جمعرات ۱۹؍ دسمبر ۲۰۱۹ کو دہلی میں مظاہرے کے دوران سینکڑوں مظاہرین کی گرفتاری کی خبر ملتے ہی دہلی اقلیتی کمیشن نے فوری تعمیل کے لئے دہلی پولیس کمشنر کو آرڈر جاری کیا کہ تمام گرفتار شدہ مظاہرین کو فوری طور سے چھوڑ دیا جائے اِلا آنکہ وہ تشدد میں ملوث رہے ہوں ۔کمیشن نے یہ آرڈر یہ اطلاع ملنے پر جاری کیا کہ سماج کی اہم شخصیات مثلا ہرش مندر، پرشانت بھوشن، ڈاکٹر جان دیال اور سندیپ دکشت جیسے لوگوں کو گرفتار کرکے دوسرے پر امن مظاہرین کے ساتھ دور دراز علاقوں میں لے جایا گیا ہے۔ اپنے مذکورہ آرڈر میں کمیشن نے دہلی پولیس کمشنر کو کہا کہ ”دہلی پولیس یا انتظامیہ کو یہ اختیار قطعا نہیں ہے کہ لوگوں کو پر امن احتجاج سے روکے جبکہ وہ حکومت کے ایک ایسے اقدام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس کو ملک کے کروڑوں لوگ غیر قانونی اور غیر آئینی سمجھتے ہیں“۔ اس آرڈر کے جاری ہونے کے بعد چند گھنٹوں کے اندر تمام مظاہرین کو بغیر کسی اور کارروائی کے چھوڑ دیا گیا۔
دہلی اقلیتی کمیشن نے اسی کے ساتھ دہلی کے لفٹننٹ گورنر کو خط لکھ کر کہا کہ ۱۵؍دسمبر سے دہلی میں پولیس مظاہرین پر حملے کر رہی ہے جو کہ ”لوگوں کے پرامن مظاہرے کرنے کے حق پر حملہ ہے جبکہ ایسے مظاہرے کرنا عوام کا جمہوری اور شہری حق ہے جس کو ہمارے آئین کی سند حاصل ہے۔۔۔۔ پولیس اور سیکیوریٹی فورسز کا کام اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی مظاہرہ پر تشدد ہوجاتا ہے“۔
دہلی اقلیتی کمیشن نے اپنے خط میں دہلی پولیس کے آئینی سربراہ ہونے کے ناطے لفٹننٹ گورنر سے درخواست کی کہ وہ پولیس کمشنر اور دوسرے افسران کو آرڈر جاری کریں کہ ”وہ لوگوں کو پرامن مظاہرہ اور احتجاج کرنے دیں اور اسی وقت تدخل کریں جب کوئی مظاہرہ پر تشدد ہوجائے













