اگر کوئی جرم کر کے بیمار ہو جائے جیل جا کر بیمار پڑ جائے تو اُسے انسانیت کے نام پر ضمانت ملنی چاہئے ۔؟ عجب تیری قدرت عجب تیرے کھیل ۔۔ کیونکہ وہ انسان ہے ۔لیکن ہمیں جو سبز باغ دکھائے تھے کہ ملک میں بڑوں کا احتساب ہوگا اور ہو رہا ہے ۔کہاں ہیں وہ دعوے ۔ہم کس پر مقدمہ کریں میڈیا پر حکومت پر سیاست دانوں پر یا اُن پر جو ہمیں ہمیشہ ہی دھوکہ دیتے ہیں ۔کہاں ہے انصاف اور کہاں ہیں منُصف ۔اگر سب کو چھوڑنا ہی تھا سالوں بعد تو کیوں ڈرامہ رچایا کرپشن کا؟ کیوں ہمیں باور کرایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو تباہ کیا ؟۔اور اگر ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈل سکتا تھا تو کیوں اتنے دنوں تک ریاستی مشنری ان سب پر اتنا پیسہ خرچ کرتی رہی ان کے آنے جانے پر انکی سیکیورٹی پر ان کے معالجے پر؟ کہ جہاں ڈاکٹروں کو اسپتالوں میں عام مریضوں کے لئے ہونا چاہئے تھا وہ سارے کے سارے ان کے لئے مُختص ہوگئے ۔دنیا میں کوئی ایک مثال بتا دیں جہاں مجرموں کو اس طرح سیاسی پروٹوکول ملے جیسا کہ میرے ملک میں ۔ دنیا کا کوئی ملک بتا دیں جہاں ہمدردیاں کرپٹ اور پیسہ کھانے والوں کے ساتھ ہوں ، کوئی ایک ملک بتا دیں جہاں کی عدلیہ سخت فیصلے نہ کرتی ہو ان کے لئے جنہوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہو۔ پھر چاہے وہ پیسے کا ہو امن و امان کا ہو یا اور کوئی حیلہ ،لیکن میرا ملک اس معاملے میں بھی مُنفرد ہے کہ جو شخص بھی نام رکھتا ہو اُس کے ساتھ ساری انسانی ہمدردیاں بروئے کار لائی جائینگی ۔لیکن امیر اور پیسے والا ہونا ضروری ہے پیسہ چاہے کرپشن سے حاصل کیا ہو یا بے ایمانی سے وہ قابلِ رحم ہے ۔وہ معافی کا حقدار ہے وہ انسان ہے ساری انسانیت کو اُس کے آگے سِر نگوں ہونا چاہئے کیونکہ وہ اتنا طاقتور ہے کہ سب اُس کے آگے ہاتھ باندھنے کو مجبور ہیں ۔کہاں ہیں انصاف کا راگ الاپنے والے ؟؟؟؟دنیا میں تو مثالین موجود ہیں کہ قبر میں موجود مردے کو بھی سزا سنائی گئی اُس کے مرنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔
ہمارے سامنے انصاف کی مثالیں موجود ہیں جہاں کرپٹ لوگوں کا ساتھ اُنکی پارٹیاں بھی نہیں دیتیں کارکن بھی نہیں دیتے اور پڑھی لکھی اشرافیہ بھی نہیں دیتی ۔عوام بھی نہیں دیتے ۔کیا ہم کبھی بدل پائینگے ۔شاید نہیں کیونکہ ہمارے ملک میں خرابی کی جڑیں اتنی پھیل چکی ہیں کہ ہم کسی نہ کسی تاویل کے پیچھے چھپ کر بچ جاتے ہیں ۔ہم دُکھی ہیں اس لئے نہیں کہ نواز کو سزا نہیں ملی بلکہ اس لئے کہ اس کے بعد بہت سے نواز بہت سے زرداری بہت سے جعلی اکاؤنٹ بنانے والے بلا کسی خوف بلا کسی جھجک کے پیدا ہوں گے ۔جہاں کوئی خوف نہ ہوگا کہ بیماری تو اللہ کی طرف سے ہے اور صحت بھی ۔ہم کیسے کسی سے یہ یقین مانگ سکتے ہیں کہ یہ شخص مر جائیگا یا ٹھیک ہو جائیگا ہم اللہ کے حضور معافی کے خواستگار ہیں ۔اللہ ہم سب ہی کو معاف فرمائے کہ ہم شرکِ خفی سے بھی بچیں آمین ہمارا علم نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ہمیں خوف ہے کہ ہماری جہالت ہمیں نہ جانے کہاں لے جائیگی ۔موت تو ایسے دبے پاؤں آتی ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔ہم نے صحت مند لوگوں کو منٹوں میں ختم ہوتے سُنا ہے چلتے پھرتے لوگ دارِفانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور لوگ سُن کر حیران ہوتے ہیں کہ ارے ابھی تو ٹھیک تھا ۔اللہ ہمیں معاف فرمائے ۔۔۔۔۔۔
آج چیف جسٹس اطہر من اللہ کی کورٹ میں سماعت کا احوال پڑھا ۔ہمیں عجیب سا خوف محسوس ہوا کہ ۔کیا کوئی کسی کی موت یا زندگی کی ضمانت لے سکتا ہے ؟؟ جو شخص اٹھارہ سال سے ایک بیماری میں مبتلا ہے اور پچھلے سالوں اقتدار میں رہا دسیوں ریلیاں سینکڑوں جلسے کئے ۔جب بھی کورٹ میں آیا یا اسپتال آیا اپنے پیروں پر چل کر آیا ۔اور اب بھی جب اُس کے وکیل کہتے ہیں کہ بس کچھ ہی وقت پاس ہے یہ ہم نہیں کہہ رہے اُن کے وکیل کہہ رہے ہیں تب بھی وہ عدالت میں اپنے پیروں چل کر آتا ہے ۔ہماری گزارش ہے کہ بجائے ان تمام باتوں کے فیصلے کریں ۔جہاں عدلیہ کمزور ہو جائے جہاں ریاست مخمسے میں ڈال دی جائے وہاں کوئی بھی کوئی چیلنج لینے کو تیار نہیں ہوتا۔ جناب ہمیں بتائیں کہ کون تیار ہوگا یہ کہنے کے لئے اُن کی جان کو خطرہ ہے یا نہیں ہے ۔ہم نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھا کہ کوئی مجرم اس طرح ھیرو بنا دیا جائے ۔ہم نہ نواز کے خلاف ہیں نہ زرداری کے ہم اُن کے عمل کے مخالف ہیں جو کچھ انہوں نے ملک کے ساتھ کیا ۔اگر نہیں کیا سب جھوٹ ہے تو پھر اتنا تماشہ کیوں لگایا ہم عوام کو یہ ذہنی ازیت کیوں دی گئی ؟جو ہم پچھلے سالوں سے بُھگت رہے ہیں ۔ملک ایک طرف ہے اور ایک سزا یافتہ شخص کا معاملہ دوسری طرف ہے ہم معزرت چاہتے ہیں لیکن ہمیں کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ معاملہ ملک کے معاملات سے بھی زیادہ اہم ہے ۔کیونکہ تجربہ یافتہ سیاست دان جنہوں نے کبھی ملک کے لئے نہیں ہمیشہ اپنے لئے اور اپنے لیڈر کے لئے سیاست کی وہ سب ایک طرف ہیں ۔اور نا تجربہ کار اور بات نہ سمجھنے والے نئے لوگ ان کے نرغے میں ہیں ۔کیونکہ حکومت بیت کمزور ہے کچھ سیٹیں ادہر اُدہر ہو جائیں تو معاملہ دھڑام سے ہو جائیگا مگر جس شخص کو ہم نے ووٹ دیا وہ تو بہت طاقتور تھا اُس کا نظریہ تو یہ تھا کہ حکومت رہے نہ رہے انصاف ہوگا ہم اُسےے تلاش کر رہے ہیں ۔نہ ڈرو نہ خوف کھاؤ اگر ٹھیک کرنا ہے تو بیلچہ چلاؤ ورنہ یہ اَمَر بیلیں تمہیں نگل لینگی ۔جو اب تک اس طرح پھیل چکی ہیں کہ نہ کردار رہے نہ اختیار سب ہی ان کے شکنجے میں پھنس گئے ہیں ۔جب تک یہ جادو ختم نہیں کروگے سزائیں نہیں دوگے کچھ نہیں کر سکتے سب دعوے سب باتیں دھری رہ جائینگی ۔اللہ نے تمہیں ہمت دی ہے سچ بولنے کی عوام کو اعتماد میں لو عوام سے پوچھو کیا کرون دیکھو کیا جواب ملتا ہے ؟؟؟
ہم کسی کے مخالف نہیں ہیں اس لئے کہ ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ملک سیدھی راہ اپنائے اس کے حاکم جواب دہ ہوں ڈریں کوئی بھی غلط کام کرنے سے لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ تقویت دے گا اُن عناصر کو جو اب بھی فعال ہیں جن کی جیت ہو رہی ہے ہر غلط کام میں ۔۔۔خدا را ملک کی طرف دیکھو صرف اپنے حقوق کی بات نہ کرو اپنی زمے داریاں بھی سمجھو اب تک حق ہی لیتے آئے ہو اب کچھ زمے داری بھی نبھاؤ ۔اگر یہ سارے معصوم ہیں تو سب کو چھوڑ دو ورنہ یہ تماشہ مت لگاؤ کہ ساری دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے کہ ہم کس طرح اپنے مجرموں سے نبٹتے ہیں ۔دور نی جاؤ صرف بنگلہ دیش ہی کو دیکھ لو ۔۔
سخت فیصلے کرو بغیر دباؤ میں آئے بغیر کسی کی طرفداری کئے عدل بہت ضروری ہے مگر خدا را تاویلیں مت لاؤ












