حکومت چین میں موجود پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کے فیصلے پر قائم

0
873

وفاقی حکومت نے تنقید کے باوجود چین میں پھیلنے والے ہلاکت خیز کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستانیوں کو واپس وطن نہ لانے کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کردیا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں کہا کہ چین میں پاکستانیوں کا بہتر خیال رکھا جارہا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے والے طلبہ کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ افراد کو کورونا وائرس کے شک کے باعث نگرانی میں رکھا گیا تھا تاہم ان میں وائرس نہیں پایا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے حکومتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا اور حکومت سے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

جس پر سینیٹر شبلی فراز نے جواب دیا تھا کہ ’حکومت کا چین سے طلبہ کو نہ نکالنے کا فیصلہ حتمی نہیں اگر صورتحال تبدیل ہوئی تو اس کی بنیاد پر ہم طلبہ کا انخلا کریں گے‘۔

تاہم آج ڈاکٹر ظفر مرزا نے حکومت کے کیے گئے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا پاکستان کے پاس اس وائرس کی تشخیص کی صلاحیت موجود ہے تو میں بتادوں کہ آج شام تک میڈیکل کٹس پہنچ جائیں گی جس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو ہم خود وائرس کی تشخیص کرسکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ آج سے الیکٹرانک میڈیا پر کورونا وائرس سے بچاؤ، احتیاط اور دیگر حوالوں سے آگاہی دینے کے لیے مہم کا آغاز بھی کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس دنیا کے 27 ممالک تک پھیل چکا ہے اور انسان سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وائرس کو ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے جس کے باعث پاکستان ذمہ داری کے ساتھ اپنے عوام اور دنیا کے لوگوں کے لیے وہ اقدام کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی تجاویز اور چینی حکومت کی جانب سے اس وائرس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے ہم اپنے شہریوں کو ووہان نے واپس نہیں بلا رہے۔

معاون خصوصی نے کہا چینی حکومت بھرپور طریقے سے ایسے اقدامات کررہی ہے جس سے ان کے اپنے عوام، دوسرے ممالک کے افراد اور باقی دنیا کے لوگ اس وائرس سے بچ سکیں اور ہمیں ان پر پورا اعتماد ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ باقی ممالک اپنے عوام کو نکال رہے ہیں تو پاکستانیوں کو کیوں نہیں نکالا جارہا ہے، جس پر میں یہی بتایا چاہتا ہوں گا کہ صرف 7-8 ممالک ہیں جنہوں نے اپنے لوگوں کا انخلا کیا یا اس کی درخواست دی

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ووہان کے شہر میں اس وقت 120 ممالک کے شہری موجود ہیں اور وہ بھی چینی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، لہٰذا ہم اس بات کا یقین کرنے کے بعد کہ پاکستانیوں کی بہتر دیکھ بھال ہورہی ہے اور وائرس سے متاثرہ طلبہ کی صحت بہتر ہورہی ہے اب بھی پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ایک طویل نشست میں ساری صورتحال کا جائزہ لیا اور انخلا نہ کرنے کے فیصلے پر قائم رہنے پر اتفاق کیا جبکہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں اس حوالے سے یقین دہانی کروائی گئی کہ دونوں ممالک کی اولین ترجیح پاکستانیوں کی فلاح و بہود ہے اور تمام پاکستانی وہاں موجود ہیں۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ چین سے پروازیں پاکستان کی جانب سے بحال کیے جانے کے بعد آنے والےمسافروں کی کس طرح اسکریننگ کی جائے، انہیں گروپس میں بانٹا جائے اور دیگر معاملات کیے جائیں گے، اس حوالے سے وزارت صحت نے تمام متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ بندی کرلی ہے

ان کا کہنا تھا چونکہ پروازوں سے قبل افراد 14 روز زیر نگرانی رکھے جائیں گے اس لیے پاکستانی مسافروں کے ٹکٹ اور ویزے ایکساپئر ہونے کی صورت میں چینی حکومت کے ساتھ یہ معاملات طے کرلیے ہیں کہ انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے اور کسی کو انفرادی سطح پر اس کے لیے سفارتخانوں میں درخواست نہ دینی پڑے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ ابھی تک پاکستان میں کورونا وائرس کے ایک بھی مریض کی تصدیق نہیں ہوئی، کچھ افراد کو وائرس کے شبے میں زیر نگرانی رکھا گیا تھا لیکن ان میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا جبکہ ان کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ چین میں جن پاکستانی طلبہ میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی ان کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے کیوں کہ ان میں وائرس کی تشخیص ابتدائی مرحلے پر ہی کرلی گئی تھی۔

…………………………………

معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس چین سمیت 15 ممالک میں پھیل چکا ہے جبکہ اس وقت چین میں موجود ہمارے پیاروں کے حق میں یہ سب سے بہتر ہے کہ ان کو وہاں سے نہ نکالا جائے۔

اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘صحت عامہ کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کورونا وائرس سے پریشان ہے اور یہ وائرس چین سمیت 15 ممالک میں پھیل چکا ہے، جبکہ ان ممالک کے جن افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی انہوں نے ماضی قریب میں چین کا سفر کیا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘چین میں کورونا وائرس سے اب تک 170 افراد ہلاک ہوچکے ہیں تاہم بیجنگ حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے ہیں جبکہ پاکستان میں کسی مریض میں اب تک کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن چین میں 4 پاکستانی طلبہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔’

ان کا کہنا تھا کہ چین میں کرونا وائرس کا بہترین علاج ہو سکتا ہے اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کرونا سے متاثرہ چین سے شہریوں کو واپس نہ بلانے کی سفارش کی ہے، جس کی وجہ یہی ہے کہ چینی حکومت نے جتنے بہتر طریقے سے اس وائرس کو ووہان تک محدود کیا ہوا ہے اگر ہم غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کو وہاں سے نکالنا شروع کر دیں تو یہ وبا پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گی۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘ہم اس معاملے پر چین کے ساتھ کھڑے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہاں کی حکومت نے وائرس کی روک تھام کے لیے جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے وہ بہترین ہے اور ہمارا یہ خیال ہے کہ ایک ذمہ دار حکومت اور ہمسایہ ملک ہونے کے طور پر یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ان کے ساتھ چلیں اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں بھی پوری کرتے ہوئے اس بیماری کے پھیلاؤ کا سبب نہ بن جائیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘ووہان میں موجود پاکستانیوں کی حکومت کو بھی اتنی ہی فکر ہے جتنی ان کے اہلخانہ کو ہے، لیکن ہم عجلت میں کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے، حکومت یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ ووہان میں موجود طلبہ اور دیگر پاکستانیوں کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے جس کے لیے دفتر خارجہ اور بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانہ ان پاکستانیوں سے رابطے میں ہے، جبکہ اس وقت وہاں موجود ہمارے پیاروں کے حق میں یہ سب سے بہتر ہے کہ ان کو وہاں سے نہ نکالا جائے۔’

واضح رہے کہ چین میں موجود پاکستانی طلبہ نے مختلف ویڈیوز میں حکومت پاکستان سے ایک مرتبہ پھر مدد کی اپیل کی اور پاکستان واپس لے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ہوبے یونیورسٹی آف آرٹس اینڈ سائنس میں زیرِ تعلیم طلبہ نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بتایا کہ ان کی یونیورسٹی شانگ یانگ کے علاقے میں واقع ہے جو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان سے 2 سے 3 گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔

ویڈیو میں نظر آنے والے طالبہ نے کہا کہ جو وائرس ووہان سے شروع ہوا وہ اس شہر تک پہنچ چکا ہے، ویسے تو پاکستان میں عموماً جو بھی خبر آرہی ہے اس میں ووہان میں انفیکشن سے متعلق بتایا جارہا ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کے ساتھ ہمارا شہر اور یونیورسٹی بھی متاثر ہے۔

طالبہ نے کہا کہ یہاں کے طلبہ کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لے رہا سب یہ کہہ رہے ہیں کہ ووہان میں طلبہ موجود ہیں جبکہ دور دور تک ہماری بھی کوئی امداد نہیں کی جارہی۔

ایک اور ویڈیو میں چین کے صوبہ ہوبے میں موجود پاکستانی طلبہ نے بتایا کہ وہ ووہان سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جنگ ژو شہر میں مقیم ہیں اور اب ان کے شہر میں بھی کورونا وائرس شدت اختیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں پاکستانی طلبہ کے وائرس سے متاثر ہونے کے خدشات موجود ہیں ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ جلد از جلد یہاں سے ریسکیو کیا جائے تاکہ اس لاعلاج بیماری سے بچ سکیں۔

اس سے قبل ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا تھا کہ حکومت چین میں موجود پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔

عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس جیسے چیلنج کا سامنا کرنے والے ملک چین کی ہر ممکن تعاون کے لیے پاکستان تیار ہے، اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے چینی اقدامات قابل تحسین ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY