بنگلا دیش انڈر 19 ٹیم نے بھارت کو فائنل میں شکست دے کر ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ بنگلا دیش نے دفاعی چیمپئن بھارت کو 3 وکٹوں سے ہرایا۔
بھارت نے بنگلا دیش کو 178 رنز کا ہدف دیا تھا۔ میچ کا فیصلہ ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے تحت کیا گیا۔ بنگلا دیش نے بھارت کو شکست دے کر پہلی بار انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ اپنے نام کیا ہے۔
بنگلا دیشی کپتان اکبر علی نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ بھارت کی جانب سے جیسوال کامیاب بلے باز رہے جنہوں نے 8 چوکوں اور 1 چھکے کی مدد سے 88 رنز کی اننگز کھیلی۔ دیگر بلے بازوں میں تلک ورما 38 جبکہ ڈی سی جورل 22 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے۔ ان کے علاوہ کوئی اور انڈین بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکا۔
بنگلا دیش کی جانب سے اویشیک داس نے 3 جبکہ شریف السلام اور تنظیم حسن نے دو، دو جبکہ رقیب الحسن نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔ انڈیا نے پہلے کھیلتے ہوئے سینتالیس اعشاریہ دو اوورز میں 177 رنز بنائے۔
بنگلا دیش کے بلے باز پرویز حسین نے 47 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کپتان اکبر علی نے 43 رنز بنائے۔ بارش کی وجہ سے میچ روکنا پڑا جس کے بعد ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے تحت بنگلا دیش کی ٹیم کو فاتح قرار دیدیا گیا۔
………………..
بھارت نے اوپنرز یشسوی جیسوال اور دیوینش سکسینا کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت انڈر19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 10وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی۔
جنوبی افریقہ کے شہر پوشفسٹروم میں کھیلے گئے انڈر19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کے کپتان روہیل نذیر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو کچھ اچھا ثابت نہ ہوا۔
بھارت کو اننگز کی ابتدا میں ہی اہم کامیابی مل گئی اور محمد ہریرا صرف 4 رنز بنانے کے بعد سوشانت مشرا کی وکٹ بن گئے۔
فہد منیر پوری اننگز کے دوران مشکلات کا شکار نظر آئے اور 16 گیندیں کھیلنے کے باوجود کھاتا کھولنے کی زحمت کیے بغیر ہی روی بشنوئی کو وکٹ دے کر چلتے بنے۔
34 رنز پر 2وکٹیں گرنے کے بعد دوسرے اینڈ پر موجود حیدر علی کا ساتھ دینے کپتان روہیل نذیر آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے اسکور کو بتدریج آگے بڑھانا شروع کیا۔
دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے 62رنز کی شراکت قائم کی لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت ٹیم کی پوزیشن کو مزید مستحکم کر پاتی، یشسوی جیسوال نے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلاتے ہوئے 56رنز بنانے والے حیدر کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔
مشکلات میں گھری پاکستانی ٹیم کو اس وقت ایک اور دھچکا لگا جب قاسم اکرم وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں رن آؤٹ ہو کر پویلین واپسی پر مجبور ہو گئے۔
قاسم اکرم نے شاٹ کھیل کر رن لینے کی کوشش کی لیکن کپتان روہیل نذیر نے ابتدائی طور پر رن کے لیے آمادگی ظاہر کی اور پھر واپس مڑ گئے جس کے سبب دونوں ہی کھلاڑی ایک ہی اینڈ پر پہنچ گئے اور وکٹ کیپر دھروو جیورل نے باآسانی وکٹیں بکھیر کر اپنی ٹیم کو چوتھی کامیابی دلا دی۔
نئے بلے باز محمد حارث نے جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کی اور 15 گیندوں پر 21 رنز بنا کر اسکور کو 146 تک پہنچا دیا لیکن ایک سوئپ شاٹ پر دیوینش سکسینا کے شاندار کیچ نے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔
بھارت کو اگلی وکٹ کے لیے بھی زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور کارتھک تیاگی نے 3رنز بنانے والے عرفان خان کی وکٹیں بکھیر کر اپنی ٹیم کو چھٹی کامیابی دلائی۔
اگلے ہی اوور میں روی بشنوئی نے عباس آفریدی کو چلتا کردیا جنہیں وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں آؤٹ قرار دیا گیا۔
یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کے سبب پاکستان کی رنز بنانے کی رفتار انتہائی کم ہو گئی اور بڑا شاٹ مارنے کی کوشش میں کپتان روہیل نذیر بھی 62رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
کپتان کے آؤٹ ہونے کے بعد بھارت کو پاکستان کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور پوری پاکستانی ٹیم 172رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
پاکستانی بیٹنگ لائن کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخری 6 وکٹیں صرف 26رنز کے اضافے سے گریں جبکہ 8کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔
بھارت کی جانب سے سشانت مشرا 3وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ کارتھک تیاگی اور روی بشنوئی نے دو، دو وکٹیں لیں۔
ہدف کے تعاقب میں بھارتی اوپنرز نے شاندار کھیل پیش کیا اور تمام باؤلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے بغیر کسی نقصان کے ہدف حاصل کر لیا۔
بھارتی اوپنرز نے تمام پاکستانی باؤلرز کو آڑے ہاتھوں لیا اور 88 گیندوں قبل ہی بغیر کسی نقصان کے ہدف تک رسائی حاصل کر کے فائنل میں جگہ بنا لی۔
مین آف دی میچ جیسوال نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 105 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ سکسینا 59رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔












