قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ معیشت کو جو بیماری لگ گئی ہے اس کا علاج نئے انتخابات ہیں۔
میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں صحافیوں سے ملاقات کی، اس موقع پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ، خرم دستگیر، خواجہ آصف، میاں جاوید لطیف اور مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں ایوان مچھلی منڈی بنا رہا، پہلے 4 دن ضائع کیے گئے، حکومتی ارکان جلتی پر تیل ڈالتے رہے، بجٹ میں ہمارا کوئی مطالبہ نہیں مانا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم میچور اپوزیشن کریں گے، فیصلہ کیا تھا کہ کل لاڈلے کو بے نقاب ہو نے دیں گے، آج ملک کاجو حال ہوا ہے وہ بے نقاب ہو چکا، یوتھ اور فاؤنڈرز کو بھی پتاچل گیا ہے۔
مسلم لیگ نون کے قائد نے کہا کہ اجتماعی استعفوں سے متعلق تجویز پہلے ایک اے پی سی میں مسترد کر دی گئی تھی، رہبر کمیٹی چیئرمین سینیٹ کا نام تجویز کرے گی، اتفاق رائے نہ ہونےپر سب قیاس آرائیاں ہیں، ابھی تو مرحلہ بھی شروع نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا لیڈر ایک ہے جس کا نام نواز شریف ہے، ان کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے وہ مشرف کی آمریت میں بھی نہیں ہوا، یہ فسطائیت کی بدترین مثال ہے، عمران نیازی کے کہنے پر نواز شریف سے اہل خانہ کی ملاقاتیں بھی نہیں ہونے دی جا رہیں، ان سے والدہ اور بہن کو بھی نہیں ملنے دیا گیا، میں نے مختلف شہروں میں ڈھائی سال جیل کاٹی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ کسی ایک نکتے پر رائے دینا جمہوریت کا حسن ہے، یہ جمہوریت ہے، فاشزم نہیں ہے، اتفاقِ رائے سے جو فیصلہ ہو اسے سب تسلیم کرتے ہیں، آپ پیپلز پارٹی سے لڑانے کی کوشش بھی کریں گے تو ہم نہیں لڑیں گے، ہمسایوں سے عزت اور برابری کی بنیادوں پر تعلقات قائم ہونا چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان 71 سالہ تاریخ کے جھوٹے ترین اور سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں، تحریک عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہے، وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد تحریک کا سوال ابھی قبل از وقت ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی کارکردگی پر میں کچھ نہیں کہوں گا عوام مشاہدہ کریں، یہ نہیں کہ مودی کی منتیں کریں اور وہ بات بھی نہ سنیں۔
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرے دور میں پولیو کا ایک واقعہ ہوتا تھا تو میں جان نہیں چھوڑتا تھا، ذمے داران کو قابل احتساب بناتا تھا، اب ملک میں درجنوں پولیو کیسز سامنے آ رہے ہیں۔













