ملک میں روپے کی قدر میں کمی، نئے ٹیکسز کا اطلاق، شرح سود میں اضافہ، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے آٹو موبائل کے شعبے کو مالی سال 19-2018 میں سیلز میں کمی کا سامنا رہا۔
اس شعبے میں چند نئے ماڈلز جن میں سوزوکی آلٹو 660 سی سی، جے اے سی اور نسان ڈی میکس پک اپ کی آمد دیکھی گئی جن کی وجہ سے آٹو سیلز میں اضافے میں کچھ مدد ملی۔
تاہم مارکیٹ کی صورتحال خراب ہونے کے باوجود ٹویوٹا کرولا، سوزوکی کلٹس اور ویگن آر کی سیلز بہتر رہی مگر یہ بہتری مجموعی صورتحال کو بہتر نہیں کر سکی جہاں آٹو سیلز مالی سال 18-2017 میں فروخت ہونے والی 2 لاکھ 16 ہزار 789 یونٹس سے 4.2 فیصد کم ہوکر رواں مالی سال219-2018 میں 2 لاکھ 7 ہزار 630 یونٹس ہوگئی۔
ٹویوٹا کرولا، سوزوکی کلٹس اور ویگن آر کی فروخت بالترتیب 56 ہزار 720، 22 ہزار 763 اور 32 ہزار 614 یونٹس رہی جو گزشہ مالی سال 51 ہزار 412، 20 ہزار 483 اور 29 ہزار 206 یونٹس تھی۔
ملک میں گاڑیوں کی فروخت میں سب سے زیادہ حصہ رکھنے والی سوزوکی مہران اور بولان کی فروخت میں بھی کمی سامنے آئی۔
پاک سوزوکی موٹر کمپنی (پی ایس ایم سی) نے مہران کے دو ماڈلز کی پروڈکش بند کردی، ایک کی نومبر 2018 میں اور دوسرے کی اپریل میں بند کی گئی جس کی وجہ سے مہران کی فروخت گزشتہ سال کے 46 ہزار 221 یونٹس کے مقابلے میں 17 ہزار 628 یونٹس ہوگئی جبکہ بولان گزشتہ سال کے 21 ہزار 738 کے مقابلے میں 17 ہزار 628 یونٹس ہوگئی۔
سوزوکی آلٹو کی پروڈکشن کا آغاز جولائی میں 1742 یونٹس کے ساتھ ہوا جبکہ اس ہی مہینے اس کی سیلز 1685 یونٹس رہی۔
ہونڈا سوک/سٹی کی فروخت میں بھی کمی سامنے آئی جو گزشتہ سال کے 42 ہزار 810 کے مقابلے میں 39 ہزار 189 یونٹس ہوگئی جبکہ سوزوکی سوئفٹ کی فروخت میں معمولی اضافہ ہوا جو گزشتہ سال کے 9 ہزار 331 یونٹس کے مقابلے میں 5 ہزار 823 یونٹس ہوئی۔
ہینو، ماسٹر اور اسوزو کی بسوں کی فروخت میں بھی گزشتہ سال کے 762 یونٹس کے مقابلے میں اضافہ سامنے آیا جو 935 یونٹس فروخت ہوئیں۔
ٹویوٹا فوچیونر اور ہونڈا بی آر وی کی فروخت میں کمی سامنے آئی جو بالترتیب گزشتہ سال کے 2 ہزار 609 اور 5 ہزار 45 کی جگہ 4 ہزار 186 اور 8 ہزار 684 یونٹس فروخت ہوئیں۔
نسان ڈی میکس کی پروڈکشن کا آغاز فروری کے مہینے میں ہوا تھا اور یہ رواں مالی سال 400 یونٹس فروخت ہوئی۔












