مشکل کی گھڑی میں ریڈیو پاکستان انتظامیہ کی ناعاقبت اندیشی

0
1548

ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ نے کرونا کے خلاف لڑنے والے سینکڑوں ملازمین کو بے گھر کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ اسے بےحسی اور ستم ظریفی کی انتہا کہا جائے یا کچھ اور کہ ایک جانب دنیا بھر کی طرح پاکستان کے عوام اور ادارے کرونا وائرس کے خلاف سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں وہیں ریڈیو پاکستان کی کوتاہ اندیش انتظامیہ نے وزارت اطلاعات کے بابوئوں کے ساتھ خفیہ ساز باز کرکے سینکڑوں ملازمین کو بے گھر کردیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دوسرے تمام اداروں کی طرح ریڈیو پاکستان کے ملازمین کو بھی ان کے گھروں کا کرایہ طے شدہ فارمولے کے تحت مکان مالکان کے ساتھ تحریری معاہدے کی رو’ سے ادا کیا جاتا رھا ہے ۔ یوں ملازمین اور ان کے بچوں کو ایک چھت میسر تھی اور کم تنخواہ اور مراعات کے باوجود یہ لوگ دن رات مصروف کار تھے ۔ اس وقت بھی کہ جب کرونا وائرس کے پیش نظر لوگوں کو اپنے گھروں تک محدود ہونے کا کہا جارھا ہے ، ریڈیو پاکستان کے ملازمین اپنے کام کو مشن سمجھ کر نہ صرف نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ پورے ملک اور دنیا بھر میں پھیلے سامعین کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھے ہوئے ہیں ۔ ایسے حالات میں اداروں کی انتظامیہ اور سربراہان اپنے ملازمین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ،ان کی پشت پر کھڑے ہوتے ہیں، انہیں ہر طرح کی سہولیات بہم پہنچانے کے لئیے جتن کرتے ہیں لیکن ریڈیو پاکستان میں گنگا ھمیشہ الٹی بہتی ہے اور انتظامیہ نے کمزور دلیلوں کا سہارا لیکر فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے 6 بڑے شہروں کے ریڈیو ملازمین کو چھوڑ کر باقی سینکڑوں ملازمین کو ماہ فروری سے ہائیرنگ کی مد میں کوئی رقم ادا نہیں کی جائے گی ۔ اس فیصلے نے ریڈیو ملازمین میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے ۔ یاد رہے کہ مروجہ قوانین کے تحت جب ایک ملازم کوئی گھر کرائے پر حاصل کرتا ہے تو مالک مکان کے ساتھ تحریری معاہدہ کرتا ہے جس کی تصدیق محکمہ کرتا ہے ۔ معاہدے کی رو سے کرایہ دار ہر ماہ مقررہ تاریخ تک کرایہ ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے ۔ اب ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ نے جہاں ایک طرف ملازمین کو مالی نقصان پہنچانے کی ٹھانی ہے وہیں ان کے خلاف مکانوں سے بے دخلی اور قانونی مشکلات کے دروازے بھی کھول دئیے ہیں ۔ یہ فیصلہ ریڈیو پاکستان کے ان ملازمین کے لئیے خصوصی طور پر پریشانی اور مایوسی کا باعث بنا ہے جو اپنی جان اور گھر والوں کی پرواہ کیئے بغیر کرونا وائرس کے خلاف سینہ سپر ہیں ۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ حکومت کے خلاف کسی سازش کی ایک کٹری بھی ہوسکتی ہے تاکہ ریڈیو ملازمین اپنا کام چھوڑ کر سڑکوں پر آجائیں ۔ ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ اور وزارت اطلاعات کے بابو ہوش کے ناخن لیں اور ایسے فیصلے کرکے ریڈیو ملازمین میں مایوسی نہ پھیلائیں ۔ یہ بات حکومتی حلقوں کے لیئے بھی سوچنے کی ہے کہ ایسے وقت میں کون لوگ اس طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY