تو تو ازبر تھی اسے یاد ہے دلشاد تجھے

0
842

آئنے جا کے مجھے وہ مرا چہرا لا دے
میری آنکھوں کا وہ ہی سرمہ ، وہ کجلا لا دے

تجھ سے ہے میری گزارش کہ وہ متروک سے لفظ
وہ ادھوری سی کہانی وہ فسانہ لا دے

وہ ہی گستاخ سے پل وہ ہی محبت پہلی
ضد نہ کر جان مری ، میں نے کہا نا ، لا دے

چاند کی بڑھیا وہی اور وہ چرخہ پیارا
ماں کی لوری میں رچا پیار سنہرا لا دے

کیسے بے بات ہنسا کرتے تھے پہروں پہروں
آئنے جا کے وہ گم گشتہ سا فقرہ لا دے

اور دو پہروں میں ہم نے تھے پڑھے قصے جو
اور جہاں اشک بہے ہوں گے وہ ورقہ لا دے

تیری باتوں میں مجھے پیار کے سب باغ دکھے
بابلا پیار کا وہ ہی مجھے جھولا لا دے

بھیا کہتا تھا کہ ماں میری ہے ماں میری ہے
ماں کو رکھ لے تو مجھے ماں کا سراپا لا دے

تو تو ازبر تھی اسے یاد ہے دلشاد تجھے
ایسا آتا جو نہیں وقت تو ویسا لا دے

دلشاد نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY