روزے کو فاقے میں بدل دیا تھا۔نباہت علی

0
595

افطار پارٹی اپنے پورے عروج پر تھی لیکن مجھے تھوڑی دیر میں یہ احساس ہو گیا کہ زیادہ تر لوگوں کا روزہ نہیں تھا میرے زہن میں میں شدید تنائو کی لہر دوڑی اور لمحے کے کس سنویں حصے میں مجھے اپنے روزہ دار ہونے پر انتہائ فخر محسوس ہوا۔۔۔
ابھی میں ان روزہ خوروں کے بارے میں اپنے اندر سے اٹھنے والی منفی سوچ کو دبا بھی نہیں پائ تھی کہ وہ میرے پاس آکھڑی ہوئ اور کہنے لگی ڈنر پر تو آگئ ہوں لیکن روزہ نہ ہونے پر شرمندگی ہو رہی ہے میری آنکھوں کے طنزیہ سوال کے جواب میں اس نے کہا بچی چھوٹی ہے اور ساس بیمار ہیں اس کے چہرے پر وضاحت دیتے وقت شرمندگی تھی۔۔۔
میں نے اس کے چہرے سے فورآنظریں ہٹا لیں کیونکہ مجھے اسکی آ نکھوں میں اپنا رعونت بھرا چہرہ نظر آرہا تھا جس کو اپنے روزے دار ہونے پر فخر تھا لیکن اس کے چہرے کی شرمندگی نے مجھے اللہ کے سامنے شرمندہ کردیا تھا مجھے احساس ہو رہا تھا کہ میں نے دوسروں کو غلط جج کر کے اور ان کی نیت پر شک کر کے اپنے روزے کو فاقے میں بدل دیا تھا میں روزہ کھول کے بخیر ڈنر کئے گھر آگئی ہوں۔

نباہت علی

SHARE

LEAVE A REPLY