پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کور کمانڈر ہاؤس جنھوں نے بھی جلایا وہ جرم ہے، لیکن پرامن احتجاج جرم نہیں ہے۔

ٹویٹر سپیس پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے میری جماعت نے کور کمانڈر کا گھر جلایا۔ دو تین چیزیں اور بتائی جا رہی ہیں ہماری پارٹی نے جلائی ہیں۔ اس حملے کی بھی انکوائری نہیں ہوئی۔ جلاؤ گھیراؤ جرم ہے، ریڈیو پاکستان یا کور کمانڈر ہاؤس جنھوں نے بھی جلایا وہ جرم ہے، لیکن پرامن احتجاج جرم نہیں ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں انتشار کی کیا ضرورت ہے؟ انتشار کوئی اور چاہ رہا ہے۔ ہم تو الیکشن چاہتے ہیں۔ اگر انتشار ہو گا تو الیکشن تو نہیں ہوں گے۔ یہ منظم سازش ہوئی ہے۔ ماضی میں ایسا ہو چکا ہے ایسے واقعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مخالفوں کو ختم کیا گیا۔ سب اس لیے کیا جا رہا ہے مجھے اقتدار میں نہیں آنے دینا۔ اسی لیے گرفتاریوں کے ذریعے خوف کی فضا بنائی جا رہی ہے۔ حکومت نے ہار کے خوف سے آئین اور عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ بزنس ٹائیکون اور این سی اے میں خفیہ معاہدے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ سپریم کورٹ میں جمع ہوئے جو کابینہ کی منظوری کے بغیر پاکستان واپس نہیں آ سکتے تھے۔ القادر یونیورسٹی کے لیے بزنسمین نے زمین عطیہ کی جس پر مئی 2018ء میں ٹرسٹ نے کام شروع کر دیا۔ اسی سال دسمبر میں بزنس مین اور برطانیہ کی این سی اے کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوا کیوںکہ بزنس مین کے اکاوئنٹ فریز کیے ہوئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY