دست صبا کی اشاعت
٭22 / دسمبر1952ء کو اردو کے ایک بڑے شاعر فیض احمد فیض کے شعری مجموعے ’’دست صبا‘‘ کے تعارف کے لیے ایک پریس کانفرنس لاہور کے مال روڈ کے ایک ریسٹورنٹ ارجنٹینا میں منعقد ہوئی۔
فیض احمد فیض ان دنوں راولپنڈی سازش کیس کے سلسلے میں پس دیوار زنداں تھے اور وہ طرز فغاں ایجاد کررہے تھے جو بعد میں پورے گلشن کی طرز بیاں ٹھہری۔
فیض احمد فیض کی اسیری کے باعث ہی‘ ان کے احباب کو ان کے مجموعہ کلام کے تعارف کے لیے اس نوع کی تقریب منعقد کرنے کا خیال آیا تھا۔ اس پریس کانفرنس میں کچھ اخبار نویسوں‘ دانشوروں اور فیض کے احباب کو مدعو کرکے فیض کی کتاب دست صبا کی اشاعت کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس پریس کانفرنس کو تقریب رونمائی ‘ تقریب پذیرائی یا افتتاحی تقریب کا نام اس لیے نہیں دیا گیا تھا کہ اس وقت تک اس نوع کی کسی تقریب کا تصور بھی ذہن میں نہ تھا اور ’’دست صبا‘‘ کے تعارف کے لیے منعقد ہونے والی یہ پریس کانفرنس اپنی نوعیت کی بالکل پہلی تقریب تھی۔
دست صبا کایہ پہلا ایڈیشن دو ہزار کی تعداد میں چھپا تھا۔ اس کا سرورق ملک کے نامور مصور جناب عبدالرحمن چغتائی نے بنایا تھا اور اسے جناب عبدالرئوف ملک نے قومی دارالاشاعت لاہور کے اہتمام میں شائع کیا تھا۔
————————————————————————————————————
قدیر غوری کی وفات
٭22 / دسمبر 2008ء کو پاکستان کے مشہور فلمی ہدایت کار قدیر غوری وفات پاگئے۔
قدیر غوری 4 / مئی 1924ء کو گجرات میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے استاد فیاض خان سے موسیقی اور منشی دل سے ہدایت کاری کی تربیت حاصل کی۔ 1955ء میں انہوں نے فلم بھوانی جنکشن میں امریکی ہدایت کار جارج ککر کے فرشت اسسٹنٹ کے طور پر کام کیا۔ فلم کی تکمیل کے بعد جارج ککر نے ان کی بے حد تعریف کی۔
قدیر غوری نے بطور ہدایت کار جو فلمیں بنائی تھیں ان میں ناجی، غالب، دو راستے، موسیقار، دامن، جان آرزو، ناجو، مہمان، سوہنے پھل پیار دے، غیرت تے قنون، انسان، دنیا گول ہے، نیکی بدی اور گلیاں دے غنڈے کے نام شامل ہیں۔ انہیں فلم دامن میں بہترین ہدایت کار کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا تھا۔ انہوں نے فلم میکنگ کے نام سے مووی فلم تکنیک پر ایک رہنما کتاب بھی تحریر کی تھی۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں
وقار زیدی کراچی












