مزاق اُڑاتے ہیں آدمی کا,عالم آرا

0
962

کل ملا تھا راہ میں مجھ کو بڑا اک حکمراں ۔۔۔۔۔تھا حکومت میں وہ بیٹھا جیسے کوئی شاہ جہاں
پوچھا میں نے بھائی میرے کوئی مسئلہ حل ہوا ۔۔۔۔۔بولا مسئلہ حل ہوا تو میں کہاں کا حکمراں
یہ اشعار ہم نے پہلی جمہوریت جب پی پی پی کے زرداری کے ہاتھ آئی تھی جب لکھے تھے ۔اس آس کے ساتھ کے آئندہ آنے والی حکومتیں ہمارے مسائل بھی حل کرینگی اور ہمیں جواب دِہ بھی ہوں گی ۔مگر وہ جو کہتے ہیں نا کہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہو کیا۔ بس ہمیں ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے کہ ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔جہاں ساری ہمدردی ساری نرمی سارا وا ویلا صرف اور صرف مجرموں کے لئے ہو وہاں معاشروں میں تبدیلی جلدی نہیں آتی ۔بلکہ شاید کسی سرد خانے میں جابیٹھتی ہے کہ جب دل چاہے گا جب نکلوں گی ۔
ملک جس مشکل حالات سے گزر رہا ہے کشمیر جس طرح پیچھے کر دیا گیا کرتار بارڈر کو جس طرح دُھندلایا گیا ۔کیا یہ سب ہمیں نظر نہیں آرہا کہ ایجنڈا کیا ہے ۔دُکھ تو یہ ہے کہ جماعتیں مزہبی ہوں سیاسی ہوں یا غیر سیاسی سب کو اپنے مفادات کی فکر ہے پاکستان کہاں جا رہا ہے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا اب تو ایک جاہل بھی سمجھنے لگا ہے کہ ایجنڈا صرف اور صرف حاکمیت ہے اور کچھ نہیں ۔اب تو وقت اس تیزی سے گزرتا ہے کہ جیسے پَر لگا کر اُڑ رہا ہو اس لئے پانچ سال انتظار کرنے ،میں ہمیں تو کوئی حرج نظر نہیں آتا لیکن جب ملک سے محبت اور اُسکی سالمیت کو ہم اپنے مفادات میں رکھ کر تولتے ہیں تو ،مفادات کا پڑلہ بھاری ہو جاتا ہے جو ہماری بدقسمتی ہی نہیں ناشکری بھی ہے ۔کیونکہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنایا گیا ایک الگ شناخت چاہئے تھی ۔جس میں اللہ نے مدد فرمائی اور ہمیں آزادی نصیب فرمائی اُن قوتوں سے جو آج بھی اپنی نفرت کا کھلا اظہار کر رہی ہیں ۔ لیکن ہم بڑی بد قسمت قوم ہیں جنہیں کبھی بھی باشعور لوگ نصیب نہیں ہوئے جو ہیں وہ اپنی عزت کو یا پھر اپنی عافیت کو خاموش تماشائی بن گئے ہیں ۔کیونکہ ہم نے ملک کو اوپر لے جانے یا اُسے طاقتور بنانے کی جد و جہد نہیں کی بلکہ ہمیشہ خود کو بنانے اور اپنے خاندان کو طاقتور کرنے کی تگ و دِو کی جس نے ہمیں یہاں لا کھڑا کیا کہ ہم صرف مفاد پرست بن گئے ۔نہ شعور رہا نہ آگہی بلکہ ایک ایسا مجمع ہو گیا جو جس کی چھڑی کے پیچھے چاہے چلنے کو تیار ہو جاتا ہیے بغیر یہ سوچے کہ یہ راستہ کدہر کو جاتا ہے ۔جس طرح پچھلے حکمرانوں نے اپنئ لئے ایک مجمع تیار کیا اسی طرح سیاسی اور غیر سیاسی طاقتوں نے بھی اپنے مجمع تیار کئے جنہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں بس یہ پتہ ہوتا ہے کہ اُن کے سربراہ نے کیا کہا ہے ۔ان سب کا جمع ہونا لازمی تھا کیونکہ ان سب کے مفادات پر کاری ضرب پڑ رہی ہے ۔سب کا حساب ہوگا نتیجہ نکلے نہ نکلے ۔
دور جانے کی ضرورت نہیں ابھی ایک مارچ ہو رہا ہے جس کے شرکاء کو کچھ پتہ نہیں سوائے اس کے کہ انہیں یہاں بیٹھنا ہے جب تک امیر کہے ۔چاہے نعرہ لگائیں گو نواز گو ۔انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کس مسئلے کے حل کے لئے نکلے ہیں انہیں صرف اتنا پتہ ہے کہ فضل نے کہا ہے کہ اسلام آباد چلو ۔آزادی حاصل کرنی ہے کس سے ؟ کیوں؟ اور کیسے یہ سب انہیں خبر نہیں ۔۔۔۔۔،ہم کہاں جا رہے ہیں ۔فضل بھی یو ٹرن پر یو ٹرن لے رہے ہیں لیکن مانتے نہیں ۔
جہاں ہمدردیاں مجرموں کے ساتھ ہوں ،جہاں ساری انسانیت مجرموں پر ختم ہو ۔جہاں ساری سہولتیں مجرموں کو دیئ جائیں ۔جہاں اُن لوگوں کے کرپشن دکھانے والے خود اُن کے حق میں بات کریں وہاں کس سے مدد چاہیں کسے سچا مانیں ۔اور کس کا یقین کریں یہ بات ہماری سمجھ میں ابھی تک نہیں آئی ۔جب کبھی تھوڑی سی آس بندھتی ہے کہ شاید اب کچھ ٹھیک ہو جائیگا کوئی نہ کوئی مشکل سب کچھ سمیٹ دیتی ہے اور ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ اب کدہر دیکھیں ۔
جب تک عدل ،انصاف اور قانون کی بالا دستی نہیں ہوگی یہ دُکھ ختم نہیں ہون گے وہ قومیں کبھی نہیں بنتیں جو سزا نہیں دیتیں جو اپنے مجرموں سے ہمدردی کرتی ہیں جن کا غلو سامنے نظر آتا ہے لیکن وہ بہ ضد رہتی ہیں کہ نہیں ہم سےے بڑا مُنصف کوئی نہیں ۔
ہم نے ہمیشہ کہا ہمیں کسی سے کوئی پَرخاش نہیں سب ہمارے ہیں ۔ لیکن جب جرم کریں جب ملک کو نقصان پہنچائیں تو پھر ہمیں اُں سے کوئی ہمدردی نہیں کیونکہ ملک ہے تو ہم ہیں۔ آزاد ہیں جہاں چاہیں جائیں جس مسجد میں چاہیں نماز پڑھیں ،جس فرقے سے چاہے تعلق رکھیں ۔کوئی نہیں روکتا ۔لیکن اقتدار کے بھوکے ہمیں چین سے نہیں رہنے دیتے ۔
ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ڈگر چل پڑی تو کیا فضل کی حکومت چل سکے گی کیا دوسرے ہی دن کوئی دھرنا نہیں دے دے گا پندرہ ہزار لوگ لاکر ۔ایک مُفتی کہتے ہیں ہمیں حکومت دے دو ہم سب کچھ سال بھر میں ٹھیک کر دیں گے ہماری سمجھ میں نہ آیا ہم سر کھجا کر رہ گئے جو دوسروں کو چلنے نہیں دے رہے انہیں کون حکومت کرنے دے گا سال بھر ؟؟؟
ایس لگتا ہے کہ چند مسخرے نکل پڑے ہیں معزرت کے ساتھ کیونکہ ہمیں کسی کی بات میں کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی فضل اپنا فلسفہ بگھار رہے ہیں کبھی لہرون کا زکر کرتے ہیں کبھی طوفانوں کا لیکن کس ایجنڈے پر ہیں یہ ابھی تک نہیں کھلا ۔ہمیں دُکھ ہے کہ ہم اپنا اتنا قیمتی وقت ان شعبدے بازیوں میں گزار دیتے ہیں اس دھرنے سے ملک کی تقدیر کتنی بدلے گی یہ دیکھنا ہے ۔کیونکہ اُن کے حامی بھی کنٹینر پر موجود ہیں اُن میں اینکرز بھی ہیں اور پِٹی ہوئی پارٹیوں کے لوگ بھی ،لیکن ہمیں صرف ایک حیرت ہے کہ کس طرح یہ ریوڑ ہنکایا جارہا ہے جسے یہ بھی پتہ نہیں کہ و ہ یہاں تک کیوں آئے ہیں ؟؟؟؟
مریم پھر آزاد ہیں اب ملک ترقی کرے گا کرپشن کا نام بھی مِٹ جائیگا اور جعلی اکاؤنٹ بھی نیست و نابود ہو جائیں گے کیونکہ یہ کوئی سزا دینے کی بات تھوڑی ہوتی ہے یہ تو حُسن ہے جمہوریت کا یہ تو خوبصورتی ہے ہمارے قانون کی ۔یہ تو طاقت ہے ہماری سوچ کی ،یہ تو انسانیت ہے جو دنیا کو دکھانی ہے ۔یہ تو فلاح اور بہبود ہےعوام کی کہ کوئی بھی سزا نہ پائے اور اگر پائے بھی تو ہمدردی تو لازمی ہے ۔ کسے مبارکباد دیں یہ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ۔بس ایک بات ذہن میں آتی ہے اگر کچھ کیا نہیں تھا تو پکڑا کیوں ؟اگر پکڑا تھا تو سزا کیوں دی؟ اور اگر جرم تھا تو چھوڑا کیوں ؟؟؟ یہ اتنے سارے کیوں ہمیں بہت تکلیف دیتے ہیں لیکن ان سے ہماری جان نہیں چھوٹتی ۔
اللہ میرے ملک پر رحم فرمائے اور اسے محفوظ رکھے ہر شر اور ہر فساد سے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY