یہ بازی کھیل کی بازی ہے
ہمیں لگتا ہے جیسے عفریت پیچھا نہیں چھوڑتا اسی طرح خاندانی سیاست ہمارے ملک میں اتنی جڑیں پکڑ گئی ہے کہ اس سے جان چھڑانا کبھی بہت اآسان لگتا ہے اور کبھی ناممکن ۔جب یہ سارے پکڑے گئے کوئی جعلی اکاؤنٹ میں کوئی فلیٹس اور شوگر ملز میں کوئی زمینوں کے چکر میں تو ہمیں لگا تھا کہ بس اب ہمارے اچھے دن اآگئے اب ہمیں ان ناگوں سے نجات مل جائیگی جن کا زہر سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔
لیکن افسوس پھر بیماریوں نے گھیر لیا ۔ایکزٹ لسٹ پر ہوتے ہوئے بھی لوگ باہر بھاگ گیئے کیونکہ ترازو ٹھٹر گیا تھا ۔ضمانتیں دی جارہی تھیں ۔بات بھی ٹھیک تھی جب پکڑا تھا تو ثابت بھی تو کرتے مگر اس معاملے میں نیب کے پلیٹلٹس بھی اتنے کم ہو جاتے ہیں جتنے کسی مردہ کے ۔کہتے ہیں پلیٹلٹس کا کم زیادہ ہونا کسی کے اختیار میں نہیں ہے لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ہماری لیبس کے اختیار میں سب کچھ ہے وہ جسے چاہے بڑھا دے جسے چاہے گھٹا دے ۔یہاں تک کہ وہ لوگ جو قسم کھا بیٹھے ہوں وہ بھی اپنی قسم توڑ کر کفارہ دینے کو تیار ہو جاتے ہیں بلکہ شاید دیتے بھی ہیں ،کہ ہم نے غلطی کر دی ۔لیکن اکثر غلطیوں کی بڑی بھاری قیمت دینی پڑتی ہے ۔
اب وہ سارے لندن میں بلا خوف و خطر بلا جھجک کمیٹئی مفروران ایک میز کے گرد بیٹھ کر ہوا خوری کر رہی ہے جیسا کہ صاحبزادے نے فرمایا ۔اور آپ سارے کام چھوڑ کر پھر ان کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں ہمیں تو لگتا ہے کہ ہم سب پر ہی آسیب کا سایہ ہوگیا ہے جو جان ہی نہیں چھوڑتا چاہے کتنا ہی جتن کر لیں ۔اس آیب نے جس طرح ملک میں پنجے گاڑے ہیں وہ شاید بہت وقت لیں گے ختم ہونے میں ۔
اتحادی اپنا رنگ ہمیشہ دکھاتے ہیں اور ہم ایسے بےبس ہیں کہ ان ہی کے چکر میں پھر آجاتے ہیں اور اب بھی ان کی منتیں کر رہے ہیں ۔ارے بھائی جب آپ کوحکومت کی طلب نہیں تو پھر ان کے سامنے جھکنا کیسا ؟؟؟؟
قاف کا اور ایم کیو ایم کا کون سا ماضی اچھا ہے یہ سب ہی اپنے مفادات کی سیاست کرتے ہیں اگر ملک کے لئے سیاست ہوتی عوام کے لئے جمہوریت ہوتی تو آج ہم یہ دکھ نہ جھیل رہے ہوتے ۔کہ ایک ایسا شخص جس پر سب نے اعتماد کیا اور وہ ہے بھی اعتماد کے قابل ہم نے اسے بھی مک مکا کی میز پر لا بٹھایا ۔خدا را اگر ہم ملک سے مخلص ہیں تو کچھ کام کریں عوام کا نام لے کر اپنی سیاست نہ چمکائیں عوام کو بھی اب ہوش میں آنا چاہئے بہت بھگت لئے یہ سارے پرانے حربے ۔اب حکومت کو بھی چاہئے کہ دل پٹھان کرے ۔اور جو ساتھ رہتا ہے ٹھیک ہے نہیں رہتا تو جانے دے ۔صفائی کرے ۔
اب یہ سلسلے بھی ختم ہونے چاہئیں ہمیں افسوس صرف اتنا ہے کہ جنہوں نے ہمیں اس حد تک پہنچا دیا انہیں تو ہم نے تیس تیس سال دئے اور جو کام کرنا چاہ رہے ہیں انہیں ہم پانچ سال برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔پھر چاہے تجزیہ نگار ہوں ،تبصرہ کرنے والے یا اینکرز اور خبر دینے والے ۔ہر کوئی مخالف ہوا ہے ۔کیونکہ وہ اللے تللے نہیں مل رہے جو پہلے تھے ۔یا شاید اچھائی کی طرف آنا بہت بڑا زخم ہے ۔
ہم کسی بھی حکومت یا شخصیت کے نہ طرفدار ہیں نہ مخالف لیکن سچائی کے ساتھ ہر معاملے کو دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں ۔بہت کمزوریاں ہیں حکومت میں ان کے وزیروں میں بے وقوفیاں بھی کر رہے ہیں مگر انکی نشاندہی کریں یہ کیا معاملہ ہے کہ ایک لمحے میں تعریفوں کے پُل باندھتے ہیں اور ایک لمحے میں نیچے گراتے ہیں ۔جو غلط ہو رہا ہے اسکی طرف توجہ ضرور دلاؤ لیکن حکمت کے ساتھ یہ نہیں کہ سارے کئے دھرے پر پانی پھیر دو ۔
اس بات سے شاید ہی کوئی انکار کر سکے کہ کچھ اتنے اچھے اور مثبت کام ہوئے ہیں جو پچھلی حکمتوں میں نہیں ہوئے ۔ان سے پوچھو جو سردی کی ٹھٹرتی راتوں میں سڑک پر سوتے تھے لیکن میرا کوئی اینکر ،کوئی تبصرہ نگار کوئی تجزیہ کار کبھی ان کے لئے نہیں بولا آج وہ کھانا بھی کھارہے ہیں اور لحاف میں سو بھی رہے ہیں لیکن کسی نے انکی طرف جا کر ان سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اب کیسے ہو ۔۔۔کیونکہ ہمیں تو وہ برائیاں سامنے لانی ہیں جو ملک میں ہورہی ہیں ہم نہ مثبت سوچ رکھتے ہیں اور نہ ہی اچھے کاموں کی تشہیر کرتے ہیں ہم صرف مخالفت اور بغض و عناد پر یقین رکھتے ہیں جس میں ہمارا قصور نہیں سودا ہی یہ بکتا ہے ۔بے شک کوئی بہت بڑا کانامہ نہیں ہے مگر جو سڑکوں پر رُلتا تھا اس سے پوچھو ؟؟؟
ملک کے لئے سوچیں تو ہم سب مل کر متحد ہو کر کام کریں اچھے کاموں میں ساتھ دیں اور کمزوریوں کی نشاندہی کریں ۔سب مل کر ملک کو بنائیں لیکن ہم ہر کچھ ماہ بعد اپنی اپنی ڈفلی لے کر میدان میں آجاتے ہیں ۔اور اس کے پیچھے صرف پیسہ اور عہدہ ہوتا ہے ،عوام نہیں
ہمیں تو خوف آتا ہے اور ہماری اس حکومت سے استدعا ہے کہ خدا را ایک اچھا کام اور کر دو جوانوں میں سے لیڈر نکالو ۔انہیں تربیت دو خدا را بچالو ملک کو خاندانی نواسوں اور بیٹیوں اور پوتوں سے ورنہ شہنشاہوں کے دور میں چلے جاؤگے جہاں باپ بیٹے کو مروا دیتا ہے بغیر کسی دکھ کے اور بیٹا باپ کو تلوار کا نشانہ بنا دیتا ہے بغیر کسی تکلیف کے کہ اقتدار چاہئے ۔
اگر ہم اب اس صدی میں بھی خود کو اسی سیاست اور جمہوریت میں پھنسائے رکھیں گے جہاں کچھ لو اور کچھ دو کی بات ہوتی ہے تو ہم کبھی بھی اپنے وہ مقاصد جو ہماری بنیادی تعلیم کا حصہ ہیں حاصل نہ کر سکیں گے اور ایک صدی پیچھے اس طرح پھسل جائیں گے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا ۔
اللہ موقعہ دیتا ہے سنبھلنے کا وہ رحم بھی فرماتا ہے کہ کچھ اچھا کر جاؤ لیکن جب قوم کو اپنے اچھے برے سے مطلب ہی نہ ہو تو تباہی ہو جاتی ہے ۔اس لئے غور اور فکر لازم ہے ۔اب سب کو متحد ہو کر صرف اپنی ترقی اور قوم کی تربیت پر زور دینا چاہئے جو اچھا ہورہا ہے کھل کر سامنے لائیں جو برائی ہے اسکی نشاندہی کریں اور کوشش کریں کہ وہ کام نہ ہوں جو پچھلے ادوار میں ہمیں نقصان پہنچاتے رہے لیکن خدا را اس منافقت اور لین دین سے نکل اآئین ۔اس مک مکا کو ختم کر دیں ان پارٹیوں کو بھی چاہئے کہ عوا م کے نام پر کھیلنا بند کر دیں جتنی ہماری عوام صابر اور ہوش مند ہے اتنی شاید ہی زمین پر کہیں ہو جو خود پیٹ پر پتھر بھی باندھ لے گی اگر آپ ملک کے لئے اچھا کریں گے تو ،انہیں مسترد بھی کر دے گی جنہوں نے اب تک اسکے کندھوں پر بندوق رکھ کر اپنا مفاد حاصل کیا ہے ۔لیکن اسے طاقت دیں اسکی بہتری کی طرف اآئین جو ہر وعدے کو سچا جانتی ہے اور آپ کا ساتھ دیتی ہے ÷۔
یہ نون ،قاف ،فے اور پی یہ سارے وہ ہی ہیں جنہوں نے نہ عوام کو کچھ دیا اور نہ ہی اپنے ورکر کو ان پر جب بھی ہاتھ پڑا یہ سارے بیرونِ ملک جا بیٹھے ۔
اب آپ ان سے کوئی بھلائی کی امید نہ رکھیں اپنا وزن کم نہ کریں یہ آپ کو بھی اسی ڈگر پر لے آئیں گے اور وہ دن ہم سب کے لئے دکھ کا ہوگا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کچھ کر گزریں گے ۔مگر خدا را ان کے سا منے نہ جھکیں کیسی مفاہمت کیسی دوستی جب کام ٹھیک نہ کریں ۔
ہم نے کبھی کسی تجزیہ نگار یا کالم نویس یا پروگرام کرنے والے کو ہر پروگرام دو ایسے جملے بولتے نہیں دیکھا جو عام آدمی کو اچھائی کی طرف راغب کر سکیں کیا ہم اپنے پروگراموں میں سچ بولنے کی ترغیب نہیں دے سکتے ،کیا ہم دو جملے اچھے کردار بنانے پر نپہیں بول سکتے ۔لیکن ہمارے کان ترستے ہیں ایسی اچھی باتیں سننے کو ۔یہاں رو گزر جائیں گے لیکن جواب تو دینا ہوگا اللہ کو کہ جو اختیار تھا اسے کتنا استعمال کیا اور کہاں استعمال کیا ۔
اللہ ہم سب کو عقل اور شعور عطا کرے جھوٹ سے بچائے اور ہمیں ان تمام برائیوں سے محفوظ فرمائے جو نہ چاہتے بھی ہمارے اندر پیدا ہو گئی ہیں آمین

SHARE

LEAVE A REPLY