قطر، عرب اتحاد کا حصہ بنے۔ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک

0
117

سیاسی پنڈتوں نے ایک مرتبہ پھر چلانا شروع کر دیا ہے کہ دو ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب سے خطہ خلیج میں فرقہ وارانہ تقسیم گہری ہو گئی ہے۔ نتیجتاً رواں ہفتے قطر کے خلاف تادیبی کارروائی کے طور پر سات ملکوں نے دوحہ سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔ یہ امرحقیقت کے خلاف ہےکیونکہ جو کچھ ہوا، وہ خلیج تعاون کونسل یا اس سے بڑھ کر ایک عرب معاملہ ہے۔
ریاض سربراہی کانفرنس ایران اور انتہا پسندی کے خلاف عزم کا اظہار اور ایک پلیٹ فار م تھی۔ اس میں ہونے والے عدیم النظیر اجلاسوں کی روشنی میں اب دہشت گردی کو مالی معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاون سمیت متعدد دوسرے نئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
قطر کے خلاف تادیبی کارروائیوں کی شدت اس بات کی متفاضی ہے کہ دوحہ خلیج تعاون کونسل کے حوالے سے اپنا قبلہ درست کرے۔ خلیج تعاون کونسل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تنظیم کے تین رکن اور دیگر ملکوں نے ملکر کسی عرب ملک کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اس کا ناطقہ بند کیا اور سعودی عرب اور اتحادی ملکوں میں مقیم قطری شہریوں کو چودہ دنوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
جی سی سی رکنیت کے تقاضے؟
قطر اس وقت جی سی سی کی رکنیت کے تقاضے جاننے کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اس پر یہ حقیقت بھی آشکار ہو رہی ہے کہ ’بد سے بدتر‘ طاقتوں سے ہاتھ ملانے پر دوحہ کومتبادل عرب علاقوں میں کیا نقصان اٹھانے پر سکتے ہیں۔سنگین علاقائی ضروریات کے تناظر میں یہ ناخوش گوار، مگر ناگزیر اقدامات تھے۔ اندریں حالات کویت مصالحت کار کا کردار ادا کر رہا ہےجو بلا شبہ مذاکرات کے لئے ضروری راستہ ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کی خاطر اسلامی اتحاد، عرب نیٹو یا پھر مڈل ایسٹ ٹریٹی آرگنائزیشن [METO] کی تشکیل کی سمت بڑھنے سے پہلے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ضرورت محسوس کی کہ مشرق وسطی میں جاری تین خانہ جنگیاں اور عرب۔اسرائیل تنازع کو نئے عرب اقدامات کے ذریعے حل کرنے سے پہلے قطر کو سدھارا جائے۔
اسی لئےسعودی عرب اور اس کے بعض اتحادی قطر کے خلاف سخت تادیبی اقدامات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی باغیوں، بحرین کی شیعہ ملیشیا، القاعدہ ، داعش اور توسیع پسند عزائم کےحامل ایران کو نشانہ بنانے کے لئے خلیج تعاون کونسل کا متحد ہونا اہم تقاضہ ہے۔
مثبت رویہ
سعودی عرب اور اس کے اتحادی سمجھتے ہیں کہ قطر کے سابقہ رویہ کی وجہ سے یہ امر مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مقامی اور علاقائی مسائل سے نپٹنے کے لئے ہم خیال عرب ریاستوں کا اتحاد کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ دوحہ اس میں مثبت عرب اکائی کا کردار ادا کرے۔
یمن میں جاری’بحالی امید آپریشن‘ میں قطری فوج کی شرکت کا کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا تھا، جس کی وجہ سے دوحہ کو عرب اتحاد کے پلیٹ فارم سے کیے جانے والے اس آپریشن سے نکال دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے خیال میں عبوری دور میں دوحہ کے خلاف عائدسخت زمینی، فضائی اور سمندری پابندیوں کا جی سی سی کی مجموعی معیشت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا، تاہم ان سے قطر کی معیشت بری طرح متاثر ہو گی۔ دو ہزار سولہ کے دوران خلیجی ملکوں کے ساتھ قطر کا تجارتی حجم 11ارب ڈالرز تھا۔ یہ حجم قطر کی عرب ملکوں سے تجارت کا 86 فیصد جبکہ عالمی ٹریڈ کا 12 فیصد حصہ بنتا ہے۔
قطر کی متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین کے ساتھ مجموعی تجارت کا حجم 85 فیصد بنتا ہے جبکہ سلطنت آف عمان اور کویت کے ساتھ دوحہ کی تجارت کا حجم 15 فیصد رہتا ہے۔ قطر کے برآمدی شعبہ کو ان پابندیوں سے سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ قطر کی عرب دنیا کے ساتھ برآمدی تجارت کا حجم 80 فیصد جبکہ صرف تین جی سی سی رکن ملکوں کے ساتھ 86 فیصد ہے جبکہ کویت اور عمان کے ساتھ دوحہ کی برآمدی تجارت کا حجم صرف 14 فیصد ہے۔
صاف ظاہرہے کہ جی سی سی ملکوں کی معیشت کی پائیداری قطر پر عاید پابندیوں کا لٹمس ٹیسٹ ہو گی۔ اسی لئے دوحہ کی لائف لائن کو دباؤ میں لایا جا رہا ہے تا کہ تنازع جلد از جلد حل ہو سکے۔
اس امر کو یقینی بنانے کے لئے سعودی عرب اور اتحادیوں نے قطر کے خلاف پابندیاں بڑے زیرک طریقے سے لگائیں ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی توانائی کے شعبے کو ایک پریشر پوائنٹ ضرور سمجھتے ہیں تاہم اس کارڈ کو کھیلتے ہوئے انہوں نے مشرقی ایشیا میں دوحہ سے جانے والی مائع قدرتی گیس سے مستفید ہونے والے ملکوں سے اپنے تعلقات کو خراب ہونے سے بچایا ہے کیونکہ جاپان نے جی سی سی ملکوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس بات کا خیال سرمایہ کاروں اور عالمی منڈی کو قطر کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں کے مقاصد باور کرانے کے لئے خصوصی طور پر رکھا گیا ہے۔
ایرانی تعاون کی پیش کش
قطر کے اگلے اقدامات اہم ہوں گے۔ ایران اور دوحہ کی سمندری سرحدیں ملتی ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران نے قطر کو اشیائے خورنی کی فراہمی کے وعدے کئے ہیں۔ اگر قطر، ایران کی پیش کش قبول کر لیتا ہے تو یہ بات سعودی، بحرینی اور اماراتی صبر اور نتائج کا امتحان ہو گی۔
قطر کے خلاف لگائی جانے والی پابندیاں انہی مقاصد کے حصول کی خاطر تین بر س قبل تجویز کی جانے والی فہرست میں سے لی جا رہی ہے۔ان پابندیوں میں آدھی سے زائد ایسی ہیں کہ جو سعودی عرب اور اتحادیوں کی اپنی ٹول کٹ میں موجود ہیں۔ جی سی سی کے واقف حال کا کہنا ہے کہ ’ایران سے اشیائے خورنی کی فراہمی دوحہ کو پابندیوں کے مضر اثرات سے بچا نہیں سکے گی۔‘
ساری صورتحال کو ایک مظالعہ نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ سعودی عرب اور اتحادی قطر کے خلاف لگائی پابندیوں کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہیں خواہ یہ پابندیاں کئی ماہ تک جاری رکھنا پڑیں۔ قطر بھی حقیقت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے موجودہ ایجنڈے کو ترک کرے اور ایسے اقدامات کے لئے آمادہ رہے جو خلیج تعاون کونسل کے اتحاد کی ضمانت فراہم کریں۔
اگر دوحہ تبدیلی کے لئے اپنے سخت رویہ کو برقرار رکھے تو مزید سزا کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY