صدر ٹرمپ کے خلاف ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی قراردادیں منظور

0
601

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے لیے دو الزامات پر قراردادیں منظور کر لی ہیں۔ اس طرح وہ مواخذے کی کارروائی کا باضابطہ سامنا کرنے والے ملک کے تیسرے صدر بن گئے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ذاتی مفادات کے لیے طاقت کے بے جا استعمال اور اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کا سامنا ہے جس پر بدھ کو ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ ہوئی۔

ایوان نمائندگان ڈیموکریٹس ارکان کی اکثریت پر مشتمل ہے، جہاں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے دو الزامات پر شق وار ووٹنگ ہوئی۔

اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق آرٹیکل ایک پر ایوانِ نمائندگان میں 230 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا جب کہ 197 نے اس کی مخالفت کی۔ تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق آرٹیکل دو کو 198 کے مقابلے میں 229 ووٹوں سے منظوری دی گئی۔

اس طرح صدر ٹرمپ امریکی تاریخ کے 243 برسوں میں تیسرے صدر بن گئے ہیں، جن کے خلاف باضابطہ طور پر مواخذے کی کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔

امریکہ کی تاریخ میں بل کلنٹن اور ایںڈریو جانسن ایسے صدور گزرے ہیں جن کا ہاؤس نے مواخذہ کیا ہے۔ صدر بل کلنٹن کو 1998 میں جھوٹی گواہی دینے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے پر مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ صدر جانسن کا 1868 میں مواخذہ کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ مواخذے کے لیے پیش کیے گئے الزامات کو اب تک مضحکہ خیز قرار دیتے رہے ہیں اور اب اُنہیں امریکی سینیٹ میں جنوری میں ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خیال یہی ظاہر کیا جارہا ہے کہ ریپبلکن اکثریت والی سینیٹ اُنہیں مواخذے کے الزامات سے بری الذمہ قرار دے گی، اور یہ فیصلہ ووٹروں پر چھوڑا جائے گا کہ وہ آئندہ نومبر کے صدارتی انتخاب میں صدر ٹرمپ کو دوسری مدت کے لیے منتخب کرتے ہیں یا نہیں۔ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے حق میں قراردودوں کی منظوری کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مطمئن ہیں کہ سینیٹ صدر ٹرمپ پر عائد الزامات سے اُنہیں برے کر دے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اسٹیفنی گریشم کا بیان میں مزید کہنا ہے کہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے کوئی ثبوت فراہم کیے بغیر صدر ٹرمپ کے خلاف غیرقانونی دفعات منظور کیں اور اُنہیں اس عمل میں ریپبلکن کا ایک ووٹ بھی نہ مل سکا۔

ترجمان نے ایوان نمائندگان کی کارروائی کو ملکی تاریخ کا شرمناک سیاسی کھیل قرار دیا۔امریکی ایوانِ نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کی قراردادوں پر چھ گھنٹے تک بحث کے بعد رائے شماری کی گئی۔

ڈیمو کریٹک قانون سازوں نے صدر ٹرمپ کی ‘امپیچمنٹ’ یعنی مواخذے کا مقدمہ مرحلہ وار ایوان کے ری پبلکن اراکین کے سامنے پیش کیا، جن کا اصرار تھا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین پر اپنے دو ہزار بیس کے صدارتی ڈیمو کریٹک حریف اور سابق نائب صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات پر اصرار کر کے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

یاد رہے کہ جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن یوکرین میں قدرتی گیس کی ایک بڑی کمپنی میں اہم عہدے پر کام کررہے تھے۔

ڈیموکریٹ ارکان نے یہ تاثر بھی غلط ثابت کیا کہ یوکرین نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کو نقصان پہنچانے کے لیے مداخلت کی تھی۔

اجلاس رکوانے کی کوشش
ایوانِ نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کے آغاز کے وقت ہاؤس اسپیکر نینسی پیلوسی نے ڈیموکریٹ ارکان سے کہا تھا کہ ڈیموکریٹس کے پاس ارکان کی اتنی تعداد موجود ہے کہ وہ ٹرمپ کا مواخذہ کر سکتے ہیں۔

رائے دہی کے موقع پر اپنے ساتھیوں کو بھیجے گئے مراسلے میں پیلوسی نے کہا کہ ’’ہماری تاریخ کے اس انتہائی اہم مرحلے پر ہمیں اپنے عہد کی پاسداری کرتے ہوئے تمام غیر ملکی اور داخلی دشمنوں سے آئین کی حرمت کا دفاع کرنا ہے۔‘‘

اجلاس کے شروع ہوتے ہی ریپبلیکن پارٹی کے ارکان نے اجلاس کی کارروائی رکوانے کی کوشش کی۔
ایریزونا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن اینڈی بگز نے کہا کہ ’’ہمیں مواخذے میں وقت ضائع کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ میں تحریک پیش کرتا ہوں کہ ایوان کا اجلاس ملتوی کیا جائے۔ وہ ایوان نمائندگان میں ’فریڈم کاکس‘ کے چیئرمین ہیں۔

انہوں نے ‘رول کال’ کا مطالبہ کیا، جو اجلاس کی جاری کارروائی کے دوران ضابطے کی کئی باریکیوں کی نشاندہی کرنے کا ایک تاخیری حربہ ہے۔ رول کال کا مطالبہ پارٹی کے ارکان کی حاضری ظاہر کر کے مسترد کیا گیا۔

اس کے بعد ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹک کمیٹی کے قائدین کے خلاف ایک مذمتی تحریک پیش کرتے ہوئے اس پر رائے دہی کا مطالبہ کیا۔

اس کا مقصد سماعت کی کارروائی کے دوران ڈیموکریٹ ارکان کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنانا تھا جس کے نتیجے میں بدھ کو ووٹنگ کرائی گئی۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کی صبح ایک ٹوئٹ میں مواخذے کی کارروائی پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور لکھا تھا کہ بائیں بازو کے باغی ڈیمو کریٹس کے ایسے بھیانک جھوٹ امریکہ اور ریپبلکن پارٹی پر حملہ کرنے کے مترادف ہیں۔صدر ٹرمپ نے بدھ کو ریاست مشی گن میں ایک انتخابی ریلی میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے ایک روز قبل اسپیکر پیلوسی کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں اپنے خلاف ‘قابلِ ملامت مہم جوئی’ کی مذمت کی تھی۔ لیکن ساتھ ہی یہ تسلیم کیا تھا کہ برآمد ہونے والے نتیجے کو روکنے کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ “وقت آئے گا جب لوگ اس معاملے پر غور کریں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ معاملے کی نزاکت کا احساس کیا جائے اور اس سے سبق سیکھا جائے تاکہ کوئی دوسرا صدر کبھی اس صورتِ حال سے دو چار نہ ہو۔”

………………………

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے لیے امریکی ایوان نمائندگان میں بدھ کے روز اجلاس کا آغاز ہو گیا۔ صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور کانگریس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ ان الزامات پر رائے دہی کے عمل کے نتیجے میں صدر کے عہدہ صدارت پر ایک دھبہ لگ جائے گا۔

اسپیکر نینسی پیلوسی نے ڈیموکریٹ ارکان سے کہا ہے کہ وہ ایوان کے چیمبر میں اکٹھے ہوں۔ بقول ان کے، ’’ہمیں آئین نے اتنے اختیارات دیے ہیں جن کے استعمال سے آئین کی حرمت کے تقاضے پورے کیے جا سکیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کے پاس ارکان کی اتنی تعداد موجود ہے جن کی مدد سے وہ ٹرمپ کا مواخذہ کر سکتے ہیں؛ اور یوں، وہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے والے امریکہ کے تیسرے صدر بن جائیں گے۔

رائے دہی کے موقع پر اپنے ساتھیوں کو بھیجے گئے مراسلے میں پیلوسی نے کہا ہے کہ ’’ہماری تاریخ کے اس انتہائی اہم مرحلے پر ہمیں اپنے عہد کی پاسداری کرتے ہوئے تمام غیر ملکی اور داخلی دشمنوں سے دستور کی حرمت کا دفاع کرنا ہے‘‘۔

اجلاس کے شروع ہوتے ہی ریپبلیکن پارٹی کے ارکان نے اجلاس کی کارروائی رکوانے کی کوشش کی۔

ایریزونا سے تعلق رکھنے والے ریپبلیکن رکن اینڈی بگز نے کہا کہ ’’ہمیں مواخذے میں وقت ضائع کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ میں تحریک پیش کرتا ہوں کہ ایوان کا اجلاس ملتوی کیا جائے۔ وہ ایوان نمائندگان میں ’فریڈم کاکس‘ کے چیئرمین ہیں۔

انھوں نے ’رول کال‘ کا مطالبہ کیا، جو اجلاس کی جاری کارروائی کے دوران ضابطے کی کئی باریکیوں کی نشاندہی کرنے کا ایک تاخیری حربہ ہے۔ رول کال کا مطالبہ پارٹی کے ارکان کی حاضری ظاہر کر کے مسترد کیا گیا۔

اس کے بعد ریپبلیکن ارکان نے ڈیموکریٹک کمیٹی کے قائدین کے خلاف ایک مذمتی تحریک پیش کرتے ہوئے اس پر رائے دہی کا مطالبہ کیا۔ اس کا مقصد سماعت کی کارروائی کے دوران ڈیموکریٹ ارکان کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنانا تھا جس کے نتیجے میں بدھ کو ووٹنگ کرائی گئی۔

…………………………

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے جوڈیشری کمیٹی سے منظور ہونے والے دو الزامات پر ایوانِ نمائندگان میں آج ووٹنگ کا امکان ہے۔ تاہم اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اسپیکر نینسی پیلوسی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں اپنے خلاف ‘بغاوت کی کوشش’ اور اس کے سنگین نتائج کا تذکرہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ یہ خط منگل کو ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کو اس وقت لکھا جب پیلوسی نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے لیے ایوانِ نمائندگان میں بدھ کو ووٹنگ ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خط میں نینسی پیلوسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ “تاریخ آپ کا سخت محاسبہ کرے گی۔”

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مواخذے کی مہم کے باوجود ان کے ووٹروں کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔

صدر ٹرمپ پر اختیارات کے غلط استعمال اور کانگریس کی تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہیں۔

ایوان نمائندگان میں بدھ کو انہی الزامات کی بنیاد پر صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے لیے رائے شماری متوقع ہے۔ اس مرحلے کے بعد مواخذے کی کارروائی سینیٹ تک جائے گی۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تیسرے امریکی صدر ہیں جنہیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔

صدر ٹرمپ کا چھ صفحات پر مشتمل خط الزامات پر مبنی ہے جس میں انہوں نے نینسی پیلوسی اور ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کو مخاطب کیا ہے۔

انہوں نے یوکرین کے صدر کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو کو ’’یقینی طور پر بہترین‘‘ اور مواخذے کی انکوائری کو غیر ضروری قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے آئندہ انتخاب میں اپنے ممکنہ حریف جو بائیڈن کے خلاف یوکرین کی تحقیقات کی کوشش کو درست قرار دیا ہے۔ اُن پر الزام ہے کہ انہوں نے اس تحقیقات کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالا اور اس مقصد سے اس کی فوجی امداد کچھ وقت کے لیے روکی۔

انہوں نے کہا کہ ’’آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ذاتی اغراض اور سیاسی فائدے کے لیے ہماری جمہوریہ کو اذیت اور پریشانی میں ڈالا۔‘‘

صدر نے ڈیموکریٹس پر الزام لگایا کہ وہ ‘ٹرمپ ڈرینجمنٹ سنڈروم’ کا شکار ہیں اور ابھی تک 2016ء کے انتخابات کی شکست کے اثرات سے باہر نہیں نکل پائے۔

اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے انپوں نے کہا کہ “مواخذے کی انکوائری چڑیلوں کی ڈراؤنی داستان کے سوا کچھ نہیں۔”

بعدازاں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا مقدمے کی کارروائی کی ذمے داری ان پر عائد نہیں ہوتی تو انہوں نے کہا کہ “نہیں، میں ایسا نہیں سمجھتا۔ سادہ الفاظ میں معاملہ صفر کے سوا اور کچھ نہیں۔”

صدر کے خط پر فوری طور پر نینسی پیلوسی کی جانب سے کوئی ردِعمل نہیں آیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY