ہاں پاکستان میں انسان ہونا جُرم ہے،اظہر الحق نسیم،اشاعت مکرر

0
1062

Published on: 6 Dec 2019

ڈاکٹر نگہت نسیم  نے کالم لکھا “کیا پاکستان میں شعیہ ہونا جُرم ہے“ ، میں چونکہ کہ سُنی مسلمان ہوں (نام کا ہی سہی) اور اتفاق سے پاکستان میں ہی رہتا ہوں (مجبوری ہے ) اور میرے دوستوں میں شعیہ سُنی ، مسلم نان مسلم ، ن لیگ کے پٹواری ، پی ٹی آئی کے یوتھیے اور پپلے اور پلپلے سب شامل ہیں ، اسی لیے ہر کوئی مجھے پاکستان ہی سمجھتا ہے ، تو مجھے عجیب سا لگا کہ یہ کیا بات ہے کہ پاکستان میں شعیہ ہونا جُرم ہے ، میرے خیال میں تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ، پاکستان میں ہونا جُرم ہے ، کیونکہ جیسا کہ باجی نے ایک صاحب کا بتایا ہے کہ انہیں وی سی لگانے پر عوام بپھر گئی ہے کہ یہ ہمارے مسلک کا نہیں ہے ، اور پھر باجی نے پوچھا ہے ، کہ کیا تعلیم بھی سُنی یا شعیہ ہوتی ہے ، جی پاکستان میں ہوتی ہے ، پاکستان میں ایک نیا آریہ دور آ چکا ہے ، ہم چار بڑے طبقات میں تقسیم ہیں
۔ حاکم
۔ تاجر
۔ مولوی
۔ عوام
جی وہ برہمن ، کھشتری ، ملیچھ وغیرہ جو ہوتے تھے نا ، ہم اب وہ ہی ہیں ، کیا کہا ، ہم بتوں کو نہیں پوجتے ، ہا ہا ہا ، کسی مسلمان سے پوچھیں (بشرط یہ کہ وہ آپ کے مسلک کا ہو) وہ بتائے گا کہ ہم کون کون سے بُت کی پوجا کرتے ہیں ، لکشمی دیوی کے لیے تو ہم دل و جان لٹانے کے لیے تیار ہیں ، ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ نبیﷺ علم کا شہر ہیں اور حضرت علی دروازہ ہیں ، مگر ہم تو وڈے مسلمان ہیں نا ، ہم چھلانگ مار کہ علم کے شہر میں داخل ہونا چاہتے ہیں کہ دروازے سے جائیں گے تو ہمیں کسی اور مسلک کا سمجھا جائے گا ، اور ہمیں جب یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت ابوبکر کیسے حاکم تھے ، تو ایک مسلک والے یہ نام لینا ہی گناہ سمجھتے ہیں اور انکا بس نہیں چلتا کہ علی کی اولاد میں اس نام والوں کو تاریخ سے ہی مٹا دیں
جی ہاں ہم علم دشمن ہیں ، ابھی ہم میں ابوجہل گیا نہیں بلکہ اب ابو جہل کو ہماری قوم نے ابو بنا لیا ہے ، ہم تقسیم در تقسیم در تقسیم ہو رہے ہیں اور جو لوگ اکھٹا کرنا چاہتے ہیں وہ پاکستان میں نہیں رہتے
کیونکہ پاکستان رہنے کے قابل کہاں رہا ہے ۔ ۔ ۔ سب پاکستان چھوڑ دو کی تحریک کا حصہ ہیں ، چاہے وہ مولوی ہے یا اداکار ۔ ۔ ۔
اصل وجہ یہ ہے کہ اس ریوڑ کو سب نے کُھلا چھوڑ رکھا ہے ۔ ۔ اس لیے ایک ریڑھی والے سے لیکر ملک کے حاکم تک ، سب مذہبی طور پر ’’باعمل’ اور مالی طور پر ’’قارون‘‘ اور اخلاقی طور ’’فرعون‘‘ بن چکے ہیں ۔ ۔۔
مجھے وہ بندہ بہت بُرا لگتا ہے جو اپنے انداز سے نماز پڑھتا ہے (چاہے میں نے برسوں سے مسجد کی شکل نہ دیکھی ہو) اور شعیہ کیا ، یہاں تو پیدا ہونا ہی جُرم ہے ، چار سال کی بچی کی عزت لوٹ لی جاتی ہے ، نام علی ہونے پر قتل کر دیا جاتا ہے ، قرآن ہی جلا دیا جاتا ہے جس میں میری مرضی کا ترجمہ نہیں ہے ۔ ۔۔
میں تو کسی مسجد میں جانے سے پہلے اُس کا مسلک ضرور پوچھتا ہوں کہ کہیں میرا “دھرم“ بھرشٹ نہ ہو جائے ، اور اصل بات یہ ہے کہ ڈر لگتا ہے ، کہ کہیں دوسرے مسلک کی مسجد میں کوئی میرا مسلمان “بھائی“ میرے ہاتھ باندھنے یا چھوڑنے پر مجھے “شہادت“ کے رُتبے پر فائز نہ کر دے ، مگر یہ سب کچھ مذہب پر نہیں ہے ، زندگی کے ہر مرحلے پر مجھے یہ سوچنا پڑتا ہے ، کہ میرے حلقہ احباب میں کہیں کوئی کسی اور مذہب کا تو نہیں شامل ہو گیا ، کہیں میں نے غلطی سے دیوالی یا کرسمس پر مبارک تو نہیں دی کسی کو ، اللہ کو تو بعد میں جواب دینا ہو گا، مجھے میرے ہموطنوں کو جواب دینا ہو گا ، کوئی بھارتی دوست اگر مجھے وش کر دے تو میں وطن فروش بن جاوں گا ، کوئی اگر مجھے پیار بھرا شعر بھیجھے تو میں تو گیا کام سے ، اور پھر مجھے ہوس کا پجاری کہا جائے گا اور جنسی درندہ بھی بنا دیا جائے گا کہ میرے ملک میں جنسی درندے اتنے بھوکے ہیں کہ وہ چار مہینے کی بچی کو بھی کھا جاتے ہیں ، اُس وقت یہ نہیں سوچتے کہ وہ شعیہ ہے سُنی ہے مسلم ہے کہ نہیں بلکہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ بچی ہے یا بچہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کیا کہوں ۔۔ کہ مجھے اگر بھوک لگے تو میں غلطی سے بھی ایسے ریستوران میں نہ جا گھسوں ، جہاں میری حثیت مجھے ذلیل کرا دے ، میرا قوم لباس مجھے ذلت کے عزیم مرتبے پر فائز نہ کردے ، مجھے ڈر لگتا ہے ، کسی راستے کے پتھر کو ہٹانے سے ، کہ وہ کسی بے بس مجبور نے گاڑیاں لوٹنے کے لیے نہ رکھا ہو ، میں بھیڑیا ٹاون جاتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ میرے ہم وطن میرے غریب ہونے پر مجھے فُٹ بال نہ بنا لیں

جی ہاں باجی ، یہاں شعیہ ہونا ہی جُرم نہیں بلکہ انسان ہونا ہی جُرم ہے ۔ ۔ ۔ یہاں سے جتنی جلدی جو نکل جائے وہ ہی ٹھیک ہو سکتا ہے یا پھر سیاہ ست دان بن جائے ۔ ۔ ۔ کتوں کی لڑائی کا ایک کُتا بن جائے
یا پھر جبہ امامہ یا پاجامہ پہن کر مولوی ملا یا پیر بن جائے ۔ ۔ بس وہ چین میں ہیں باقی رہے مجھے جیسے ’’کمی کمین‘‘ جو نہ ملک سے جا سکتے ہیں اور نہ خودکُشتی (جی خود کُشی نہیں ) کر سکتے ہیں ۔ ۔ وہ آپ جیسے لوگوں کو دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں ۔ ۔ کہ چلو کوئی تو ہے جو بول سکتا ہے ، لکھ سکتا ہے ۔ ۔ سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ پاکستان میں نہیں ہے ، اور اُسے پاکستانیوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے

میں جس دیس میں رہتا ہوں
کچھ کہنے سے تو ڈرتا ہوں
مجھے جینے کہاں دیتے ہیں
میں تو روز ہی مرجاتا ہوں

اظہر الحق نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY