پیر سید ڈاکٹر بشارت حسین شاہ محمدی سیفی

2
1849

مجھے یاد آ ریا ہے کہ ہمارے پیر و مرشد اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا جنازہ ہمارا فیصلہ کرئے گا اور دنیا کو بتائے گا، اور بالا آخر لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب چار ماہ بعد ان کا جنازہ نکالا گیا تو ان کا جسم مبارک ویسے کا ویسا ہی تھا۔

حاسد دنیا نے سمجھا کہ سورج بجھ گیا مگر اہل دل نے دیکھا کہ سورج کی روشنی تاحد نظر پھیلی ہوئ ہے اور یہ روشنی پیر سید ڈاکٹر بشارت حسین شاہ محمدی سیفی کے کردار و عمل کی روشنی تھی اور اس روشنی کو کبھی زوال نہیں ہوتا۔اسے ہرگز موت نہیں آتی جس کا دل عشق رسول کی تاثیر سے زندہ ہو گیا ہو۔

آپ کے اخلاق عالیہ نے لوگوں کی وہ بری عادتیں بدل ڈالیں جن میں وہ ایک عرصہ دراز سے مبتلا تھے۔ سرکار پیرومرشد سے بچھڑنا ایسا صدمہ نہیں جسے گردش ماہ و سال دھندلا کر دے، یہ داغ تو بے شمار سینوں میں روشن رہے گا۔

تیرے عشق کی کرامت یہ نہیں تو اور کیا ہے۔
کبھی بےادب نہ گزرا میرے پاس سے زمانہ ۔

تحریر ۔سردار محمد عرفان محمدی سیفی
پرنسپل کنگسٹن سکول برائے معذوراں ایبٹ آباد

SHARE

2 COMMENTS

  1. “مجھے میری قبر سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کریں میری قبر میں پانی ہے۔”
    یہ وہ الفاظ تھے جو پیر طریقت رہبر شریعیت اولاد رسول ڈاکٹر سید بشارت حسین شاہ محمدی سیفی نے خواب میں اپنے مریدوں کو آ کر اشارہ دیا ، جس پر چند روز پہلے ان کی قبر کشائ کی گئ ، جبکہ ان کی وفات کے چار ماہ گزر چکے تھے، تو دیکھنے والوں نے ہزارہ کی سرزمین پر ایک ایسی کرامت دیکھی ، ایسی روشن دلیل جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ قبر پانی سے بھری ہوئ ہے اور ڈاکٹر سید بشارت حسین شاہ محمدی سیفی کا جسم مبارک ویسے ہی تروتازہ و شاداب تھا جیسے وہ زندگی میں تھے اور پورے ماحول میں ایک خوشبو سی پھیلی ہوئ تھی۔حالانکہ پانی کی یہ صفت ہے وہ ہر چیز کو ختم اور ضائع کر دیتا ہے۔ مگر یہ ایسے عاشق رسول تھے جہنوں نے اپنی زندگی فنافل رسول میں فنا کر دی تھی۔ نبی کریم کی ذات ہی ان کی زندگی کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام تھا۔ ابوالعطار پیر طریقت رہبر شریعیت سید محمد عبدالقادر شاہ ترمذی وہ مرد جلیل ہیں جن کی صحبتوں سے پیر سید بشارت حسین شاہ محمدی سیفی فیض یاب ہو کر معرفت کے اس عظیم درجے پر پہنچے جہاں جسم بھی فنا نہیں ہوتا ۔آپ اپنے پیرومرشد کی روشن نشانی ہیں۔ یہ اس معاشرے میں جب اخلاقی قدریں زوال پذیر ہو چکی ہوں ایسے میں ایک زندہ اور روشن کرامت ہے۔

  2. JazakAllah khaer.
    Iss may koi shak nahi logo ko in ki Qadar tab aye jub ap apny khaliq haqeeqi say ja mily

LEAVE A REPLY