اسلام اور حقوق العباد (78۔)۔۔ شمس جیلانی

0
1436

اسلام اور حقوق العباد (78۔)۔۔ شمس جیلانی
ہم گزشتہ مضمون میں اس پر بات کر رہے تھے۔ کہ ہمیں پہلے اسلامی معاشرہ نمونے کے لیئے بنا نا پڑیگا تب ہم کہیں جاکراس قابل ہونگے کہ کسی کو سمجھا سکیں کہ اسلامی نظام ہے کیا۔ کیونکہ اسلامی نظامی اور نظاموں کا الٹ ہے۔ اس لیئے کہ دوسرے نظاموں میں پہلے کوئی طاقت کسی ملک کے اقتدار پر قبضہ کرتی ہے پھر کہیں جاکر وہ اپنا دین یا نظام باشندوں پر نافذ کرتی ہے۔ جیسے کہ آرین (اونچی ذآت کے ہندوں) جنہونے نے باہر سے آکر ہندوستا پر قبضہ کیا اور یہ فلسفہ نافذ کردیا کہ سب لوگ برہما جی کے جسم سے پیدا ہوئے ہیں۔ برہمن ( یوں سب سے اعلیٰ ہیں )ان کے سر سے پیدا ہوئے اور چھتری ( اس لیئے کہ وہ سپاہی ہیں) ان کے سینے سے پیدا ہوئے اور کھتری (کاروباری لوگ )ان کے پیٹ سے پیٹ سے پیدا ہوئے اورشودر (جو ڈریویڈٰن اورمقامی باشندے ہیں ) وہ ان کے نچلے دھڑ سے پیدا ہوئے ہیں جن کے ذمہ سب کی خدمت کرنا ہے۔ جبکہ اسلام کہتا ہے کہ “ لا اکراہ فی الدین “ یعنی دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہے۔ دوسرے فاتح مفتوحین کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں۔ مگر اسلام میں اول تو قیدی اور مفتوحین کے بھی حقوق ہیں؟ دوسرےاگر وہ اسلام قبول کرلے تو اس کو وہی حقوق حاصل ہو جا تے ہیں جو کہ ایک مسلمان کے ہو تے ہیں۔ اسی طرح اسلامی معاشرہ ایک دوسرے کے لیئے قر بانی دینے اور ایثار کا نام ہے۔ اسلام میں پڑوسی اگربھوکا ہے تو مسلمان پڑوسی پر کھانا حرام ہے جب تک کہ وہ اس کا پیٹ نہ بھردے۔ سود لینا دینا دونوں منع ہیں اگر کسی کو کوئی قرض دے تو قرض حسنہ دینا بہتر ہے ،اگر مقروض تنگ دست ہے تو ادا ئیگی میں مہلت دینا اور اگر ہوسکے تو معاف کرنا بہتر ہے۔ جبکہ دوسرے نظاموں میں کسی مجبورکی مجبوری سے فا ئدہ اٹھا نا ضروری ہے۔ دوسرے بتوں کو سامنے رکھ کر پوجتے ہیں جن کی تعداد مختلف ہے۔ جبکہ مسلمان غیب پر ایمان رکھتے ہیں اورایک ان دیکھے “اللہ“ کی عبادت کرتے ہیں۔ چونکہ عرب میں حضور ﷺ نے وہ معاشرہ پہلے بنا یا اورخود اس پر عمل کر کے دکھایا، پھر مدینہ منورہ تشریف لے جا کر اسے نافذ فرمایا۔ ورنہ تو وہی مسئلہ ہو تا جیسا کہ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک صاحب خود اسلام سے نا بلد تھے۔ صرف سن لیا تھا کہ تبلغ بہت نیک کام ہے اس کا بڑا ثواب ہے۔ انہیں کوئی دیہاتی راستے میں جا تے ہو ئے مل گیا وہ اس پر بندوق تان کر کہنے لگے پڑھ کلمہ! اس نے کہا مجھے بتا ؤ تو سہی کلمہ ہے کیا، جومیں پڑھوں! تو وہ صاحب کہنے لگے وہ تو مجھے بھی نہیں آتا ہے تم پڑھو۔یہ ہی صورت ِ حال آجکل دنیا میں ہے کہ کہیں اسلام موجود نہیں ہے۔ لوگوں کے جو ہتھے چڑ ھ جا ئے ا سی سے کہتے ہیں کہ تم ایمان بھی لے آؤ اور تم ہی عمل کر کے بھی دکھا ؤ؟اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب تھا اس کو ئی اب قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جبکہ میں نے پہلےبتا یا کہ کسی کہ اسلام قبول کرتے ہی اس کے تمام حقوق نافذ ہو جاتے ہیں جو قبول کرتا ہے۔۔ مگر ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ کوئی اسلام میں دا خل ہو جا ئے تو کوئی اسے اپنانے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ ہندوستان کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ اسلام قبول کر نے کے بعد اچھوت اچھوت ہی رہے جو بر تا ؤ ان کے ساتھ اعلیٰ ذات کے ہندو کرتے تھے۔ وہی مسلمانوں نےجاری رکھا؟ جبکہ اسلام میں اونچ نیچ اور ذات پات نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔ بلکہ جو اسلام قبول کر لے اس کو پرانے مسلمانوں پر بزرگی حاصل ہو جاتی ہے کہ ان کے کلمہ پڑھتے ہی تمام گناہ معاف ہو جا تے ہیں اسلام میں معیار سفید کالا اور براؤن نہیں معیار تقویٰ ہے۔ اور جو پرانے تھے وہ ان کا احترام کر تے تھے اورتالیف ِ قلو ب کے لیئے ایک مد تھی جس سے ان کی مدد کی جاتی تھی۔ نہ کہ آج کی طرح انہیں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا جا ئے۔ جیسا کہ آجکل عام ہو تا ہے۔ جبکہ اعلیٰ ذات کے ہندؤں کو مہاتماگاندھی جیسا رہنما مل گیا اور انہوں نےچھوت، چھات مٹانے کی کوشش کی اس کے لیئے آشرم بنا ئے جس میں کھانا پینا رہائش سب مفت تھی۔ جس کا نتیجہ آج مسلمان خود بھگت رہے ہیں۔ کیونکہ ان کی اس کوشش سے دس کروڑ اچھوت ہندو مت کا حصہ بن گئے جو صدیوں سے شودر (اچھوت) بنے ہوئے تھے ان کی عبادت گاہیں تک الگ تھیں جبکہ اب انکا ماضی یا دلانا بھارت میں جرم ہےاوراس طرح ہندوستان میں انہیں اکثریت حا صل ہو گئی؟ اگر ہم اسلام پر عامل ہو تے تو یہ برتا ؤ ان کے ساتھ کبھی نہ کرتے جو اونچی ذات کے اتباع میں ہم نے کیا۔ اور اکثریت مسلمانوں کی ہی ہوتی۔ کیونکہ تقسیم سے پہلے۔ ہندوستان کی آبادی صرف چالیس کروڑ تھے۔ جس میں 15 کروڑ اونچی ذات کے ہندو تھے۔ 10 کروڑ مسلمان تھے اور 10 ہی کروڑ اچھوت تھے اور 5 کروڑبقیہ اقوام تھیں۔ جبکہ ہم سے کرسچین زیادہ اچھے رہے جو ہمارے بہت بعد آئے بہت کم عرصہ حکمران رہے مگر ان کے پادریوں نے گاؤ ں، گاؤں جا کر ان کی خدمت کی مشن اسکول کھولے انہیں تعلیم دی نوکریاں د لا ئیں کھلا یا پلایا۔ چھوت چھات کو انہوں نے اٹھا کر ایک طرف رکھدیا اور وہ ان میں اس طرح گھل مل گئے کہ پہلی مرتبہ انہیں اپنا ئیت کا احسا ہو اور انکی کافی بڑی تعداد نے عیسا ئیت قبول کرلی۔ ہم نے یہ اسلام کی خدمت کی کہ ان کو اہمیت دینا تو بڑی بات ہے ان کو اپنے برابر بیٹھنے تک کی بھی کبھی اجازت نہیں دی۔ اس سلسلہ میں جو کچھ بھی کام کیا صرف خانقاہوں نے کیا۔ جب وہ بھی میراث میں بٹنے لگیں تو ان میں بھی وہی چیزیں آگئیں جو بقیہ مسلمانوں میں تھیں۔ نتیجہ یہ ہے جوکچھ آجکل ہندوستان میں دیکھ رہے ہیں۔ آپ خود ہی بتا ئیے کہ جو شخص اپنا دین چھوڑتا ہے وہ ایک بہت بڑی تبدیلی سے دوچار ہوتا ہے اسے اس کے بہن بھائی اور ماں باپ تک چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے با وجود اسے رہنا وہی ہے جو وہ پہلے تھا! تو پھر اسے یہ مصیبت جھیلنے کی کیا ضرورت ہے۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY