خواتین کا عالمی دن عظیم محنتی خاتون جنت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نام
(نہایت دل سے لکھا مضمون میری پیاری خواتین کے نام)
آج خواتین کا عالمی دن لندن پورے برطانیہ میں کیسا گزارا گیا نہیں معلوم! مگر علاقے کے تمام جم ایک مقصد کے تحت مصروف عمل پچھلے ایک ہفتے سے تھے رونق عروج پر تھی خواتین بڑھ چڑھ کر مگن تھیں دھن تھی کہ کیسے بریسٹ کینسر سے لڑنے والی خواتین کیلئے کچھ کیا جائے! بہت بڑے جم کے تمام حصے بک ہوچکے تھے مین ہال، ڈوجو ہال، سائکلنگ سٹوڈیو ، ڈانس سٹوڈیو ،یوگا سٹوڈیو اور بیڈمنٹن کے کوچنگ سینٹر خواتین کی کثیر تعداد سے بھرے پڑے تھے جن خواتین نے بکنگ کرالی تھی وہ تو نہال تھیں کہ شکر ہے دو پاؤں رکھنے جتنی جگہ تو ملی کیونکہ نیک جذبہ موجزن تھا کہ کیسے کینسر زدہ خواتین کی مدد کریں چاہے تل دھرنے کی جگہ تک میسر ہو اسکے لئے ایک اشتہار بنایا گیا کلاسز کے نام اور تفصیل جس میں درج سے علاوہ کسرت کا مقصد بھی اُجاگر کیا گیا وہ اشتہار کی تصویر ہم اپنے کامنٹ سیکشن میں دیں گے۔
خیر جم میں مختلف قسم کی نہایت محنت آمیز کسرت کی شروعات ہوئی اور یہ سب مختلف کسرات دیکھتے ہوئے ہمارے ذہن پر مخدومہء کونین سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا چھائی رہیں، خواتین کینسر کی مریض خواتین کے لئیے کچھ کرنے کو کوشاں رہیں اور ہم سوچ رہے تھے کہ جنت کی سردار اپنی پوری زندگی جہدوجہد میں گزار کے ہمیں رہتی دنیا تک کا سبق دے گئیں ۔
یورپ کی نیک مقصد کے تحت زندگی گزارنے والی خواتین ہماری آئیڈیل ، ہمارے لئیے مشعل راہ ، ہماری زندگی کو نیک مقصد دینے والی اور ہماری تمام خواتین کو زندگی کا بہترین درس دینے والی کی حیات طیبہ دیکھ لیں تو اپنی کسرت، محنت اور سخت سے سخت حالات کو کچھ نا سمجھیں! کہ وہ چکی پیستیں،پانی کا مشکیزہ بھرتیں ، کھانا پکاتیں، صفائی کرتیں ، غرض شہزادئ کون ومکاں تمام دنیا کی مسائل میں اور امراض میں مبتلا خواتین کیلئے بہترین نمونہء زندگی پیش کرگئیں!
تو آج خواتین کا عالمی دن جب بھی منایا جاتا ہے تو ہمارا عالمی دن خاتون جنت فاطمہ زہرا کے نام ہوتا ہے پورے معاشرے کی بقا کیلئے خواتین لازمی ہیں تو تو فاطمہ زہرا کی زندگی کی مثال ہر بہن بیٹی ، بیوی اور ماں کے روپ میں آنے والی قیامت تک کی خواتین کیلئے ہے، آپ نے جو نقوش ہر عورت کیلئے مرتب کردیئے وہ عدیم المثال ہیں ، سیدہ سلام اللہ کی زندگی کا ہر پہلو سبق اور مشعلِ راہ ہے ہمارے لئے ، مگر افسوس کہ ہم مسلم خواتین نے منبع و رشد وہدایت سے زندگی کو منور کرنا چھوڑ دیا مگر یورپ کی عورت آج بھی محنت کا جذبہ موجزن رکھتی ہیں ، سچائی اور صاف گوئی سے زندگی گزارتی ہیں ، دوسروں سے ہمدردی کے جذبات رکھتی ہیں اور مختلف گھناؤنی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کیلئے درد دل رکھتی ہیں اور انکے لئے کچھ نا کچھ کرنا ہوتو اس مقصد کو پورا کرنے کو جت جاتی ہیں ۔
ہمارے یہاں خواتین کے عالمی دن شوشا اور شیخیوں کی نذر ہو جاتے ہیں صرف انداز دیکھے جاتے ہیں اور ولگر نعروں سے فیمنزم کا پرچار کیا جاتا ہے صحت و حقوق کے تحفظ کی بات بہت کم ہوتی ہے ۔ صرف نعرے ہی خواتین کے عالمی دن کی پہچان بن گئے ہیں ، کتنی فلاحی تنظیموں نے ہسپتالوں میں جاکر بیمار خواتین کی عیادت اور دلجوئی کی ہوگی؟
یورپ کی خواتین کینسر کے امراض میں مبتلا لوگوں کیلئے درد دل رکھتی ہیں ، ایک ٹاسک انھیں مل جائے کہ خواتین کا عالمی دن کینسر زدہ خواتین کے نام کرکے کچھ پیسے جمع کرکے ڈونیٹ کرنے ہیں تو وہ اس مقصد کو پورا کرنے میں تمام مشاغل کو بالائے طاق رکھ کر مگن ہوجاتی ہیں ۔
ہماری تمام مسلم خواتین آج کا دن سیدہ فاطمہ زہرا کے نام کرکے عالمی دن منائیں تو ہمارے مقصد حیات کو تقویت نصیب ہوگی ۔













