پاکستان نے امریکا اور بھارت کے مابین مذاکرات کے بعد واشنگٹن میں جاری مشترکہ بیان میں پاکستان سے متعلق حوالوں کی شدید مذمت کی اور ان دعوؤں کو مسترد کردیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ‘مشترکہ پریس کے دوران بھارتی وزیر دفاع اور خارجہ امور کے پاکستان سے متعلق دعوے قابل مذمت ہیں اور ہم یکطرفہ اور مخصوص نوعیت کے مشترکہ بیان کی مخالفت کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے نئی دہلی کے زیر تسلط کشمیر میں انسانیت سوز اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

وزارت خارجہ نے 5 اگست 2019 کے بھارتی فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات قرار دیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق ‘سنگین صورتحال کا ادراک نہ کرنا بین الاقوامی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے’۔

دفتر خارجہ کے مطابق ‘عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں، قربانیوں اور کامیابیوں کو تسلیم کرتی ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا خیال ہے کہ مقبوضہ وادی میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور نئی دہلی سے پاکستان کو لاحق خطرات علاقائی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا اور بھارت کے مشترکہ بیان سے متعلق پاکستان نے اپنے خدشات سفارتی چینلز کے ذریعہ واشنگٹن کو پہنچا دیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY