سابق صدر آصف علی زرداری تقریباً 5 برس بعد رات گئے دبئی کے لیے روانہ ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری رات گئے نجی طیارے سے دبئی کے لیے روانہ ہوئے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ آصف علی زرداری اسلام آباد سے دبئی کے لیے روانہ ہوئے۔
چند روز قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 200 سے زائد افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دی تھی جس میں آصف علی زرداری کا نام بھی شامل تھا۔
یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے دسمبر 2018 میں سابق صدر آصف علی زرداری سمیت 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے تھے۔
……………………………
23 Dec 2016
سابق صدر آصف علی زرداری تقریباً ڈیڑھ سالہ خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے کے بعد جمعہ 23 دسمبر کو دبئی سے کراچی پہنچ رہے ہیں۔
پاکستاب پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر آصف علی زرداری کی کراچی آمد کے موقع پر ان کا پرتپاک استقبال کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سابق صدر زرداری نے 17 جون 2015 کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک تقریر کے دوران بظاہر اسٹیبلشمنٹ کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہمیں پریشان نہ کیا جائے، ورنہ اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی’۔
اس بیان کے ایک ہفتے کے اندر ہی نامعلوم وجوہات کی بنا پر سابق صدر ملک چھوڑ گئے تھے، وہ 25 جون سے دبئی میں مقیم ہیں۔
بلاول ہاؤس میں موجود ذرائع نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ آصف علی زرداری جمعے کی نماز کے بعد دوپہر ڈھائی سے ساڑھے تین بجے کے درمیان کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کرسکتے ہیں۔
آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے اس بات کی تصدیق کی کہ آصف علی زرداری جمعے کو کراچی پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی کراچی آمد کے سلسلے میں پارٹی کی جانب سے بھرپور استقبال کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جبکہ سیکیورٹی انتظامات کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
نثار کھوڑو نے بتایا کہ سابق صدر جمعے کی دوپہر دبئی سے کراچی ایئرپورٹ کے اولڈ جناح ٹرمینل پہنچیں گے جہاں اولڈ ٹرمینل کے باہر ایک جلسہ ہوگا۔
نثار کھوڑو کے مطابق جلسے کے لیے انتظامیہ نے پیپلز پارٹی کو اجازت دے دی ہے جبکہ آصف علی زرداری جلسے سے خطاب بھی کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ جلسے سے خطاب کے بعد آصف علی زرداری بلاول ہاؤس روانہ ہوجائیں گے۔
یہ رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ سابق صدر کو ایئرپورٹ سے بلاول ہاؤس ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچایا جائے گا تاہم بلاول ہاؤس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا فیصلہ خود آصف زرداری کریں گے کہ آیا وہ بذریعہ سڑک جانا چاہتے ہیں یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے۔
نثار کھوڑو کے مطابق پیپلز پارٹی کے کارکنان ریلیوں کی صورت میں دوپہر ایک بجے کراچی ایئرپورٹ پہنچے گے جہاں پر کارکن اور پارٹی رہنما آصف علی زرداری کا بھرپور استقبال کرینگے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق صدر کی آمد کے موقع پر کراچی ائیر پورٹ کے باہر اور شہر کے مختلف مقامات پر پارٹی کی جانب سے استقبالیہ کیمپس بھی لگائے گئے ہیں۔
نثار کھوڑو نے بتایا کہ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیئے ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل روٹس کا انتظام کیاگیا ہے، پارکنگ کا بھی بندوبست کیا گیا ہے جبکہ ایک ہزار رضاکار بھی فرائض انجام دینگے۔
انہوں نے بتایا کہ جلسہ گاہ سے ائیرپورٹ اورشاہراہ فیصل تک سیکیورٹی کے انتظامات کو بھی حتمی شکل دی گئی ہے، جلسے کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے سی سی ٹی وی کے ذریعے بھی مانیٹرنگ کی جائیگی۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ جو لوگ سابق صدر آصف علی زرداری کے ملک واپس نہ آنے پر تنقید کرتے تھے اب آصف زرداری کی واپسی ان تنقید کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ثابت ہوگی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے 4 مطالبات نے ن لیگ کو بوکھلاہٹ کا شکار بنا دیاہے، وقت کا تقاضہ ہے کے تمام سیاسی قوتیں اکٹھے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر تحریک چلائے گی، سی پیک تو شروع کیا گیا مگر ترقی صرف پنجاب کی ہو رہی ہے۔
علاوہ ازیں بلاول ہاؤس کے ترجمان اعجاز درانی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری چند روز بعد بے نظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کے لیے لاڑکانہ روانہ ہوجائیں گے۔












