حرمت یزید کانفرنس اور وہ بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ۔ڈاکٹر نگہت نسیم

1
1860

آج دل جس قدر اداس ہے اس سے زیادہ صدمہ اور غصہ بھی ہے ۔بے چینی میری ذات کی ہے ۔ صدمہ اس بات کا ہے کہ اکسٹھ ہجری کے بعد ہم آج بھی کربلا میں کھڑے ہیں اور مام حسین علیہ السلام کے استغاثے کی صدا سن رہے ہیں
“ ہے کوئی جو میری مدد کو آئے “ ۔

غصہ بلکہ شدید ترین غصہ اس بات کا ہے کہ ایک مسلکی جماعت نجانے کس کے اشارے پر اس شہر میں “ حریت یزید کانفرنس “ کا اعلان کر چکی ہے جس میں اسلام کے نام پر پاکستان بنانے والے کا مزار مبارک ہے ۔ ایک ایسے صوبے میں جس پر الزام ہے کہ یہاں درپردرہ شعیوں کی حکومت ہے ۔ آصف زرداری شعیہ ، سندھ کاوزیر اعلی “ مراد علی شاہ “ شعیہ ، وزیر داخلہ “ ناصر شاہ “ شعیہ اور بہت سے دوسرے لوگ بھی شامل ہیں ۔ لیکن یہ مسلہ شعیہ سنی کا تو ہے ہی نہیں ۔ یہ مسلہ تو یزید کے چاہنے والے اور حسین سے محبت کرنے والوں کا ہے ۔

اسلام کے نام پر حاصل کی جانے والی مملکت میں “ حرمت یزید کانفرنس “ کا سوچ کر ہی جیسے سانس رکنے لگتا ہے ۔ کیا مسلمان سیاست کرتے ہوئے ایسی پستی میں آگئے ہیں کہ رسول ص اور آل رسول ع کو بھی استعمال کرنے لگ گئے ہیں ۔ میں جانتی ہوں کہ پچانوے فیصد سے زیادہ اہل سنت عاشقان حسین ہیں اور وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ نعوز باللہ یزید بن معاویہ بن ابو سفیان کو کسی ایک رخ سے بھی سوار دوش رسول ص پر فوقیت یا ترجیع دیں ۔ یا پھر حرمت یزید جیسی کانفرنس کرنے والوں کے ضمیر اتنے مردہ ہو گئے ہیں کہ انہیں خود اپنا روحانی تعفن محسوس نہیں ہوتا یا معاشرہ اتنا بے حس ہو گیا ہے کہ وہ ایسے جرم کو خاطر میں نہیں لاتا اور صدائے احتجاج بلند نہیں کرتا۔ ملک کا عدالتی فرسودہ نظام ایسے واقعات کی طرف توجہ دینے سے قاصر ہے ۔ سیاستداں آپس میں ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں ، عوام روزانہ جینے کے لئے کسی بہانے کی تلاش میں ہیں ، سرکاری مشینری صرف اپوزیشن کے درپے ہے ، زرائع ابلاغ خفتہ ضمیری کی ایک الگ مثال ہیں ، شاعروں ادیبوں کی ایک بہت بڑی تعداد اندھی گونگی بہری ہے ۔ ایسے میں وہ دوچار لوگ جو ایسے حادثات پر زبان کھولتے ہیں پاگل دیوانے اور سنکی کہلاتے ہیں ۔۔ اور تو اور قریبی دوست احباب انہیں مشورہ دیتے ملتے ہیں کہ “ درگزر کرو“ ۔

سوچ رہی ہوں کہ کتنی حدیثیں اور واقعات لکھوں کہ اللہ کے آخری رسول ص نے خاتون جنت کے جگر گوشے علی ع کی آنکھ کے نور اور اپنے دلبند امام حسین علیہ السلام کی حقانیت کے لئے کیا کیا کہا اور کیا کیا عملی طور پر کر کے بتایا۔ سنی شعیہ کتابیں ان احادیث اور واقعات سے بھری پڑی ہیں ۔ اور کوئی بھی حلال زادہ ایک لمحے کے لئے ان پر شک نہیں کر سکتا لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ایسی تمام احادیث فرمودات اور واقعات کا نچوڑ صرف دو چیزوں میں ہے ۔ پہلا اللہ کے رسول کا یہ فرمان کہ “ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے “ اور دوسرا مسجد نبوی کے دوران پیش آنے والا وہ واقعہ ہے جب سجدے کی حالت میں حضور کی پشت پر امام حسین سوار ہو گئے ، اللہ پاک کے نبی ص نے امام حسین ع کو کمر سے اتارنے کی بجائے اپنے سجدے کو طول دے دیا۔ اور یہ واقعہ ان صحابیوں نے بھی دیکھا جن کی اولادیں کربلا کے میدان میں یزید کی فوج میں امام حسین ع کے مدمقابل تھیں ۔

کربلا اسلام کی خونچکاں تاریخ کا ایسا باب ہے تا روز قیامت امام حسین ع کے اس ایک جملے کی بنیاد پر کھڑا ہے جو انہوں نے یزید کی بعیت کے تقاضے کے جواب میں یہ کہہ کر دیا تھا “ مجھ جیسا تجھ جیسے کی تاروز محشر بعیت نہیں کرے گا“ اور کتنے ہی آئمہ نے یزید اور امام حسین ع کے درمیان یہ کہہ کر فیصلے کی لکیر کھینچ دی کہ “ ہر سرزمین کربلا ہے اور ہر روز روز عاشور ہے “ ۔ ہم اور آپ اپنی اپنی کربلا میں کھڑے ہیں اور عصر عاشور کا سورج ہمارا امتحان لے رہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں “ حریت یزید کانفرنس “ کروانے والے یہ لوگ کن کی اولادیں ہیں ۔ یزید کی جس کا شجرہ نسب معاویہ سے ابوسفیان تک اور جگر خور ہندہ تک جاتا ہے یا پھر امام حسین ع تک کہ جن کا پاکیزہ شجرہ نسب باب شہر علم مولا علی ع اور دنیابھر کی جنتی خواتین کی سردار سیدہ فاطمہ سلام اللہ سے ہوتا ہوا اللہ پاک کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آ ملتا ہے ۔

میں سوچتی ہوں کہ آل رسول ع کی اس سے بڑی مظلومیت کیا ہو گی کہ حرمت یزید کے حامی شفاعت رسول کے بھی طلبگار ہیں ۔۔اور انہیں اس جنت میں بھی جانے کا یقین ہے ، جس جنت کے سردار اللہ کے رسول کے مطابق امام حسن ع اور امام حسین ع ہیں ۔۔

آخری بات مجھے اس طبقے سے کہنی ہے جنہوں نے ہمارے ملک میں دین کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔۔میلاد کی محفلوں میں لہک لہک کر درود پڑھنے والے ۔۔عزا خانوں میں امام حسین ع کی مظلومیت کے نوحہ خوان ۔۔مساجد کے ممبروں پر لمبے لمبے چوغے پہن کر اور سروں پر ندامت کی دستاریں سجائے ، حسن سلوک کا درس دینے والے اور سچ کی حمایت کا واعظ کرنے والے ایسے سارے حسین دوست شعیہ سنی کہاں روپوش ہو گئے ہیں کہ اس یزیدی فکر کے خلاف ایک لفظ احتجاج کا بولنے کے لئے ان کی زبانیں لکنت زدہ ہو چکی ہیں ۔

اگر یہی صورتحال رہی اور حکومت وقت نے پیش از وقت کوئی ایکشن نہ لیا تو یہ ملک جو پہلے ہی ہر رخ سے مصائب میں گھرا ہوا ہے ایک بار پھر مسلکی جنگ کا میدان بن جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کیا اس انتظار میں کہ دو چار سو لاشیں گریں اور پھر انتظامیہ حرکت میں آئے ۔

کیا واقعی
یہ باعث حیرت نہیں ہے
کہ
“ حرمت یزید کانفرنس “
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہر کراچی ہی میں ہو رہی ہے ؟

نگہت میں سوچتی ہوں کہ عاشق یزید کے

کس منہہ سے ہونگے حشر میں پیشِ رسول وہ

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. ذکر حسین سے پھر تجھے تکلیف کیوں نہ ہو۔
    باقی جو تجھ میں اب بھی ہیں صفتیں یزید کی۔
    اشفاق۔

LEAVE A REPLY