ایسی نصیحت پہ نہیں کان دھرا کرتے ہیں۔۔۔۔ شمس جیلانی

0
1076

آج پھر شعر پیش ِ خدمت ہے پہلا مصرع تو عنوان ہے جبکہ مصرع ثانی یہ ہے ً جبکہ مخلص ہی نہ ہو راہ دکھانے والا ًسی پیک کے سلسلہ میں آجکل امریکہ کی نا ئب وزیر خارجہ تشریف لا ئی ہوئی ہیں وہ بھی براہ ِہندوستان اور سی پیک کے خلاف انہوں نے پاکستانی میڈیا کو اپنے قیمتی مشوروں سے نہ صرف نواز بلکہ ایک ہیجان پیدا کر رکھا۔ جبکہ عمران خان باہر تشریف لے گئے ہیں۔ ملک کو بحرانو ں میں گھرا چھوڑ کر، اور یہ مشورہ دیکر کہ عوام صبر سے کام لیں صبر کا دامن نہ چھوڑیں بہت اچھے دن آنے والے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں رہتے ہوئے تو بےچین رہنا ہی ہے۔ سکون تو صرف قبر میں جا کر ملتا ہے۔ اس میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے۔ کہ حکومت ِ پاکستان کے کسی ترجمان نے ان کی اس مہم کے خلاف لب کشائی کرنے کی بھی جراء ت تک نہیں کی نہ میڈیا نے اس مسئلہ پر اپنی سرچ لائٹ ڈالی کہ اس کا یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ جو مشورہ دے رہیں وہ خود مخلص بھی ہیں یا نہیں؟ جبکہ ان کی ہمنوائی میں میڈیا کے کچھ ستون بولتے ہوئے سنا ئی دیئے۔ شاید پاکستانیوں نے یہ بات گرہ میں باندھی ہوئی ہے۔ کہ یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے صرف یہ دیکھوکہ کیا کہہ رہا؟ حالانکہ انہیں سوچنا یہ چا ہیئے تھا کہ کہنے والے کا مقصد یہ تو نہیں ہےکہ جس طرح کالا باغ ڈیم کھٹائی میں پڑگیا اسی طرح اسے بھی کھٹائی میں نہ ڈالدیا جا ئے؟ اور یہاں بھی ہر طرف بڑی مشینیں آسمان کی طرف منہ اٹھا ئے زنگ آلود ہوتی نظر آئیں۔ رہی یہ بات کہ امریکن صدر کا ارشاد گرامی اور وہ تصویر بار پاکستانی میڈیا میں چل رہی ہے جس میں عمران خان بار بار ان سے ہاتھ ملاتے دکھا ئے جا رہے ہیں۔ اور صدر صاحب کا یہ ارشاد گرامی سنوا یا جا رہاکہ جتنے اچھے تعلقات آ ج امریکہ ساتھ پاکستان کے ہیں وہ پہلے کبھی نہیں نہ تھے۔ جوکہ خطرے کی گھنٹی بجنے کے مترادف ہے۔ جب بھی تاریخ میں دونوں ملکوں کے تعلقات بہت اچھے ہو ئے۔ ہمیشہ پاکستان گھاٹے میں رہا؟ یہ تاریخ وہا ں سے شروع ہوتی ہے۔ کہ اسوقت بھی تعلقات بڑے اچھے تھے جب ملک دوحصے ہو ا اور پاکستان آسرے میں ہی رہا مگر امریکہ کا چھٹا بحری بیڑہ راستہ بھول گیا۔ اسی طرح پھر ایک مرتبہ تعلقات اچھے بنے تو ان کا دورانیہ اتنا طویل ہو ا کہ نسلیں گزر گئیں لڑتے لڑتے اور قر بانیاں دیتے دیتے، صلہ صرف یہ ملا کہ موجودہ صدر صاحب نے وہ پی نٹ جیسی رقم بھی دینا بند کر دی جو کہ پاکستان کو بے حساب نقصانات اٹھانے کے بعد اس کی اشک شو ئی کے لئے کئی سالوں میں قسط وار ملنا تھی۔اور وہ بھی اس وقت بند کی جبکہ پاکستان دیوا لیہ ہونے جا رہا تھا اور اس کو ایک ایک ڈالر کی سخت ضرورت تھی؟ چین نے اسوقت جو کچھ کر سکتا ہے وہ اس نے کیا۔ کیونکہ اس کے سامنے پاکستان میں اپنا لگایا ہوا سرمایہ ڈوبنے کا خطرہ تھا۔ جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر ایک اپنا مفاد دیکھتا ہے۔ اور آج چین اپنا د فاع کر رہا اس میں حیرت کی بات کیا ہے اس کو کرنا چا ہیئے ۔ یہ تو تھا امریکہ اور چین کے جاری مبا حثے کا جواب ۔
؟ اب آئیے عمران خانصاحب کے مشوروں پر بات کرتے ہیں؟ جو وہ عوام کو دے کر گئے ہیں کہ سکون قبر میں ملتا ہے؟ عوام صبر سے کام لیں اچھے دن آنے والے ہیں۔ جب کہ لوگوں کو کھانے کے لیئے آٹا نہیں مل رہاہے۔ کیونکہ ان کے وزیر خوراک فرما رہے ہیں کہ چالیس ہزار ٹن فی ماہ کے حساب سے تو چمن کے باڈر پر گندم اسمگل ہوتی رہی۔کتنے مہینے تک جارہی اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی روشنی نہیں ڈالی، نہ اس پر کہ اس سلسلہ میں جو چشم پوشی کی گئی وہ کس کے لیئے کی گئی کس حکم پر کی گئی۔ اور یہ جنرل ضیاء الحق کے دور کا فارمولا کس نے دوبارہ جاری کر دیا کہ پہلے گندم ایکسپورٹ کر و جب شارٹج پیدا ہو جا ئے تو امپور ٹ کرلو؟ اور دونوں کے ٹھیکے غلام مصطفیٰ گوکل کی شپنگ کمپنی کو دیدو جو کہ اسوقت وزیر تھے۔ اسی کی وجہ سے انکے نظام کا نام ہی عوام نے نظام غلامِ مصطفی گوکل رکھدیا تھا۔ لہذا ہمارا خان صا حب کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ واپس آ کر تحقیقات کریں ک٠ اس کے پیچھے کون تھا۔ کیونکہ عوام اور تو سب کچھ آپ کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں مگر گندم کھانا نہیں چھوڑ سکتے ، اس لیئے وہ بنی آدم کی کمزوری ہے اور کوئی بھی اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا نہیں دیکھ سکتا۔ لہذاایسی قر بانی نہ مانگیں جو عوام دیں نہ سکیں۔ رہی قبر میں سکون کی بات تو وہ بھی انہیں کو ملے گا جنہوں نے اللہ اور رسول ﷺ کی بات یہاں مانی ہوگی۔ ان کو نہیں جو صرف دلاسے دیتے رہے ہوں وہ بھی مفروضوں پر ۔ جیسے کہ تیل نکلنے کی خبر تھی؟معجز ے آج بھی ہو سکتے ہیں مگر ہوتے صرف ان کے ہی ہاتھوں سے ہیں جو کہ صرف اللہ کی رضا کے لیئے کام کرتے ہیں اور اللہ ان سے اور وہ اللہ سے راضی ہیں؟ ان سے نہیں جو کہ ساری دنیا کو بہ یک وقت راضی کرتے پھریں۔ اور اللہ کو بھول جائیں۔ لہذا قبر میں بھی سکون ان کو ہی ملے گا۔ جو کہ اللہ کے مطیع اور فرمانبر دار ہونگے ان کو نہیں جو اس کے برعکس کام کریں۔ اس کے لیئے سورہ عمران کی آیات نمبر 102سے 110 پڑھ جا ئیے آپ کو ساری بات سمجھ میں آجا ئے گی۔ ورنہ ڈر یں کہ اور بلا ئیں تو مہان ہیں ہی ہیں، اب ٹڈی دل نے بھی راستہ دیکھ لیا ہے۔ کیونکہ آپ نے پہلے والوں کی طرح وعدے کیئے تو مگر پورے نہیں کیئے۔ اور ریاست مدینہ کی پہلی اینٹ بھی نصب نہیں کرسکے؟

SHARE

LEAVE A REPLY