برطانیہ یورپی یونین سے جدا

0
969

برطانیہ نے یورپی یونین سے تقریباً نصف صدی تک وابستہ رہنے کے بعد جمعے کی رات بلآخر راہیں جدا کر لی ہیں۔ برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق جیسے ہی رات کے 11 بجے، بریگزٹ کے حامیوں نے ملک بھر میں جشن منایا۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے رفاقت 47 برسوں پر محیط رہی جس کے خاتمے پر بریگزٹ کے کچھ مخالفین افسردہ دکھائی دیے۔

بریگزٹ کے موقع پر برطانیہ میں کئی مقامات پر کاؤنٹ ڈاؤن کے لیے گھڑیاں نصب کی گئیں تھیں۔ لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر پر ہزاروں افراد جمع تھے جنہوں نے برطانیہ کے پرچم تھامے ہوئے تھے۔ جوں ہی گھڑی نے گیارہ بجائے مجمع نے خوشیاں منائیں اور قومی ترانہ گایا۔

اس موقع پر برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے بریگزٹ کو یورپی یونین کے ساتھ دوستانہ تعاون کا آغاز قرار دیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بریگزٹ سے چند گھنٹوں قبل جاری کردہ بیان میں بورس جانسن کا کہنا تھا کہ بہت سارے لوگوں کے لیے یہ امید کا حیران کن لمحہ ہے۔ وہ سوچتے تھے کہ یہ وقت کبھی نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ کئی لوگ ایسے بھی ہوں گے جو پریشانی اور افسردگی محسوس کر رہے ہیں۔ میں یہ تمام احساسات سمجھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ حکومت کے طور پر ہمیں کیا کرنا ہے۔ ان کے بقول میرا کام یہ ہے کہ میں اس ملک کو ایک ساتھ آگے لے کر چلوں۔

اس سے قبل جمعے کی شام بیلجئم کے دارالحکومت برسلز میں واقع یورپی کونسل اور یورپی پارلیمان کی عمارتوں پر لگے برطانیہ کے پرچم کو بھی اتار دیا گیا تھا۔

یورپی یونین سے علیحدگی کا سفر
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فی صد عوام نے علیحدگی کے حق میں رائے دی تھی۔ جس پر کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے اُس وقت کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا کیوں کہ وہ خود یورپی یونین میں رہنے کے حامی تھے۔

بعد ازاں کنزرویٹو پارٹی کی رکن تھریسامے نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا اور بریگزٹ کے معاملے پر ناکامی کی صورت میں انہوں نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جس کے بعد بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا تھا۔

یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے اسمبلی میں مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے لیے بورس جانسن نے نئے انتخابات کا اعلان کیا اور دسمبر 2019 میں ہونے والے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے 365 نشستیں حاصل کیں۔

اس سے قبل کنزرویٹو پارٹی کے پاس 650 کے ایوان میں 317 نشستیں تھی جب کہ سادہ اکثریت کے لیے اسے 326 ارکان کی ضرورت تھی۔

بورس جانسن نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اسمبلی سے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ حاصل کیے اور 31 جنوری کو باضابطہ طور پر یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

…………………………..

برطانیہ 47 سال بعد آج جمعہ کو رات  ای یو سے نکل جائے گا، پاکستان میں ہفتے کی صبح چار بجے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی عملی طور پر نافذ ہوجائے گی، بریگزٹ کے مخالفین نے رات گئے لندن میں مظاہرہ کیا۔

 یورپی یونین کے ساتھ 1973میں یہ سفر شروع کیا گیا جو آج اختتام پذیر ہو گا۔ برطانوی کابینہ کی آج شام سندر لینڈ میں علامتی میٹنگ بھی ہو گی۔ وزیراعظم بورس جانسن بریگزٹ کے بارے میں بیان بھی جاری کریں گے جس میں وہ واضح کریں گے کہ بریگزٹ نقطہ انجام نہیں بلکہ نقطہ آغاز ثابت ہو گا۔

آج سے برطانیہ ایک عبوری دور میں داخل ہو جائے گا جس کا اختتام 31 دسمبر 2020 کو ہو گا۔ ان گیارہ ماہ تک برطانیہ میں یورپی قوانین لاگو رہیں گے اور لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت بھی ممکن ہو گی۔ اس دوران برطانیہ مستقبل میں یورپی یونین سے تعلق کے بارے میں امور طے کرے گا۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے موقع پر برسلز میں اہم عمارتیں برقی قمقموں سے روشن کر دی گئیں۔

بریگزٹ کے مخالفین نے رات گئے لندن میں مظاہرہ کیا اور یورپی یونین کے حق میں نعرے لگائے۔ برطانیہ میں ٹوری حکومت کے زیادہ تراراکین بریگزٹ کے حامی ہیں جبکہ اپوزیشن لیبر پارٹی اس بارے میں منقسم ہے۔ تیسری بڑی جماعت اسکاٹش نیشنل پارٹی بریگزٹ کی یکسر مخالف ہے اور اب وہ برطانیہ سے علیحدگی کے لیے اسی سال ریفرنڈم کرانا چاہتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برطانیہ جمعے کو یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا، یورپی یونین نے بریگزٹ ڈیل کی توثیق کر دی۔

خبر ایجنسی کے مطابق برطانیہ کو یورپ سے نکالنے کی ڈیل کے حق میں 621 اور مخالفت میں 49 ووٹ آئے۔

رواں ماہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا یورپی یونین سے اخراج کا بل دارالعوام سے منظور کرلیا گیا تھا، دارالعوام میں بریگزٹ بل پر رائے شماری میں 330 اراکین نے بل کے حق میں اور 231 نے مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔ جس کے بعد برطانیہ 31 جنوری تک یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے جون 2017 میں ریفرنڈم ہوا تھا، جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 فیصد جب کہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے تھے۔ ریفرنڈم کے ان نتائج پر اس وقت کے بریگزٹ کے مخالف وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY