کنٹرول لائن کے دونوں جانب تجارت کے فروغ اور منقسم خاندان کو آپس میں ملنے کےلیےمزید ٹرانسپورٹ روٹ کھولے جائیں گے اور سرحد کے دونوں جانب مقیم عوام کو سہولیات دیں گے تاکہ صدیوں سے پائے جانے والی دوریوں سمیت سیاحت اور تجارت کو بھی تقویت ملے اور اس حوالے سے بارڈر کے دونوں جانب سرنگوں کی صفائی کا کام جاری ہے۔2005میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا یہ اعلان نہ صرف میرے زہن میں موجود ہے بلکہ اس وقت کے ہفتہ روزہ سیاچن گلگت بلتستان کےشہ سرخی بھی اب تک مجھ سمیت دیگر اخبار سے دوستی رکھنے والے قارئیں کے پاس محفوظ ہوں گے۔اس سے قبل حریت کانفرنس کے ایک وفد کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں کے دورہ پر آئے وفد کی قیادت حریت رہنما عباس انصاری کر رہے تھے۔کراچی کے ناظم آباد نمبر سات میں واقع مسجد نور ایمان میں اس وفد سے ہماری تفصلیی ملاقات ہوئی ملاقات میں اسحاق جلال، قاسم شگری، اور دیگر صحافت سے وابستہ دوست شامل تھے حریت کانفرنس کے رہنما عباس انصاری نے مقبوضہ کشمیر کی اسوقت کے صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی اور کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہونے کا ثبوت دیا ان کے لبوں پر پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے دعا کے ساتھ نیک خواہشات تھی۔
پاکستان سے والہانہ محبت ہندوستان سے نفرت ان کی آنکھوں اور لبوں سے عیاں تھے۔ہر بات پر یہ کہنا کہ پاکستان سے نہ صرف ہم محبت رکھتے ہیں بلکہ بہارتی ظلم وستم سے بےزار ہر کشمیری بچے، بوڑھے، جوان اور عورتیں اس وطن سے عقیدت اور محبت رکھتے ہیں ہر کشمیری کی یہ خواہش ہے کہ وہ پاکستان میں آئے پاکستان کے بہن، بھائیوں سے ملے اور ہندوستان کی چنگل سے آزادی حاصل کرکے اس ملک کا حصہ بنے۔ ان کی باتیں سنکر بہارتی قابضین کی ظلم وستم پر اقوام عالم اوراقوام متحدہ کی خاموشی پر سوالیہ انداز میں سوچنے پر مجبور ہوا مگر سوچنے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوسکا کیونکہ اقوام متحدہ کی خاموش تماشائی کا جواب سمجھ سے بالا تر رہا۔۔
حریت کانفرنس کے رہنما عباس انصاری سے ملاقات کے دو دن بعد کراچی کے ایک مشہور ہوٹل میں حریت رہنماء میر واعظ عمر فاروق سے ملاقات ہوئی (میر واعظ عمر فاروق کسی مصروفیات کی بناءپر عباس انصاری ودیگر کے ہمراہ نور ایمان نہیں پہنچ سکے تھے)ان سے سرحد کے دونوں اطراف کے صورت حال پر گفتگو ہوئی کشمیر کے بہن بھائیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم وستم کی روداد ایک بار پھر عمر فاروق کی زبان سے سننے کو ملا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اور دل ہی دل میں بھارتی سرکار اور ان کے ظالم وجابر فوجیوں کو برا بلا کہنے کے سواء کچھ چارہ نہ تھا ۔میر واعظ کی باتیں بھی عباس انصاری کی باتوں سے سوفیصد مل رہے تھے ان کے دکھ درد ایک تھے اور ان کے دل کے ہر گوشے میں بھی پاکستان بستا تھا۔گلگت بلتستان کا سنکر ان کے آنکھوں سے آنسو چھلکے اور کہا ہم یک جان دوقالب ہے ہماری ثقافت، ہمارا رہن سہن اور بودوباش ایک ہے۔
ماضی میں سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے آپس میں ایک فیملی کی طرح رہتے تھے حالانکہ ایک فیملی ہی تھی ۔مگر پارٹیشن کے بعد منقسم ہوگئے کوئی مان سے بچھڑ گے تو کوئی بیوی سے،کوئی باب سے جدا ہوئے تو کوئی بھائی سے،ظالم حدود بندی نے برسوں کیلے ایک دوسرے کو دور کر دئیے۔عمر فاروق سے تفصیلی نشست کا وقت ختم ہونے کو تھا مگر دل نہیں کر رہا تھا کہ انکی میٹھی اور محبت بھری باتوں کو چھوڑ کر نشست برخاست کردوں لیکن وفد نے کسی اور سے بھی ملنا تھا نہ چاہتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا کر زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی والے جملے زبان پر لاتے ہوئے ان سے گزارش کی واپس کشمیر پہنچ کر بھارتی سرکار سے ملاقات ہوئی تو ان سے مطالبہ کرنا کہ بلتستان میں بسنے والے منقسم خاندان کو آپس میں ملنے کے لیےکوئی اقدامات اٹھائی جائے تاکہ وہ آپس میں مل سکیں۔یہ سننا ہی تھا میر واعظ عمر فاروق نے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ یہ مطالبہ میں ضرور کروں گا ۔
عمر فاروق کی ان باتوں نے زہن میں سکردو میں مقیم مھاجریں چھولونگکھا اور مہاجریں 47،48آیا جو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ہم لٹ گئے، برباد ہوئے، ہم اپنوں سے دور ہوئے، بچھڑ گئے،نصف خاندان بلتستان میں آباد ہوئے تو نصف ترتک، تکشی، چھولونگ کھا اور دیگر علاقوں میں رہ گئے۔
حریت کانفرنس کے وفد سے ملاقات کو ایک ماہ گزر گیا تھا نئی دھلی سے حریت کانفرنس انصاری گروپ کے سابق چیرمیں عباس انصاری کا فوں آیا اور علیک سلیک کے فوراً بعد کہا کہ مبارک ہو آپکا مطالبہ منظور ہونے والا ہے ۔۔۔سمجھ میں کچھ نہیں آیا کیونکہ زہں سے نکل گیا تھا ۔۔محترم سمجھا نہیں۔۔؟ عباس انصاری کا کہانا تھا کہ ہم آپکو بہت بڑی خبر دے رہے ہیں اور یہ نہ صرف خبر ہے بلکہ خوشخبری بھی ہے۔کہا تفصیلات کچھ یوں ہے کہ آج ہماری ملاقات بہارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ہوئی ہے اس دوراں ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف منقسم خاندان کو ملنے ملانے اور تجارت سمیت سیاحت کی فروغ کیلے سرحدیں کھول کر بس سروس شروع کی جائے۔جس پر بہارتی وزیر اعظم نے مثبت جواب دیا ہے۔حریت انصاری گروپ کے چیرمیں میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نے مزاکرات کے دوراں یقیں دھانی کرائی ہے کہ کارگل سکردو، راولکوٹ اور پونچھ بس سروس جلد شروع کی جائیگی تاکہ سرحد کے دونوں اطراف عوام کو سہولیات مل سکیں۔عباس انصاری اور میر واعظ کی باتیں واقعاً بہت بڑی خبر تھی جوکہ اس وقت کے ہفت روزہ سیاچن کا شہ سرخی بنی خبر لگنے کے بعد لوگ اسے نیک شگوں سمجھنے لگے اور منقسم خاندان میں خوشی کی لہر ڈور گئی۔اس خبر کے ایک دو ماہ بعد بہارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کی طرف سے ایک اور بیاں آگئی جس میں انہوں نے ریاست میں سیاسی پکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے قائم کیے گئے تمام ورکنگ گروپوں کی سفارشات پر عمل کیا جائیگاجبکہ آر پار تجارت کی بحالی کیلے ٹرپل انٹی سسٹم متعارف کرنے، سرینگر مظفر آباد بس سروس کو ہر ہفتہ چلانے کارگل سکردو، اور جموں سیالکوٹ روڈ کھولنے اور کشمیر واپس آنے والے پنڈتوں کو اپنے مکانات تعمیر کرنے کے لیے فی کنبہ سات لاکھ روپیےاور انہیں عارضی نوکری فراہم کرنے کے علاوہ بہت سارے اعلانات کیئے ۔لیکن یہ محض اعلانات تک محدود رہے اور ایک بات پر بھی عمل در آمد نہ ہوا۔
بہارتی یہ رویہ منقسم خاندان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھا اخبارات کی شہ سرخی دیکھ اور پڑھ کر خوشی سے جھومنے والوں کی خوشیاں ماند پڑگئی اور ایک بار پھر مایوسی مقدر بن گئی۔ بہارتی وزیر اعظم کی بیاں کو محض ڈرامہ اور مہاجریں کے ساتھ مزاق قرار دینے لگے واقعی یہ مزاق اور ڈرامہ سے کم نہ تھا ۔
سات دھائی گزرنے کے بعد بھی 48-47کے منقسم خاندان اب بھی ایک دوسرے سے ملنے کی آس لگا بیٹھے ہیں تو دوسری جانب 71کے مہاجریں بھی اس امید کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کہ ایک وقت آئیگا کہ ملن کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔
جدائی کی تاریکیوں کو ملن کی سحر میں بدلنے کے لیے دلوں میں امید لیے زندگی گزارنے والے مھاجریں کا کہنا ہے کہ ہماری ایک نسل دلوں میں امید لیے کوچ کر گئے ہیں اور ہم بھی انہی کے نقش قدم پر عمل پیرا ہیں ۔اور انشاءاللہ ایک نہ ایک دن امید کا سورج طلوع ہوگا۔
سرحد کھولنے کے انتظار میں بیٹھے کئی نسلیں اپنے رشتہ داروں کی تصاویر کی زیارات پر اکتفاء کرتے دار فانی سے ابدی سفر پر چلے گئے مگر سرحد کا حال جوں کاتوں رہا۔ اس وقت بھی لوگ سرحد کھلنے کی بات کرے یا سنے تو مزاق سمجھتے ہیں اور آج کی اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا کو ہی آپس میں ملاقات کا زریعہ سمجھتے ہیں اور وٹس ایپ سمیت دیگر ٹول استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے ک خیریت دریافت کرنے کے ساتھ ایک دوسرے کو دکھ درد کی کہانی سناتے ہیں۔
بہارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ تو اپنے اعلان پر عمل در آمد نہ کر سکا البتہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم نے ہندوستان میں مقیم سکھ کمیونیٹی کو بابا گرونانک کی زیارت اور انہیں سہولیات دینے کیلے کرتار پور راہداری کھولنے میں کامیابی حاصل کی جسکا انہوں نے اپنے تقریب حلف برداری کے وقت بہارتی کرکٹ سٹار نت جوت سنگھ سدھو سے وعدہ کیا تھا انہون نے اپنے وعدے کے مطابق کرتارپور راہدری سکھ کمیونیٹی کیلے کھولا اور سکھ یاترا خوشی خوشی سے آنے لگے کرتار پور راہداری کے بعد بلتستان کےمنقسم خاندان سے اظہار یکجہتی اور کئی دھائیوں سے اپنے رشتہ داروں سے نہ ملنے پر بلتستان کے ضلع کھرمنگ کے کچھ نوجوانون نے سکھ مذہب کا روپ اپنا کر پیغام دیا کہ اگر راستے اور سرحدیں کھولنے کیلے سکھ کا ہونا ضروری ہے تو ہمیں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کیلے یہ بھی قبول ہے۔
ایک طرف نوجوانوں کا یہ انوکھا احتجاج سوشل میڈیا سمیت پرنٹ میڈیا میں زیادہ مقبول ہوا تو دوسری طرف بلتستان کے کونہ کونہ میں کارگل سکردو اور لداخ خپلو روڈ کھولنے کیلے احتجاج کا نہ رکبے والا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے ۔اس وقت بھی بلتستان کے ضلع کھرمنگ میں ہر جمعہ کو نماز جمعہ کے بعد کارگل سکردو، لداخ خپلو روڈ کھولنے کے حوالے سے احتجاج ہوتا ہے اور روڈ کھولنے کا بھرپور مطالبہ کررہے ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی حکمران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور کسی کو احساس ہی نہیں کہ یہاں بھی منقسم خاندان بستے ہیں سر حد کے دونوں جانب اس حوالے سے منفی 50سنٹی گریڈ کا سماں ہیں اور برف پگھلنے کا نام نہیں لےرہا یہ رویہ دیکھ کر بلتستان میں مقیم مہاجرین میں مایوسی پھیل رہی ہیں اور امید کرن اندھیرےمیں تبدیل ہورہے ہیں بس وہ لوگ ملنے اور ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے کیلئے وٹس ایپ، مسنجر، آئی ایم او اور دیگر ایپ کو ہی اپنا آلہ سمجھتے ہیں اور ان اپلیکیشن کے زریعے بات چیت کرتے ہیں جب بند کرنے کا وقت آتا ہے تو دل کی گہرائیوں سے ٹھنڈی آہیں نکالتے ہوئے ایک دوسرے سے وہ سوال کرتےہیں جسکا جواب کبھی بھی نہیں ملتا پھر بھی ایک دوسرے سے پوچھ لیتے ہیں کہ ہم کب ملیں گے۔۔۔؟ اسی سوال کے ساتھ آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے ایک دوسرے سے الوداع کرتے ہیں ۔













