دو سال میں 6 آئی جی پولیس!

0
532

وفاقی حکومت نے دوسال کے عرصے میں پنجاب کے پانچویں انسپکٹر جنرل پولیس کو ہٹا کر چھٹا تعینات کر دیا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تقرری میں اعتماد میں نہ لینے اور چین آف کمانڈ کی خلاف ورزی پر آئی جی پولیس شعیب دستگیر نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے شکایت کی تھی۔ معاملہ وزیراعظم تک پہنچا تو انہوں نے عمر شیخ کو عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے آئی جی کو ہٹا دیا اور ان کی جگہ گریڈ 21کے افسر انعام غنی کو تعینات کر دیا۔ اس پر ایک طرف ایک اے آئی جی طارق مسعود یٰسین نے ان سے سینئر ہونے کی بنیاد پر ان کے ماتحت کام کرنے سے انکار کر دیا تو دوسری طرف بعض اعلیٰ پولیس افسروں کے ہنگامی اجلاس میں آئی جی پنجاب کے اس انداز میں تبادلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سی سی پی او کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا حکومتی حلقوں نے آئی جی کے تبادلے کا دفاع کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ جو افسر ڈیلیور نہیں کریگا وزیراعظم کو اسے ہٹانے کا صوابدیدی اختیار حاصل ہے جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ آئی جی کو مخالف سیاستدانوں کے خلاف حکومت کے انتقامی ایجنڈے کا حصہ نہ بننے پر ہٹایا گیا ہے۔ سیاسی بیان بازی سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں صرف دو سال میں اوپر تلے پانچ آئی جی

پولیس تبدیل کئے گئے۔ کسی کو ایک، کسی کو3،6، 7اور آخری آئی جی کو 9ماہ میں ہی چلتا کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق اس سے ایک طرف گورننس کا سسٹم تباہ ہوتا ہے تو دوسری طرف پولیس کا مورال گرتا ہے پھر یہ تبدیلیاں پولیس اصلاحات کے ایجنڈے کے بھی منافی ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ وہ ’’خوب سے خوب تر ‘‘کی تلاش میں تبادلے کرتی ہے لیکن جب کسی افسر کو مقررہ مدت تک کام ہی کرنے نہیں دیا جائے گا تو وہ کارکردگی کیا دکھائے گا؟ اس لئے تبادلے قواعد و ضوابط اور میرٹ کو مدنظر رکھ کر ہی کئے جانے چاہئیں۔

بشکریہ جنگ

SHARE

LEAVE A REPLY