پاکستان کے ایک معروف خطیب علامہ ایک دفعہ آغہ مصطفی شاہ کے امام بارگاہ میں مجلس پڑھنے آئے تھے ۔ کوئی پینتیس چالیس سال پہلے کی بات ہے ۔ ایک کمرہ آغہ کے امام باڑے کے باہر میدانی مین ہوا کرتا تھ ا ۔ علامہ صاحب کے ساتھ ان کے سیکٹری بھی کراچی سے آئے تھے ۔ مغربین کے فورآ” بعد مجلس کا ٹائم تھا ۔
سید کلیم عباس شیرازی نے مولوی صاحب اور ان کے سیکڑی کو پاک ہوٹل شعبہ بازار مین ٹھہرایا تھا ۔کلیم صاحب مجلس سے گھنٹہ دو پہلے ہی مولوی کو لیکر امام باڑے آگئے اور اس میدانی والے کمرے میں بٹھایا ۔ اسی کمرے میں اٹیچڈ باتھ بھی مولویوں یا مہمانوں کے لئے بنوایا گیا تھا ۔ مین بھی والد کے ساتھ اس دن گیا ہوا تھا ۔ اس دن مرحوم نزیر کربلائی ۔ فاروقی صاحب ۔ برکت علی میر ۔ چاچا عاشق ۔ لالہ غلام حسین کلیم شیرازی اور دو تین دوسرے افراد بھی اس وقت وہاں موجود تھے ۔ علمی و دینی گفتگو ہورہی تھی ۔ بات بات پہ یہ حضرات مولوی صاحب کو قبلہ قبلہ کہہ کر مخاطب کر رہے تھے ۔ مغرب کی اذان سے پہلے مولوی صاحب باتھ روم میں فریش ہونے کے لئے گئے تو اچانک اذان ہوگئی ۔ ان کا سیکٹری کمرے میں آیا اس نے نماز پڑھنا تھی۔ انھوں نے وہین موجود ایک بندے سے پوچھا قبلہ کس طرف ہے ۔ ۔۔۔۔۔
وہ صاحب زیادہ اردو نہیں بول سکتے تھے ۔ لہذا انھوں نے ہندکو زبان میں ہی جواب دیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ ٹٹی اچ ای ۔۔۔۔۔












