ہم یہ سب کب سیکھیں گے۔۔۔شمس جیلانی

0
864

لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے آخر اپنے گھر کے دروازے اپنے بندوں پر بند کیوں کر دیئے؟ یہ سوال اس لیئے ہے کہ مسلماں اس عقیدے پر پوری طرح ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی پتہ بھی نہیں گرتا “ بظاہر تو یہ حکم کہیں پر بادشاہوں نے دئیے ہیں اور کہیں پر اس پر وزیر اعظم نے دستخط کیئے ہیں۔ یعنی جہاں بھی جو صاحب ِ اختیار تھا اس نے حکم دیا ہے کہ گھر میں بند ہوجاؤ۔ مگر حکم کس کا چلتا ہے ہر مسلمان جا نتا ہے۔ نہ مانے تو اوربات ہے۔ اس کی سنت ہے پہلے وہ وارننگ دیتا ہے پھر اس کا ڈنڈا حرکت میں آجاتا ہے۔ کبھی زلزلے کی شکل میں کبھی طوفان کی شکل میں اور کبھی ایک ننھے سے جرثومے کی شکل میں۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحم واجب کرلیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اب تک دنیا کبھی کی تباہ ہوچکی ہوتی؟ اس لئے کہ آجکل جس دلیری سے دنیا ہر قسم کا گناہ جاری رکھے ہوئے تاریخ عالم میں اسکی مثا ل نہیں ملتی ہے؟چونکہ وہ فرماتا ہے کہ میں کسی کو سزا دیکر خوش نہیں ہوں لہذا انہیں آفتوں سے گزار کر ہر بندہ مومن کے درجات بلند کرتا ہے۔ تو اسی آفت سے نا فرمانوں کو نشان ِ عبرت بھی بنا دیتا ہے۔جیسے حدیث میں ہے کہ مومن کو ایک دن کے بخار کی تکلیف برداشت کرنے پر ایک سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں؟ یہ با کل اسی طرح ہے کہ بعض اوقات کسی چیز کو انسان اپنے لیئے برا سمجھتا ہے لیکن آگے چل کر اسے معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ مصیبت سمجھا تھا وہی اس کے لئے رحمت تھی؟ اب رہا یہ کہ اللہ نے اپنے گھر کہ دروازے کیوں بند کردئے ہیں۔ اس کا جواب مجھے معلوم نہیں تھا اس لیئے کہ اس سے پہلے کبھی تاریخ میں ایسا ہوا ہی نہیں تھا۔ سوچ ہی رہا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے میری مد د فرما ئی اور میری مشکل انکی معرفت حل کردی جن کا نام مسعود ہے اور وہ ہیں بھی اسم بہ مسمیٰ۔ انہوں نے جو مثال مجھے ایک ویڈیو کے ذریعہ بھیجی تھی وہ میرے دل کو لگی۔ چونکہ میری یہ عادت ہے کہ جہاں سے بھی کوئی اچھی بات مل جا ئے تو لے لینا چا ہیئے۔ مگر اسے ہضم کر نے سے پہلے حوالہ ضرور دینا چا ہیئے۔ اس میں وجہ یہ بتائی تھی کہ “ بچہ کو ماں کتنا ہی دھتکارے وہ آتا پلٹ کر اسی کے پاس ہے۔ جب وہ تنگ آجا تی ہے تو اسے کمرے سے نکال کر اپنا دروازہ بند کرلیتی ہے کہ کھڑے رہو باہر؟ چونکہ اللہ سبحانہ تعالی نے اپنی مثال ماں سے دی ہے کہ میں ماں سے بھی ستر گنا زیادہ اپنے بندے پرمہربان ہوں!لہذا اپنی اظہار نا فرمانی کے طور پراپنے گھر کے دروازے بندوں پربند کر لیئے ہیں۔ رہا جرثومہ یہ تو خود اسی کے حکم سے آیا ہے جس پر ہم اپنے گزشتہ کالم میں تفصیلی بات کرچکے ہیں۔
چونکہ ہم ہمیشہ آئینہ دکھا تےآئے ہیں اس لیئے جہاں بھی ہمیں گم شدہ اسلامی تہذیب اور اخوت کا عکس ملتا ہے ا سے پیش کردیتے ہیں تاکہ اوروں کا بھی بھلا ہو؟ واقعہ یو ں ہے کہ لاک ڈاؤن کا پہلا دن تھاامریکہ کے شہر ہوسٹن میں ایک خاتوں کلرک جسے یہاں کی انگریزی میں ٹلرّ کہتے ہیں جب وہ اپنے کاونٹر پر پہنچیں تو حیرت میں رہ گئیں کہ ایک صاحب نے ان کے پاس جا کر خاموشی سے کہا کہ جو پہلا خریدار قطار میں ہے اس کی گروسری کا بل میں ادا کرونگا؟انہیں اس بات پر حیرت تو ہوئی مگر انہوں نے اس کی بات مان لی؟ جب قطار میں جو پہلی خاتون تھیں ان کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنا بل خود ادا کرونگی معاملہ اس پر طے ہوا کہ اپنے بعد والے کسٹمر کا بل وہ ادا کردیں! اور یہ سلسلہ پھر ایک سے دوسرے تک چلتا رہا جب تک وہ قطار ختم نہیں ہوگئی اور پھر وہاں سے وہ نئی قطار کو منتقل ہوگیا۔ چونکہ اس کی شفٹ ختم ہوگئی تھی ،پھر انکو معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ سلسلہ کب تک چلا؟ لیکن اسے پڑھ کر ہماری آنکھوں میں وہ منظر گھوم گیا؟ جب غزوہ احد میں ایک خاتون جو زخمیوں کو پانی پلارہی تھیں۔ پہلے مجاہد تک پہنچیں تو انہوں نے اپنے برابر والوں کو ترجیح دی کہ پہلے انہیں پانی پلائیں، اس کے بعد یکے بعد دیگرے،سات تک یہ سلسلہ چلا جب وہ ساتویں کے پاس پہنچیں تو وہ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ پھر جب الٹے پیروں واپس آئیں تو انہیں پتا چلا کہ بقیہ بھی پیاسے ہی شہید ہوچکے ہیں۔ اس سے ہم پر یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ ہم میں اب ہوں یا نہ ہوں؟ مگر دنیامیں اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔
چلیئے آپکو ایک اور تصویر اور دکھا تے ہیں شاید کسی کے کام آجا ئے۔ لندن میں ایک خاتون انسٹریکٹر جو “ یوگا “ سکھا تی ہیں ان کو ایک پاکستانی ٹی وی پر دکھا یا وہ فرمارہی تھیں کہ “ کرونا کے بعد کا دور ڈیپریشن دور ہو گا اور یوگا سے ڈیپریشن دور ہو جاتا ہے“ جانے کیوں مجھے فوراً نماز اور ذکر اذکار یاد آگئے کہ جن کے بارے میں قرآن میں اللہ سبحا نہ تعالیٰ نے فرمایا کہ “ اللہ کے ذکر سے دل ِ مومن کو سکون ملتا ہے “یہ ہی وجہہ ہے کہ جو لوگ واقعی متقی اور اللہ سبحانہ تعالیٰ پر پورا یقین رکھتے ہیں وہ کبھی ڈیپریشن کا شکار نہیں ہوتے۔ کیونکہ انہیں ہر وقت اس کا جواب ملتا ہے جب وہ ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑے ہو تے ہیں، رکوع اور سجود کرتے ہیں۔ میرے نزدیک دنیا کی سب سے بہتر ایکسر سائز نماز ہے۔ جس کا مجھے عملی تجربہ بھی ہے کہ اس میں عمر میں آپکی خدمت کر رہا ہوں۔ لیکن دنیا یوگا اور ٹائی چی سے واقف ہے مگر نماز کے اس وصف سے واقف نہیں ہے کہ یہ بھی ذکر اللہ کا سب سے بڑا جز ہے اور یہ بھی آخری عمر تک انسان کو چاق اور چوبند رکھتی ہے۔ لیکن اس کے اس وصف کو ئی اس لیئے نہیں جانتا کہ اس کے اس تشہیر کو خود اپنے ہی منع کرتے ہیں۔ کہ “ عبادت کو بس عبادت رہنے دو اس کے تقدس کو پامال نہ کرو“ جبکہ اسلام میں دین اور دنیا الگ نہیں ہیں ہر کام باعث ثواب ہے جو اسلامی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے۔ اصل میں ہر مذہب میں یہ یہ چیزیں کسی نہ شکل میں موجود ہیں اور وہ اگلے مذاہب بھی آئی ہونگی۔ چونکہ پہلے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہمارا دین مکمل ہے! دعویٰ صرف ہم نے کیا کہ وہ ہر طرح سے مکمل ہے۔ جس کے عملی ثبوت میں یہ دلیل پیش کرسکتا ہوں کہ کسی مذہب میں رکوع نہیں تھاتو کسی میں سجدہ نہیں تھا۔ جبکہ ہمارے ہاں سب کچھ موجود ہے اور دنیا میں ہمیں بھیجا عاقبت بنا نے کے لیئے ہے۔ افسوس یہ ہے کہ وہ قوم آج ڈیپریشن کا شکار ہے جس کے پاس اس کا علاج موجود ہے۔ جس سے نہ ہم خود فائدہ اٹھا رہے ہیں نہ اوروں کو فائدہ اٹھانے دیتے ہیں؟ جبکہ حضور ﷺ نے دو الگ احادیث میں ہم سب کو یہ ہدایت دی کہ جھوٹ چھوڑدو سب گناہ چھوٹ جا ئیں گے۔ دوسری میں یہ سبق ہے کہ خلوص کے ساتھ نماز کے پاپند ہوجا ؤ تو پورے اسلام پر عامل ہو جاؤگے؟ اورددنوں بہت ہی مشہور حدیثیں ہیں کہ “ایک صاحب حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اپنے اندر کی تمام برا ئیاں ظاہر کردیں جس پر صحابہ کرام پیچ وتاب کھاتے رہے کہ عجیب گستاخ شخص ہے کے ایسی گندی باتیں حضور ﷺ روبرو بیان کر رہا ہے۔ چو نکہ حضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی وہ ہماری طرح کسی کودرمیان میں نہیں ٹوکتے تھے اور نہ ٹوکنے دیتے تھے حضور ﷺ نے اسے بہت غور سے سنا جب اس نے آخر میں پوچھا کہ میں پہلے کیا چھوڑوں تو ارشاد فرمایا کہ “جھوٹ “دوسرے دن وہ آیا تو واپس چلاگیا، کہ اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر میں جھوٹ بولونگا تو حضور ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہو جا ئے گا۔ اس ڈر سے دوسرے دن وہ سب کچھ چھوڑ کر سچ بولنے آیا۔ اس طرح اس نے صرف جھوٹ سے ہی نہیں بلکہ ہر گناہ سے توبہ کرلی؟ دوسری حدیث یہ ہے کہ کچھ لوگ حضور ﷺ کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہو ئے تو کہنے لگے کہ ہم آپ کو نبی ﷺ مانتے ہیں، صادق اورامین مانتے ہیں۔ مگر ہم تین کام نہیں کریں گے۔ باقی سب کریں گے۔ ایک نماز نہیں پڑھیں گے۔ دوسرے زکاۃ نہیں دینگے اور تیسرے جہاد نہیں کریں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا باقی تم دو کام مت کرو، مگر نماز پڑھنا پڑیگی؟ انہوں نے آپس میں مشاورت کی اور واپس آکر کہا کہ ہمیں منظور ہے۔ جب وہ واپس چلے گئے تو صحابہ کرام ؓ سے حضور (ص) فرمایا کہ تم دیکھنا کہ نماز کی برکت سے یہ سب کچھ چھوڑ دیں گے “ کیونکہ نماز اگر خلوص دل کے سا تھ ادا ہو تو تمام برا ئیوں سے روکتی ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ حضور ﷺکے ارشادات پر عمل کرنے کی ہم سب کو تو فیق عطا فر ما ئے(آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY