عدالتوں کا محاسبہ ضروری ہے. اور کیوں؟ سلیم کاوش

1
313

کسی بهی سینئر جج کا بائیو ڈیٹا کچهہ یوں ہوتا ہے .
بی اے
ایل ایل بی
ایل ایل ایم
لاء آفس میں ٹرینی
لاء آفس میں اسسٹنٹ
ذاتی پریکٹس
ناکامیاں
کامیابیاں
بار اور اس کی سیاست
کورٹس
کہیں سیشن جج
ترقیاں
ہائی کورٹ کا جج
ہائی کورٹ کا چیف جسٹس
سپریم کورٹ کا جج
سپریم کورٹ کا چیف جسٹس

میرا دل اور عقل نہیں مانتے کہ ان کا یہ طویل سفر کرپشن اور نا انصافی سے پاک ہو.
کہیں نہ کہیں یہ نا انصافی کے مرتکب ، معاون یا گواہ ضرور رہے ہوں گے.
اگر کوئی ایسا ہے تو اس کا نام یہاں ضرور بتائیے جو بی اے س لیکر چیف جسٹش کے عہدے تک شفاف ہو.
پهر ہم عدالتوں پر اندها اعتماد کیوں کرتے ہیں .
جب یہ جسٹس ریٹائرڈ ہو کر صدر، گورنر یا سینیٹر وغیرہ بن کر کسی سیاسی شعبدہ باز اور کرپٹ چور کی نمائندگی کرتے ہیں
یا حکومتی سطح پر بدعنوانی کی بنیاد پر توڑی جانے والی اسمبلیاں اور وزرائے اعظم کو بحال کرواتے وہ بهی آئین کی کمزوریوں کی وجہ سے تو کیا ان کا ضمیر ملامت نہیں کرتا؟

کرپٹ وزیر اعظم کی حکومت کا وکیل رہنے والا اسی حکمران کو مقدمے کے بعد پهر اسے کرپٹ کہہ رہا ہو تو وہ وکیل ، بیرسٹر اور جج کہاں تک منصف ہوتا ہے.
آئین شکن کا ساتهہ دیا، آئین شکن سے نقصان لیا، توبہ کی، گڑگڑایا اور بحال ہوا .. پهر بهی انصاف کا بول بالا نہ کر سکا. وہ کتنا شفاف اور نیک ہو سکتا ہے؟
بدعنوان حکمرانوں کی سفارشوں پر یا منظور نظر ہونے پر تقرریاں کروانے والے یہ جج کہاں منصفی کے لائق ہیں.
یہی جب کالا کوٹ پہن کر منصف کے منصب پر بیٹهتے ہیں تو ہم انہیں اورتار، بے داغ اور نعوذ باللہ نبی تک جتنی عزت اور مقام دیتے ہیں.
کیا ہم اپنے اور اپنے حقوق سے انصاف کر رہے ہوتے ہیں؟
نہیں!
کیا ہم انہیں عدل عمر کا نمونہ پاتے ہیں ؟ .. نہیں
کیا ہم ان کے حضور ایک بدو بن کر اور انہیں منصب عمر کے تناظر میں سوال کر سکتے ہیں ؟.. نہیں

تو پهر یہ لوگ منصف نہیں نہ ہی یہ کبهی عدل کر سکتے ہیں.
عدالتوں پر اندها اعتماد ختم کرنا ہو گا ..
اسی میں انصاف اور سچے منصف کی عظمت کا راز پوشیدہ ہے.

(سلیم کاوش)

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY