انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ وادی کی صورتحال پر ایک مرتبہ پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ وادی میں 6 ہفتوں تک عوام کے انٹرویو کیے، عالمی ادارے نے حکومت سے فوری طورپر کرفیواٹھانے اور حراست میں لیے افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
کے ایم ایس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے تقریباً ہر شخص نے بتایا کہ انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر دھمکایا گیا ہے، لوگوں نے بتایا کہ انکے گھرمیں زبردستی گھسا جاتا ہے، املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ گھروالوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کارروائیوں پر اظہار تشویش
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ بہت سے کیسز میں گھر والوں اور وکلاء کو حراست میں لیے گئے افراد کی گرفتاری کی وجہ نہیں بتائی گئی، حراست میں لیے گئے افراد سے متعلق وکلاء اور خاندان والوں کا نہ بتانا ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ معلومات کی عدم فراہمی کی وجہ سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ حائل ہوتی ہے۔
صدر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ہمارے ادارے کی جانب سے مرتب کردہ تمام معلومات کو دستاویز کی شکل دی گئی ہے، ان دستاویزات سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ حکام نے کشمیریوں کی آواز کو دبا رکھا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے متعدد بار مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو اٹھایا جا چکا ہے، اس دوران ادارے کے سربراہ کو بھارت میں دھمکیوں سمیت مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور ادارے کے خلاف تحقیقات بھی شروع کی گئی تھیں۔












