ان حالات میں گھبرانا تو بنتا ہے مگر مایوس نہ ہوں ۔ارشد قریشی

0
813

دنیا کی سپر طاقتیں جن کے دسترس میں جدید ٹیکنالوجی موجود ہے ۔ چھوٹے غریب ممالک کو ڈراتے دھمکاتے بھی ہیں ۔ لوگوں کو ان کے ممالک میں گھس کر مارتے بھی ہیں ۔ اتحادی افواج کے نام سے جھتے بنا کر کئی ممالک پر لشکر کشی بھی کرچکے ہیں ۔ چاند پر اپنی بہادری جھنڈے بھی لہرا چکے ۔ لیکن ایک ایسے جرثومے کے آگے بے بس ہیں جو اتنا چھوٹا ہے کہ انسانی آنکھ سے نظر بھی نہیں آتا ۔ ایک جرثومہ پوری دنیا کو بند کراتا پھر رہا ہے سب کو بے بس کر رہا ہے ۔ زمین پر نہ جانے کتنے عرصے سے کہاں کہاں مظلوموں کا ناحق خون بہایا جارہا ہے ۔کشمیر ، فلسطین ، شام ، روہنگیا کی طرح نہ جانے کتنے ملکوں میں ظلم کی انتہا کی جارہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں دنیا کا طویل ترین لاک ڈاؤن کیا گیا تو پوری دنیا نے چپ سادھ لی کہ ہمارے ساتھ تو نہیں ہو رہا جب ہماری باری آئے گی تو دیکھیں گے۔ اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کی نافرمانی کی گئی ۔ یہود و نصاریٰ تو کیا ان ممالک نے بھی خاموشی اختیار کرلی جنہیں امتِ مسلمہ اپنا مرکز سمجھتی ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشا فرماتا ہے کہ :
” اور کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور ہمارے لیے اپنے ہاں سے کوئی حمایتی کر دے اور ہمارے لیے اپنے ہاں سے کوئی مددگار بنا دے” سورہ النساء آیت 75

اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی نافرمانی کرنے والی قوموں پر عذاب نازل کیا جس کا زکر قرآن مجید میں موجودہے کسی قوم پر پتھر برسائے گئے، کسی پر چنگھاڑ کا، کسی پر سیلاب کا تو کسی پرشکلوں کے بگاڑ کا عذاب آیا ۔ ہر قوم کو کسی نہ کسی نا فرمانی کی سزا ملی وہ تمام نافرمانیاں بلکہ ان سے بھی کہیں زیادہ نافرمانیاں اس وقت ہم میں موجود ہیں لیکن اُس طرح کے خطرناک عذاب سے ہم محفوظ ہیں ۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب طاعون کی وبا پھوٹی تو رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تین دعائیں کیں ۔ ایک یہ کہ میری پوری امت کسی ایک بیماری کی وبا سے ایک ساتھ ہلاک نہ ہو۔ دوسری یہ کہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن غالب نہ آجائے جو پوری امت کو ایک ساتھ ہلاک کردے اور تیسری یہ کہ میری امت آپس میں لڑ کر ایک دوسرے کو ہلاک کرکےختم نہ ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ نے دو دعائیں ہمیشہ کے لیے قبول کیں اور تیسری دعا کے لیے ارشاد فرمایا میرے محبوب یہ دعا اس لیے قبول نہیں کی کہ ہم اسی سے آپ کی امت کو آزمائش میں رکھیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY