر آپ کل بھی ادھر ہیں تو محفل مسالمہ میں آجائیں۔میں نے کہا اگر رک گئ تو کوشش کرونگی ۔کہ آجاوں۔کرن نے بھی اصرار کیا۔کہ ضرور آئیں۔اور منقبت بھی پڑھیں۔دوسرے دن صبح اٹھی تو جانے کا ارادہ ترک کر چکی تھی۔کہ تھوڑی دیر بعد چئرمین صاحب کا پیغام آیا۔محفل مسالمہ میں شرکت کی دوبارہ دعوت دی۔محفل مسالمہ میں جناب نسیم سحر کا نام بھی شامل تھا ۔جن سے ملنا چاہ رہی تھی۔
لہذا جمعہ کی نماز پڑھ کر روانہ ہوئ۔
پہنچے تو پتہ چلا۔کہ اوپر جانا پڑے گا۔سیڑھیاں دیکھ کر ہمت مجتمع کی اور ریلنگ کے سہارے آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگے۔سوچا اف پھر اسی چھوٹے سے گرم ہال میں مشاعرہ ہوگا۔مگر سیڑھیاں چڑھ کر پتہ چلا کہ چند سیڑھیاں مزیدچڑھنی ہیں۔سو چڑھ کر نئے ہال میں داخل ہوے۔تو خوشگوار حیرت نے آلیا۔جدید آراستہ پیراستہ یخ بستہ ہال پنڈی اوراسلام آبادکے شعرا سےبھراپڑا تھا۔محترم احسان اکبر صاحب کرسی صدارات پر تشریف رکھتے تھے۔ان کے ساتھ چئرمین یوسف خشک صاحب اور جڑواں شہروں کے نامور شعرا موجود تھے ۔شاعرات بھی موجود تھیں۔ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔مشاعرہ شروع ہوچکا تھا۔داد وتحسین اورمکرر ارشاد کی صدائیں تھیں۔یہ سب دیکھ کر فیصلہ کیا کہ کچھ پڑھیں گے نہیں صرف سنیں گے۔مگر چند لمحوں بعد نظامت کرنے والے عارف فرہاد قریب آکر پوچھنے لگے آپ پڑھیں گی؟جی بے اختیار منہ سے نکل گیا۔پھر دل کو تسلی دی کہ زندگی میں پہلی منقبت لکھی۔اور بلا ارادہ محفل مسالمہ میں بلوایا گیا۔تو گویا منقبت قبول ہوگئ۔
عمدہ کلام، یخ بستہ ہال میں وقت گزرنے کاپتہ ہی نہیں چلا۔باہر آے تو سیڑھیاں اترتے ہوئے سوچا کہ چئرمین یوسف خشک صاحب نے اکیڈمی ادبیات کانقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔کاش لفٹ بھی لگوا دیتے۔بہت ہی عمدہ آڈیٹوریم، ایوان اعزاز
وغیرہ ان کی بہترین انتظامی صلاحیتوں کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔میں چونکہ پہلے آچکی تھی۔لہذا ان خوشگوار تبدیلیوں کو دیکھ کر اک گونہ مسرت اورفخر کا احساس ہوا۔اور اس ایرانی سیاح کی بات یاد آگئی۔جو اس نے سرسید احمد خان کی بنائی گئ یونیورسٹی کو دیکھ کر کہا تھا۔کہ واللہ معجزہ می نمائید کار یکہ از سلطنت برنائید چگونہ از فرد رعیت انجام شد
واللہ معجزہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ کام جو سلطنت سے نہ ہوسکا۔رعیت کے ایک فرد نے کس طرح سے انجام دیا۔
۔واقعی جب کوئی فرد واحد بھی پوری دیانت داری اور اخلاص سے کام کرتا ہے۔تو وہ کار ہاے نمایاں انجام دے جاتا ہے۔جو پوری جماعت نہیں کر سکتی۔
اکیڈمی ادبیات کے درودیوار چیرمین صاحب کے حسن انتظام اور زوق جمال کے مظہر ہیں۔انہوں نے صرف ظاہری حالت نہیں بدلی۔معنوی اور اندرونی معاملات کو بھی سنوارا اور نکھارا ہے۔
پاکستان کی پچھترویں سالگرہ پر انہوں نے” پاکستانی ادب کے75 سال “اس عنوان کے تحت ملک گیر سطح پر تمام صوبائی زبانوں کے ادب پر قابل قدر تحقیقی کام کروایا ہے۔مادری زبانوں اور لسانیات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معدوم ہوتی ہوئ زبانوں کی بقا کا بیڑا اٹھایا۔پاکستان کی 75 ویں سالگرہ پر اپنے متحرک اور فعال عملے کے ساتھ تمام صوبوں میں پروگرام رکھے۔خصوصی طور پر ان علاقوں میں جو ماضی میں نظر انداز کئے جاتے رہے۔جیسے بلوچستان اور گلگت وبلتستان جہاں انہوں نے بہترین پروگرام پیش کئے۔اس سلسلے میں ان کا پشاور میں اکیڈمی ادبیات کی نئ شاندار عمارت کا افتتاح اور خیبر پختون خواہ کے 75 سالہ ادب کا جائزہ، تحقیق، تراجم اور مادری زبانوں کی ترقی وترویج کے لئے اٹھاے گئے اقدامات اور محققین سے لکھوائ گئ کتابوں کی تقریب رونمائی نے متاثر کیا۔نظامت کے فرائض انجام دینے والے محترم ناصر علی سید،ڈاکٹر نذیر تبسم، ڈاکٹر زبیر، ڈاکٹر سلمی شاہین اور ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے کھلے دل سے ان کی مساعی اور کوششوں کی تعریف وتوصیف کی۔دل نے کہا اس تعریف کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔اک دعائیہ صدا اٹھی۔کہ کاش پاکستان کو کوئی ایسا رہنما مل جاے۔جو 75 برسوں کی رائیگانی کو کامیابی وکامرانی میں بدل دے۔اس ارض پاک پر وہ فصل گل اترے۔جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔
نوٹ اکیڈمی ادبیات گزشتہ سال 6 اگست محرم الحرام میں گئ تھی۔میری عادت ہے۔کہ میں رپور تاژ فوری طور پر لکھتی ہوں۔مگر یہ سب بروقت نہ لکھ پای۔آج جب میں یہ سب لکھ رہی ہوں تو معلوم ہوا کہ وہ اکیڈمی ادبیات اسلام کے چئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے۔تو وہ سب خیالات جنہیں سال بھر لفظوں کاپیراہن نہ دے سکی۔آج یہ سب لکھ ڈالا۔ پوری طمانیت اور ایک پرسکون احساس کے ساتھ!
کہیں پڑھا ہوا ایک جملہ زہن میں گونج رہا تھا۔کہ” ہم سب سورج مکھی کے خاندان سے ہیں “واقعی جب کسی کے اقتدار کا سورج چمک رہا ہو۔تو اکثریت اس کے رخ روشن کی قصیدہ خواں ہوتی ہے۔جانے والوں کی تعریف وتوصیف کم کم ہی سنائی دیتی ہے۔
گلگت بلتستان کے ایک شاعر نے کیا خوب خراج عقیدت پیش کیا ہے
آدمی تنہا ہے لشکر یا ہے لشکر آدمی
نصرت نسیم رسالپور

SHARE

LEAVE A REPLY