خیال ، تلاش ، جستجو کیسا مصروفِ سفر رکھتے ہیں ؟ اس سفر میں خاک سے روح تک کا سفر طے کرنا ہوتا ہے ۔۔ان کیفیات کی تسلی کے لئے کوئی سائنس کے میدان کا شاہسوار بن جاتا ہے کوئی الٰہیات کے غاروں کو تلاش کرتا ہے کوئی شاعری سے جنت گم گشتہ کو حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے کوئی مجسمہ سازی سے فکر کے پیکر تراشتا ہے ،کوئی سات سروں سے معرفت کو کشید کرتا ہے ۔اس راہ میں مضطرب رہنے ہی سے قرار ملتا ہے ۔۔
خود فراموشی کے طویل سفر کے بعد وہ مقام حیرت آتا ہے کہ ہر طرف ذات کی بھول بھلیوں سے گزر کر پھر اپنے آپ کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جسم کی تقاضے سراب بن کر تشنگی کو بڑھاتے رہتے ہیں اور روح سیراب ہوئے بغیر ساقی گری کی تمنا کرنے لگتی ہے ۔تم کو پا لینا میری ضرورت میری طلب ہے مگر تمہارے وصال سے طلب کے ختم ہونے کا خدشہ بھی ہے اسی لئے ہجر کے لامتناہی صحرا کو اختیار کر لیا ہے دنیا ظاہری چمک دھمک سے مزین ہے مگر دل کی دنیا سادہ مزاجی سے سجی ہے
۔۔
دین ، شریعت ،مسلک کیسے قیمتی لفظ ہوا کرتے تھے اسی لئے یہ چیزیں خریدی نہیں جاتی تھیں بس عطا ہوتی تھیں توفیق الہی میں ان کا شمار ہوتا تھااور ایسا خوش نصیب انسان قابل قدر ہو جاتا تھاپھرعشق لمحہ لمحہ جرعہ جرعہ زندگی عطا کرتا تھا وہ گئے دنوں کی باتیں تھیں مگر اب تو فراوانی سے منصف بھی فتوے فروخت کرنے لگے ہیں سوال کرنے والا گستاخ قرار دیا جا چکا ہے خرد دوستی وبال جان بن چکی ہے ۔
سزائے موت بریکنگ نیوز ہو چکی ہے آزاد فکری کا سکہ رائج الوقت مذہب بیزاری میں ڈھل چکا ہے، شادی سماجی پابندی کی قبیح رسم بن چکی ہے اب حجلہ عروسی میں دلہن کی حنائی مہک استقبال نہیں کرتی بلکہ معاہدے کی تیز خوشبو ساری لطافت کو چھین لیتی ہے ہر طرف حقوق حقوق کی صدائیں مگر فرض اور ذمہ داری اندھی ، گونگی ، بہری ہوچکی ہے ۔شاید منیر وا کو یہاں سے کوچ کرنا پڑے کیونکہ اس کی ذہانت اس کی سوتن بن چکی ہے ۔۔۔
تسنیم عابدی













