توہمات , سورج گرہن کے دوران جراثیم آتے ہیں

0
1023

سورج گرہن فلکیاتی اعتبار سے گردش اجرام فلکی کے گردش کے دوران رونما ہونے والا معمول کا واقعہ جبکہ مذہبی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی اہم نشانیوں میں سے ایک ہے۔

تاہم اس سے کئی توہمات بھی وابستہ ہیں، جس میں ایک یہ بھی ہے کہ سورج گرہن اقتدار منتقل ہونے سمیت عالمی سیاست میں بڑی تبدیلیاں لاسکتا ہے۔

کچھ افراد گرہن کے دوران ریت میں دبنے کو بیماری سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیںـــتصویر ڈان نیوز
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ 1999 میں سورج کو لگنے والے مکمل گرہن کے بعد 2 ماہ کے عرصے میں ہی اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

اس کے علاوہ اس کے علاوہ دیگر عقائد میں خوف کے خیالات شامل ہیں، قدیم چین میں لوگ سورج گرہن کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جگہ جمع ہو کر زور سے چیختے تھے، ان کا ماننا تھا کہ ایک بڑا سانپ چاند کھارہا ہے جسے شور کے ذریعے ڈرا کر روکنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ کچھ کا ماننا ہے کہ سورج گرہن کے دوران حاملہ خواتین کو کوئی کام نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی باہر نکلنا چاہیئے اس کے ساتھ تیز دھار والی اشیا سے دور رہنا چاہیے۔

ان توہمات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج گرہن کے دوران جراثیم آتے ہیں لہذا کھانے پینے کی تمام اشیا کو ڈھک کر یا فریج میں رکھا جاتا ہے۔

سورج گرہن کے دوران چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہےـــــتصویر: ڈان نیوز ٹی وی
ایسے مواقع پر کچھ ممالک میں عام تعطیل کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔

اسی طرح 20 سال کے طویل عرصے بعد پاکستان میں نظر آنے والے سورج گرہن کے موقع پر لوگوں کی جانب سے عجیب و غریب افعال دیکھنے میں آئے اور کراچی کے ساحل پر انہوں نے اپنے ذہنی بیمار بچوں کو اس طرح ریت میں دبایا کہ صرف سر باہر رہا۔

ان افراد کا ماننا ہے کہ اس طرح کرنے سے بچوں کی بیماری دور ہوجائے تاہم سائنسی یا مذہبی اعتبار سے اس دعوے کی حقیقت ثابت نہیں۔

اس حوالے سے معروف مذہبی عالم مفتی منیب نے قرآنی آیات اور واقعات کا حوالہ دے کر بتایا کہ ‘1400 سال قبل عرب میں بھی یہ عقیدہ تھا کہ گرہن کا تعلق کسی بڑی شخصیت کی موت و حیات سے ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کےمطابق سورج گرہن یا چاند گرہن کا تعلق کسی کی موت یا زندگی سے نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ کے تشکیل کردہ نظام کے مظاہر ہیں’۔

مفتی منیب کا کہنا تھا کہ اس طرح کے توہمات مثلاً سورج گرہن کے طبعی اثرات حاملہ خواتین یا دیگر افراد پر مرتب ہوتے ہیں یہ غلط ہیں اور دین میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمان والوں کو اس قسم کے توہمات پر یقین کرنے کے بجائے خود احتسابی اور آخرت کی فکر کرنی چاہیے اس کے علاوہ نماز کسوف کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY