بعض دفعہ ہمیں آسان سے سوالوں کے جواب دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ دکھنے میں آسان لگتے ہیں لیکن انکے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے جو آج جانتے ہیں۔
جب بھی ہم شناختی کارڈ ،پاسپورٹ، ویزا، یا دیگر اہم دستاویزات کے لیے تصاویر بنواتے ہیں تو ہم تصویر میں مسکراتے نہیں ہیں۔
شناختی کارڈ ،پاسپورٹ یا ویزا کی تصویر بنواتے ہوئے ہمیں اپنا منہ بند کرنا ہوتا ہے اس کی وجہ بائیو میٹرک اسکینرز ہیں جو 2005 میں شروع کیے گئے تھے۔
اسکینرز صرف اس صورت میں کسی شخص کے چہرے کو پہچان سکتے ہیں جب یہ نارمل حالت میں رہے۔
کسی ملک کا پاسپورٹ نارنجی یا جامنی رنگ میں نہیں دکھائی دے گا کیونکہ کوئی بھی ملک اپنے پاسپورٹ کے لیے چمکدار رنگ منتخب کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ یہ سرکاری معاملات کی ترجمانی نہیں کرسکتے۔
زیادہ تر ممالک میں ٹیکسی اور اسکول بس پیلے رنگ کی ہوتی ہے کیونکہ پیلا رنگ دوسرے رنگوں کی نسبت زیادہ جلدی لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ویسے تو ٹینس بال کے کئی رنگ تبدیل کیے گئے ہیں لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ابتداء میں یہ سفید اور کالے رنگ میں ہوتی تھی-
ان رنگوں کا مسئلہ یہ تھا کہ ٹی وی پر میچ کے دوران اس رنگ کی بال نمایاں انداز میں ناظرین پر ظاہر نہیں ہوتی تھی جس کے بعد کھیلوں کی کمیونٹی کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ہمیشہ ٹینس بال پیلے رنگ کی استعمال کی جائے گی۔
اگر آپ رات میں صحیح سے نہیں سوتے اور مسلسل محنت کرتے رہتے ہیں تو آپ کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق تھکن اور نیند کی کمی ہماری آنکھوں کے گرد خون کی گردش کو سست روی کا شکار بنا دیتی ہے جس کی وجہ سے حلقے ظاہر ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔
کین میں سوڈا ڈرنک کا ذائقہ پلاسٹک کی بوتلوں کی بانسبت مختلف ہوتا ہے جبکہ کمپنی دونوں پیکنگ میں ایک جیسا ہی ڈرنک فروخت کرتی ہے۔
لوگوں کا خیال ہے کہ ڈبے میں بند سوڈا کا ذائقہ قدرے ہلکا ہوتا ہے، کین میں ایلومینیم میں ایک پولیمر استر ہوتا ہے جو کچھ ذائقوں کو جذب کر سکتا ہے اور دوسری جانب بوتل کی شکل کی صورت میں، ذائقہ مختلف ہوتا ہے کیونکہ پلاسٹک کیمیکل acetaldehyde ہے جو ذائقہ کو بھی بدل دیتا ہے۔












