محبت بن جاو، محبت بن جاو۔ فائزہ عباس

0
1054

کبھی کبھی انسان کے بہت پاس ، بہت سے احساس بکھرے پڑے ہوتے ہیں، پر انسان انکی جانب متوجہ ہی نہیں ہوتا، کہ اگر نگاہ اٹھاییں تو ہمارے ارد گرد جیسے پھوار ہو رہی ہوتی ہے، ستارے چمک رہے ہوتے ہیں جیسے کسی نے لڑیوں میں تاروں کو پرو دیا ہو اور پھولوں نے ان پر مہک اور نرمی کا طلسم چھڑک دیا ہو، جیسے سورج نے حرارت کا تبسم بکھیرا ہو اور فضاوں نے انسووں کے موتی چن لیے ہوں، جیسے بہت اس پاس ہی سب بکھرا پڑا ہو پر چونکہ انسان کی طلب تھی، نہ شوق، نہ ہی نگاہ اٹھانے کی فرصت اور نہ ہی جستجو تو بس اس گلستان کی زندگی اسکی ہو کر بھی اسکی تھی ہی نہیں ۔ ۔ ۔انسان بھی کبھی کبھی ہاتھ کے موجود ستاروں کو اپنی بے پرواہی سے کوئلہ بنا دیتے ہیں، اور کبھی انکی روشنی کو حیات کا نور بنا لیتے ہیں، تشکیل انسان ہی دیتے ہیں، اپنے احساس کی مسکراہٹ سے، یا بے حسی کی دستک سےَ ۔ ۔ ۔

ہم سوئے ہوئے جھوٹ کو اکثر سویا رہنے دیتے ہیں، اور سوئے ہوئے سچ کو نہ تو بیدار کرتے ہیں نہ ہی اسکی آبیاری کرتے ہیں، کہ سچ کو زمین اور فضا درکار ہوتی ہے خود کی زندگی کے واسطے اس کا دم گھٹ جاتا ہے آلودگیوں کی فضاوں میں۔ ۔ ۔

احساس چاہتا تھا کہ وہ بیدار، زندہ، جاگتا، مسکراتا، پنپتا، آگے بڑھتا دکھائی دے، کہ وہ چاہتا تھا کہ زندہ رہے، وہ چاہتا تھا کہ اسکی حفاظت کی جائے، اسکو زندہ کیا جائے، اسکی بیداری ہی زندگی کی سبیل تھی ورنہ معمولی بند راستوں سے بس بند گلی تک ہی کا سفر ممکن تھا،

کہ احساس اگر زندہ ہو تو سکون قیام کرتا ہے، حسن کو راستہ ملتا ہے کہ وہ دکھائی دینے لگے، اور حسن دکھائی دے جائے تو ماحول بدل جاتے ہیں، ترجیحات کے مقام، اھداف کی اڑان، سمجھ و ایقان بدل جاتے ہیں،

بس تم بھی دیکھ لو کہ شاید تمہارے ارد گرد تمہارے احساس کے در پہ کوئی دستک دے رہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ تم حسن کو اپنے وجود میں اتارو اور سکون کے قیام کا بندوبست کرو کہ تم ایکدوسرے کے رنگ کو اسکے حسن سمیت سمجھو، جانو، مانو اور جنت بن جاو، سراپا سرور، سکون، راحت، سراپا وجود حسن بن جاو، محبت ہو جاو،
محبت بن جاو، محبت کے بند باندھ کر سب طوفانوں کا سر قلم کر جاو ۔ ۔ ۔

“احساس کی دستک سنو، وہ جاگنا چاہتا ہے، جینا چاہتا ہے، زندگی چاہتا ہے، تم اسکے میزبان بن جاو، تم اسکے قیام کے رنگ بن جاو، محبت بن جاو، محبت بن جاو۔ ۔ ۔”

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY