ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے آئندہ پیشی کے حوالے سے لندن میں قانونی ماہرین سے مشاورت کی جس میں انیس اکتوبر کو احتساب عدالت میں پیش ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ نہ ہو سکا۔ سابق وزیر اعظم نے آئینی اصلاحات میں ترامیم کیلئے بھی پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی۔ نواز شریف نے ایاز صادق، خواجہ آصف اور راجہ ظفر الحق سمیت دیگر رہنماؤں کو اتحادی جماعتوں سے رابطے بڑھانے کی ہدایت کر دی۔
نواز شریف کا رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لیگی حکومت نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا، بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت ہمارے آئین کا اٹوٹ حصہ ہے، انتخابی بل میں ہونے والی غلطی کا فوری ازالہ کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام نے مجھے تین بار وزیر اعظم بنایا، ہمیشہ رنگ، نسل اور زبان سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت کی اور اقلیتوں کے حقوق کو بلاتفریق یقینی بنایا۔ نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان سے لوڈ شیڈنگ کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائے گا، سی پیک منصوبے سے ملک ترقی کی نئی راہوں کی جانب رواں دواں ہے، اقتدار ملاتو معیشت محض 3 5 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی تھی جو اب بڑھ کر 6 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانیوں نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔












