مسلم اکثریتی ملک تاجکستان میں بھی خواتین کے نقاب کرنے پر پابندی لگادی گئی۔

وسطی ایشیائی ملک تاجکستان میں نئی قانون سازی کی گئی ہے جس کے تحت عوام کو ملک کا روایتی لباس پہننے اور قومی ثقافت سے جڑے رہنے کا پابند بناتے ہوئے اسلامی لباس پہننے کی ممانعت کی گئی ۔

تاجکستان میں عموما خواتین حجاب یا نقاب نہیں کرتیں بلکہ سر کے پچھلے حصے پر رومال باندھتی ہیں جبکہ اسکارف سر سے تھوڑی تک باندھا جاتا ہے اور نقاب میں آنکھوں کے سوا پورا چہرہ چھپ جاتا ہے۔

تاجکستان کے وزیر ثقافت شمس الدین نے اسلامی لباس کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی حجابی خواتین کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ انہوں نے اپنے حجاب میں کوئی چیز نہ چھپائی ہو۔ حجاب والی خواتین کے سرکاری دفاتر میں داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY