آزادی مارچ , فوج اور غیر جانبداری‎ , انور عباس انور

0
1108

پچھلے سال مئی یا جون میں ایک پرس کانفرنس منعقد ہوئی تھی. یہ پریس کانفرنس بڑے دھڑلے اور دھوم دھام کی تھی. اس پریس کانفرنس کرنے والے صاحب ذی وقار نے ملک کے ہر چھوٹے بڑے مسلےپر دل کھول کر اظہار خیال کیا اور قوم کی راہنمائی بھی فرمائی اور ساتھ ان مسائل کے حل بھی بتائے.
اس پریس کانفرنس میں وہ مسائل بھی زیر بحث لائے گئے جو صاحب ذی وقار کے ادارہ کے دائرہ کار میں آتے ہی نہیں تھے. پریس کانفرنس میں سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے لیکر دینی مدارس کے لیے نصاب مرتب کرنے , دینی مدارس کے طلبا کے معاشی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات بھی بتائے گئے.
پاکستانی قوم کو یہ بھی باور کرایا گیا کہ اگر 1970 میں میڈیا آزاد ہوتا تو مشرقی پاکستان ہم سے الگ نہ ہوتا. البتہ ا پریس کانفرنس میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ 1970 میں میڈیا اور پریس پر کس کا کنٹرول لائن تھا اور کس نے صحافت کو پابند کر رکھا تھا؟
جمیعت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ لے شرکاء سے خطاب کے بعد پچھلے سال کی پرئس کانفرنس اس لیے یاد آئی کہ پچھلے سال مئی جون میں پریس کانفرنس کرنے والے ” صاحب ذی وقار ” پھر خبروں کا موضوع بنے ہوئے ہیں. اس بار ” صاحب ذی وقار” نے پریس کانفرنس تو نہیں کی مگر اپنے پسندیدہ نیوز چینل اے آر وائی کے اینکر پرسن سے خصوصی بات چیت کے ذریعہ اپنے خیالات مولانا فضل الرحمان اور قوم تک پہنچائے ہیں .
اس بات چیت میں انہوں نے فرمایا ہے کہ’

فضل الرحمان سینئرسیاستدان ہیں،فضل الرحمان بتادیں وہ کس ادارےکی بات کررہےہیں,فوج ایک غیرجانبدارادارہ ہے،ہماری سپورٹ جمہوری طورپرمنتخب حکومت کیساتھ ہوتی ہے،فوج نےالیکشن میں آئینی اورقانونی ذمہ داری پوری کی،
اپوزیشن اپنےتحفظات متعلقہ اداروں میں لےکرجائیں،سڑکوں پرآ کرالزام تراشی نہیں ہونی چاہیے،ایک سال گزرگیااب بھی اپوزیشن متعلقہ اداروں میں جاسکتی ہے،پاکستان نےگزشتہ20سال میں بہت مشکل وقت گزارا ہے،پاکستانی قوم اورافواج نےدہشت گردی کامقابلہ کیا ہے,جان ومال کی قربانی دےکرملک میں امن قائم کیاگیا، بھارت نےجارحیت کی تومنہ توڑجواب دیاگیا،
ایل اوسی پربھی معصوم کشمیریوں کوشہید کیا جارہاہے،مشرقی اورمغربی سرحدپرفوج مصروف عمل ہے،مقبوضہ کشمیرمیں بھی بھارتی بربریت اورظلم جاری ہے، کےپی کےعوام نےبھی دہشت گردی کامقابلہ کیا, کےپی کےعوام کواب فلاح وبہبودکی ضرورت ہے، انتشارملک کےمفادمیں نہیں،جمہوری مسائل جمہوری طورپرہی حل ہونےچاہئیں،حکومتی اوراپوزیشن کمیٹیاں بہترکوآرڈینیشن کےساتھ چل رہی ہیں، امیدکرتےہیں معاملات بہتراندازمیں آگے چلیں، افواج پاکستان غیرجانبدارادارہ اورمنتخب جمہوری حکومت کیساتھ ہوتاہے، کوئی بھی جمہوری حکومت ہوافواج پاکستان ملکی ادارے کے طورپرسپورٹ کرتا ہے,ملکی امن کوکسی صورت نقصان پہنچانےکیاجازت نہیں دیاجائےگی،کسی کوبھی کسی صورت ملکی استحکام خراب کرنےکی اجازت نہیں دی جائے گی.’
اس عظیم الشان اور نصیحت آموز گفتگو کے بعد چاہئیے تو یہ تھا کہ مولانا فضل الرحمان خاموش رہتے , مگر ہو مولانا اور خاموش رہے یہ کیسے ممکن ہے لہذا مولانا فضل الرحمان کو ” صاحب ذی وقار ” کے جواب الجواب میں لب کشائی کرنا پڑی. مولانا فرماتے ہیں کہ ‘ حضور والا ! میری بات کا جواب کسئ سیاستدان کو دینا چاہئے تھا نہ کہ آپ حضور کو سامنے آکر اپنے بلکہ قومی ادارے کو جانبدار نہیں بنانا چاہئے ‘

نجی ٹی وی سے اپنی گفتگو میں میجر جنرل آصف غفور صاحب ذی وقار نے جن مسائل کا تذکرہ فرمایا ہے انکا برحق ہونا مسلمہ ہے. اور کوئی پاکستانی اس سےاختلاف رائے نہیں کرسکتا . اختلاف رائے رکھنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن کہا گیا ہے.
مسلہ یہ ہے کہ یہاں سرزمین پاکستان پر ہر فرد ,ہر ادارہ اپنے متعین کیے گئے دائرہ میں رہ کر اپنے فرائض سرانجام دینے پر آمادہ نہیں , ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سب کے معاملات کو اپنی نگرانی اور منشا کے مطابق چلائے مگر کوئی اور اس کے ادارے میں نہ جھانکے.
جناب ذی وقار ! آپ کا ادارہ قومی ادارہ ہے اب تک پاکستانی قوم کو اپنے اس ادارہپر بھروسہ اور اعتماد ہے اپوزیشن, حکومت اور خود ذی وقار کے رفکائے کار کو ہر وہ قبیح فعل سرانجام دینے سے باز رہنا چاہئے جو قومی ادارہ کے امیج کے لیے نققصان دہ بنتا ہو.
سرحدوں کی حفاظت آپ کے اور قوم کے مشترکہ فرائض میں شامل ہے. سرحدوں پر آپ مادر وطن کی حفاظت کریں گےجبکہ عوام آپ کی پشت پرکھڑی ہوکردشمن کوللکارے گی.
دینی مدارس ہوں یا دیگر تعلیمی درسگاہیں ہو انکے لیے نصاب مرتب کرنا سول منتخب حکومت کی وزارت تعلیم کی ذمہ داری ہے آپ کی یہ ڈیوٹی میں شامل نہیں.
جناب ذی وقار نے سیاستدانوں سمجھایا کہ وہ معاملات سڑکوں پر لانے کی بجائے متعلقہ اداروں کے دروازے پر دستک دیں , فوج غیر جانبدار ہے اور ہر منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے, جناب گزارش اتنی ہے کہ اگر غیر جانبدار ہیں تو 2014 کے ( طاہر القادری اورعمران خاں ) کے دھرنوں کے وقت منتخب جمہوری حکومت کا ساتھ کیوں نہ دیا گیا؟ ملک میں کون سا نظام چاہئے , کیسی اور کس پارٹی کی حکومت ہوگی اور انتخابات کے ذریعے اپنی مرضی کی حکومتیں منتخب کرنا اور انہیں پانچ سال بعد انتخابات کے ذریعےہی تبدیل کرنے کا حق صرف عوام کو آئین پاکستان تعویض کرتا ہے.
پاک فوج کو ان معاملات میں داخل دینے کا اختيار اور حق نہیں ہے. ان امور سے جتنا دوررہے ہمارے قومی ادارے کی توقیر میں اضافے کا باعث بن بنے گا. ان جتنا ملکی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ میں دخل انداز کی جائے گی ملک ,قوم سمیت ہم سب کے لیے اچھا نہیں . جنرل حمید گل مرحوم اعتراف کرچکے ہیں کہ آئی جے آئی انہوں نے بنوایا تھا اور اسکا مقصد بے نظیر بھٹو کی شاندار فتح کو روکنا تھا.ملکی معیشت کو سنبھالنا بھی سیاسی حکومت کا کام ہے کسی اور ادارے کو اس میں نہیں کودنا چاہئیے . پاک فوج اپنی ضروریات منتخب حکومت کو بتائے , اسے پورا کرنا اسکی ذمہ داری ہے. آپ کو متفکر ہونے کی چنداں ضرورت نہیں.
مولانا فضل الرحمان سیاستدان ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے مخاطب کون سا طبقہ ہے ,انہوں کس طبقے ,ادارے اور شخصیات سے کیا کہنا ہے لہذا ان سے پوچھنا کہ اکا تخاطب کونسا ادارہ ہے. وہ سیاسی لڑائی لڑنے نکلے ہیں انہیں آزادی سے لڑنے دیں حکومت جانے اور فضل الرحمان جانے آپ کو اس میں فکر مند نہیں ہونا چاہئیے اور نہ ہی حکومت کی طرفداری نہیں کرنی چاہئے. ماضی میں اگر ایسا کیا گیا ہے تو اس پر اظہار ندامت تو بنتا ہے.
ان سوالات کے جوابات کسی نہ کسی کو تو ایک نہ ایک دینا ہونگے.

SHARE

LEAVE A REPLY