امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز

0
663

واخذے کی کارروائی کے آغاز پر بیان دیتے ہوئے یوکرین میں امریکی سفیر بل ٹیلر نے صدر ٹرمپ کی یوکرین کے صدر سے ٹیلی فون ملاقات سے متعلق مزید انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کے عملے کو بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ یوکرین کے بجائے جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔

بل ٹیلر نے کہا کہ 25 جولائی کو یوکرین کے نو منتخب صدر ولادی میر زیلینسکی سے فون پر بات کرنے کے ایک روز بعد صدر ٹرمپ نے یورپین یونین کیلئے امریکہ کے سفیر گورڈن سونڈلینڈ کو فون کیا تھا۔

بل ٹیلر نے بتایا کہ ان کے عملے کا ایک رکن یوکرین کے دارالحکومت کئیو میں سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ملاقاتوں میں سفیر سونڈلینڈ کے ہمراہ موجود تھا اور اس نے ٹیلی فون گفتگو کے دوران سفیر سونڈلینڈ کو صدر ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ یوکرین کے لیڈر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات میں تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اس نئے انکشاف پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سفیر بل ٹیلر کا بیان محض مفروضوں اور افواہوں پر مبنی ہے‘‘۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری سٹیفنی گریشم نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ جعلی سماعت نا صرف بورنگ ہے، بلکہ یہ ٹیکس دینے والوں کے وقت اور ٹیکس کا ضیاع بھی ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مصروفیت کے باعث مواخذے کی سماعت نہیں دیکھ سکے۔ انہوں نے کہا، ’’نہیں، میں نے نہیں دیکھی۔ میں اس قدر مصروف ہوں کہ میں یہ نہیں دیکھ سکتا۔ یہ بالکل جعلی ہے۔ تاہم، بعد میں مجھے رپورٹ مل جائے گی۔ ‘‘

آج بدھ کے روز دو کلیدی اہلکار اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں جن میں یوکرین میں امریکہ کے سابق سفیر ولیم ٹیلر اور سابق ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری آف سٹیٹ جارج کینٹ شامل ہیں۔

کارروائی کے آغاز پر ایوان نمایندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ڈیموکریٹک پارٹی کے ایڈم شیف نے سوال پیش کیا آیا صدر ٹرمپ نے اپنے منصب کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی مفاد کی خاطر یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب نہایت اہم ہے اور یہ نہ صرف موجودہ امریکی صدر کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرے گا بلکہ اس بات کا تعین بھی کرے گا کہ امریکی صدر سے، جو امریکہ کے ’کمانڈر ان چیف‘ بھی ہیں، کس قسم کے کردار کی توقع کی جا سکتی ہے۔

پینل میں شامل رپبلکن پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار کیلی فورنیا سے ایوان نمایندگان کے رکن ڈیوڈ نونس نے ایوان میں اکثریت رکھنے والی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی پر الزام عائد کیا کہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں روسی ساز باز کے امکان سے متعلق تحقیقات میں ناکامی کے بعد اس نے مواخذے کی تحقیقات کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈیموکریٹک ارکان کی طرف سے لائے جانے والے الزامات پر کڑی نظر رکھنا ہو گی کیونکہ اس کے تحقیقات کار بند کمروں میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے معاملے کو امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کا ذیلی حصہ قرار دیا۔

مواخذے کی تحقیقات سے متعلق کارروائی ایوان نمائندگان سے براہ راست نشر کی جا رہی ہے۔

خود صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں اس کارروائی کو ’وچ ہنٹ‘ قرار دیا ہے۔

اس تحقیقات کا مرکز صدر ٹرمپ کی طرف سے 25 جولائی کو یوکرین کے نئے منتخب صدر ولادی میر زیلینسکی کو کی جانے والی فون کال ہے جس میں انہوں نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کے سابق نائب صدر اور آئیندہ صدارتی انتخاب میں ان کے متوقع کلیدی حریف جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے یوکرین میں کاروباری معاملات میں ممکنہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کریں جس کے بدلے انہوں نے یوکرین کیلئے 40 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد بحال کرنے کی پیشکش کی تھی۔

فون کال کے بعد ایک اہم مخبر نے اس فون کال کا راز فاش کر دیا تھا جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے اس ٹیلی فون بات چیت کا ایک ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا تھا۔ تاہم، اس کے بعض حصوں کو حذف کر دیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY