بات میری دھیان میں رکھنا
اب نگہ کو اُٹھان میں رکھنا
میں بھی ہوں امتحان میں بے شک
خود کو بھی امتحان میں رکھنا
پہلے دینا مجھے اڑان کی خو
پھر مجھے آسمان میں رکھنا
پہلے اپنے ھدف کو تم سوچو
تیر کو پھر کمان میں رکھنا
عشق کا پیار سے تعلق ہے
گھر کو جیسے مکان میں رکھنا
میں تری سانس میں مقید ہوں
خود کو بھی تم گمان میں رکھنا
آؤ یہ تجربہ بھی کر دیکھیں
دل کی حدت زبان میں رکھنا
میں بھی پڑھ لوں نماز قربت کی
لفظ ایسے اذان میں رکھنا
اب کے عہد وفا کی خاطر تم
دل مرا درمیان میں رکھنا
بات جو پھیلنے کا خطرہ ہو
بات وہ مت بیان میں رکھنا
یہ محبت کا فلسفہ عفت
جان کو اپنی جان میں رکھنا
میں تو عفت علی کی ہوں لوگو
تم یہ نسبت دھیان میں رکھنا
عفت علوی













