اصول یا مفاد، ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے تناظر میں ؟ برطانیہ کی لیبر پارٹی کا دوہرا معیار
عالمی سیاست میں اصولوں کی بات کرنا آسان ہے، مگر ان پر قائم رہنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ یہی امتحان اس وقت برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کو درپیش ہے، جس نے ایران کے معاملے میں امریکہ کا ساتھ دے کر اپنے ہی دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
لیبر پارٹی خود کو انسانی حقوق، انصاف، سچ اور مظلوم اقوام کی حامی جماعت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ انتخابی مہمات میں یہ جماعت طاقت کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینے کا عزم دہراتی ہے۔ مگر جب عالمی طاقتوں کے مفادات کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو اصول پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور ترجیحات بدل جاتی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ دہائیوں پر محیط اس تنازع میں سفارتی دباؤ، معاشی پابندیاں اور عسکری دھمکیاں شامل رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر برطانیہ کی حکومت غیرجانبدارانہ کردار ادا کرتی، مصالحت اور سفارت کاری کی راہ ہموار کرتی، تو شاید اس کے اخلاقی دعوے معتبر محسوس ہوتے۔ لیکن یکطرفہ طور پر امریکہ کی حمایت کرنا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ لندن کی خارجہ پالیسی آج بھی واشنگٹن کے سائے سے آزاد نہیں۔
یہ رویہ صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ اخلاقی ساکھ کا سوال بھی ہے۔ اگر ہر عالمی تنازع میں طاقتور کا ساتھ دینا ہی سیاسی حکمت ہے تو پھر انسانی حقوق اور انصاف کے نعرے محض سیاسی سجاوٹ رہ جاتے ہیں۔ کیا لیبر پارٹی اس حقیقت سے انکار کر سکتی ہے کہ غیر متوازن حمایت خطے میں مزید بے چینی اور عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے؟
برطانیہ کی سیاست میں لیبر پارٹی کی تاریخی شناخت سماجی انصاف اور اخلاقی جرات کے حوالے سے رہی ہے۔ مگر حالیہ مؤقف نے اس روایت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کیا یہ وہی جماعت ہے جو جنگوں کی مخالفت اور سفارت کاری کے فروغ کی داعی تھی؟ یا اب وہ بھی عالمی طاقت کی صف بندی کا حصہ بن چکی ہے؟
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں اور پراکسی تنازعات کا شکار ہے۔ کسی بھی بڑی طاقت کی جانب سے یکطرفہ مؤقف اختیار کرنا آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ ایسے میں برطانیہ سے توقع تھی کہ وہ توازن اور تدبر کا مظاہرہ کرتا۔ لیکن جو پیغام دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مفاد کی سیاست، ضمیر کی سیاست پر غالب آ چکی ہے۔
لیبر پارٹی کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ کے کس صفحے پر کھڑی ہونا چاہتی ہے۔ طاقت کے سائے میں یا اصولوں کی روشنی میں؟ کیونکہ قومیں وقتی مفادات کو بھول جاتی ہیں، مگر اخلاقی فیصلوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخِ عالم کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ افراد فانی ہیں مگر افکار باقی رہتے ہیں۔ اسی اصول کے تحت جب ہم علی خامنہ ای کے نظریے پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض ایک شخص کی سوچ نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل کا نام ہے۔ شخصیات وقت کی دھول میں چھپ جاتی ہیں، مگر ان کے پیش کردہ نظریات نسلوں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔
خامنہ ای کا نظریہ دراصل مزاحمت، خود مختاری اور استکبار کے مقابل ڈٹ جانے کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی فکر کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ کوئی بھی قوم اپنی سیاسی و ثقافتی آزادی کے بغیر حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بارہا قومی خود انحصاری، سائنسی ترقی اور داخلی استحکام کو بیرونی دباؤ پر ترجیح دینے کی بات کی۔ ان کا بیانیہ یہ رہا ہے کہ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ نظریاتی استقامت سے قائم ہوتا ہے۔
دنیا کی بڑی طاقتیں اکثر یہ سمجھتی ہیں کہ دباؤ، پابندیوں یا سیاسی تنہائی کے ذریعے کسی بھی ملک کی قیادت یا پالیسی کو بدل دیا جائے گا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی نظریے کی جڑیں عوامی شعور میں پیوست ہو جائیں تو اسے محض دباؤ سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی پہلو خامنہ ای کی فکر کو ایک فرد سے بلند کر کے ایک تحریک کی صورت دیتا ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دیگر مغربی قوتوں کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا نظریات کو اقتصادی پابندیوں سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ نظریاتی تحریکیں جبر کے نتیجے میں کمزور نہیں بلکہ بعض اوقات زیادہ مضبوط ہو جاتی ہیں۔ جب کوئی قوم یہ محسوس کرے کہ اس کی خود مختاری خطرے میں ہے تو اس کا اجتماعی شعور مزید بیدار ہو جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی نظریے کی بقا کا انحصار اس کی عملی افادیت پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی فکر معاشرتی انصاف، قومی وقار اور عوامی فلاح کے اہداف کو آگے بڑھاتی ہے تو وہ وقت کی کسوٹی پر برقرار رہتی ہے۔ خامنہ ای کے حامیوں کے نزدیک ان کا بیانیہ اسی اصول پر قائم ہے: داخلی استحکام، سائنسی خود کفالت، اور بیرونی تسلط کی نفی۔
امریکہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ عالمی سیاست میں مستقل دشمنی یا دوستی نہیں ہوتی، بلکہ مفادات ہوتے ہیں۔ اگر مکالمہ، برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار ہوں تو تصادم کی فضا کم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر پالیسی کا محور دباؤ اور بالا دستی ہو تو ردعمل بھی مزاحمت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ نظریات کو ختم کرنے کے لیے طاقت نہیں بلکہ بہتر نظریہ درکار ہوتا ہے۔
یہ کالم کسی فرد کی تقدیس یا تنقید کے لیے نہیں بلکہ اس اصول کی یاد دہانی کے لیے ہے کہ فکری دھارے سرحدوں اور نسلوں سے ماورا ہوتے ہیں۔ اگر خامنہ ای آج نہیں ہیں تو کل کوئی اور ہوگا، مگر مزاحمت، خود داری اور خود مختاری جیسے تصورات اپنی جگہ قائم رہیں گے۔ یہی وہ پہلو ہے جو کہتا ہے: انسان مرتا ہے، اس کا فلسفہ نہیں۔
عالمی طاقتوں کے لیے سبق یہی ہے کہ قوموں کے نظریات سے نمٹنے کا راستہ محاذ آرائی نہیں بلکہ مکالمہ ہے۔ کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ بندوقیں خاموش ہو جاتی ہیں، مگر فکر کی بازگشت صدیوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔













