اسلام علیکم ریڈیو پاکستان کے ساتھیو !
آج 31مارچ ہے اور 2سال پہلے آج ہی کے دن ریڈیو پاکستان میں ریفرنڈم ہوا تھا اور اپ نے ووٹ کے ذریعے اپنی من پسند یونین کو ووٹ دے کر منتخب کیا تھا،ریڈیو پاکستان یونٹ / اسٹیشن جو کہ چاروں صوبوں گلگت بلتستان کشمیر و چترال پھیلے ہوئے ہیں اس میں کام کرنے والے ملازم بہت سی مشکلات برداشت کرتے ہوئے اور ناانصافی ستے ہوئے ڈیوٹی سر انجام دے رہیں ریڈیو پاکستان کو 20_12_1972 میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کا درجہ دیا جو ملازم اس سے پہلے تھے وہ ریڈیو کا ہی حصہ رے اور باقی آج تک کے تمام ملازمین کارپوریشن کے ملازم ہیں اسکو 1973 کا ایکٹ دیا جس میں اس ادارے کے ملازمین کے حقوق درج ہیں اب آتے ہیں آج کے مسلے کی طرف پی بی سی انتظامیہ نے ہاؤس ہایرنگ کو بڑے شہروں میں دینے کا زبانی /یا فائل پر منظوری دی اس کا ابھی کوئی آڈر ہمیں نہیں ملا ساتھیوں ہمارے پاس اس کام کو روکنے کے لئے لیبر کورٹ ہے جس لیبر لا کے مطابق ہم ادارے میں یونین ازم۔ کا دم بھرتے ہیں اپ سب کی پریشانی اپنی جگہ لیکن یہ مسلہ انتظامیہ کو حل کرنا پڑے گا کیوں اس کو لاگو کرنے سے انتظامیہ کو وہ حق بھی دینا ہوگا۔۔۔۔ 1۔وہ ملازم جو دوران سروس وفات پا چکے ہیں ان کے بچوں کو ریگولر اس بنیاد پے نہیں کر رہیں کہ اپ سول سرونٹ کے زمرے نہیں آتے اور پی بی سی کے ایکٹ کی شق 12 کے تحت پی بی سی کا بورڈ مکمل اختیار رکھتا ہے تو ان کو ریگولر کرے ۔۔افسوس یہ کیس بھی حل طلب ہے ۔ بیوہ کو پلاٹ دینے کی بات بھی اس کے ساتھ منسلک کر دی ۔ شادی گرانٹ بھی نہ مل رہی ہے ۔۔۔ہاؤس پایرنگ بورڈ نے منظوری دی ہوئی ہے مگر اپ 24مارچ کو ہی فیصلہ کرلیتے ہیں کنٹرولر فنانس اور کنٹرولر ایڈمن کو اپنے آفس بلا کر اپ کو یہ نظر آ گیا کہ۔ریڈیو ملازمین باقی شہروں کی ہایرنگ لے کر بڑے مزے میں ہیں اپ نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا یہ ظلم کیا اور ظلم جب حد سے بڑ جائے تو مٹ جاتا،ہے۔۔۔ساتھیوں اج اللہ نے چاہا تو 31مارچ کے دن سکریٹری انفارمیشن کے سامنے اپ کے اس جائز حقوق کی نہ صرف آواز بلند کروں گا بلکہ اس نے جو ۔۔۔۔پرنسیپل اکاوٹنگ آفیسر ۔۔۔ہونے کی شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ہاؤس ہارنگ کو روک کر ہمیں پیغام دیا کہ جو کرنا ہے کر لو ۔۔اپ فکر نہ کریں اس فیصلے کو واپس ہونا ہے یہ بڑی حکمت سے حل ہوگا۔۔۔۔کچھ دوستوں نے کہا کہ باقی شہروں کے لوگ یہ ہایرنگ اس وقت تک نہ لیں جب تک باقی ملازمین کو نہ ملے میرا موقف یہ ہے اس مین ہمیں ان ملازمین کو امتحان میں نہیں ڈالنا چاہے کیوں آج ہر بندے کے اپنے گھریلوں مسلے ہیں اور مجھے معلوم ہے ہمارے بہت سے دوستوں نے بینک سے قرضہ لیا ہوا وہ ہایرنگ پر بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اس سے آگے میرے لکھنے کی ہمت نہیں ہے ۔۔۔کچھ نادان یہ لکھ رہیں کہ میں میٹرک فیل ہوں اور پڑھے لکھے لوگ اس کے ساتھ کیوں دیتے ہو یہ تو وہ پڑھے لکھے ہی جواب دیں گے یہ پی ایچ ڈی لیڈر موسم دیکھ کر دفتر میں نظر آتے ہیں انشااللہ یہ انگوٹھا چھاپ ہی اس زبانی کیے فیصلے کو واپس کرا کے دم لے گا ۔۔۔۔۔۔۔ جو اہم کاغذ ڈی جی صاحبہ کو ان لوگوں نے دیے وہ انتظامیہ کے پاس نہ تھے تو پھر یہ قصہ کیا ہے اس جرم میں کون کون شریک ہے اس کا آسانی سے پتہ چلے گا ۔۔۔اللہ ہم سب کو اور پورے پاکستان کو اس موذی مرض ۔۔کروناوایرس۔۔سے ۔ہمیشہ بچا کے رکھئے امین صبح سہانی ہی ہوتی ہے مگر ہم صرف سوتے رہتے ہیں ۔اللہ تیرا شکر کہ اج بھی میری آنکھ 5 بجے کھل گئی اور ایک سجدہ کرنے کی تو نے توفیق دی ۔۔۔۔ باقی انشاءاللہ کام ہونے کے بعد خوش رہیں مسکراتے رہیں یوایس او زندہ باد ۔۔۔۔۔زندہ باد ۔۔۔۔۔۔زندہ باد ۔۔۔۔ یوایس او آپکی میری پہچان ہم سب کا مان اور ایک بار پھر ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مشعل ہماری جیت کا نشان ۔۔۔۔۔۔۔
اعجاز احمد . ریڈیو سی بی اے یونین کے سیکرٹری جنرل













