دسمبر31, 2019 کی صبح
میٹنگ
گاڑی پارکنگ میں لاک کرتے ہوئے
میں نے اطراف میں دیکھا کوئی گاڑی جانی پہچانی نہ تھی
بے اختیار اپنے وارڈ کے داخلی دروازے کو دیکھا
غیر معمولی سی چہل پہل تھی
سیکیورٹی گارڈ “ جون “ بھی الرٹ تھا
اندر ریسیپشن پر مینجمنٹ کے لوگ کھڑے تھے
ایمر جنسی میٹنگ بلائی گئی تھی
ڈاکٹرز آن ڈیوٹی کا انتظارہو رہا تھا
ابھی ساڑھے آٹھ نہیں بجے تھے
اور میٹنگ نو بجے ہونا قرار پائی تھی
آہستہ آہستہ میرے ساتھی ڈاکٹرز جمع ہوگئے
آنکھوں ہی آنکھوں میں
ہر ایک کی آنکھوں میں جیسے بےشمار سوال تھے
میٹنگ شروع ہو گئی
ڈاکٹر ” ایڈورڈ ” بتا رہے تھے
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پیغام بھیجا ہے
چین کے شہر ووہان میں ایک نیا وائرس آیا ہے
جس کا کوئی نام نہیں ہے
کورونا خاندان سے تعلق ہے پر نیا ممبر ہے
یہ وائرس کیا تباہی لائے گا، کچھ خبر نہیں ہے
مجھے یاد ہے میٹنگ میں
ہم سب حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
اور دل ہی دل میں ہنس رہے تھے
ایک وائرس ہی تو ہے ۔۔۔ اتنی اہمیت کیوں ؟
# # #
دسمبر31, 2019 کی شام
نیو ایئر ایو
( New Year Eve )
دو ہزار انیس کی آخری شام بھی رات میں بدل رہی ہے
اف خدایا یہ سال کتنا ہی کچھ لے گیا
کوئی جانے یا نہ جانے
زمین جانتی ہے اس پر سانسیں کتنی بار تنگ ہوئی ہیں
برازیل میں ایمیزون کے بارانی جنگلات
اگست سے آگ میں جھلس رہے ہیں
لوگ کہہ رہے ہیں
کسانوں کی لاپرواہی سے آگ دہکی ہے
زمین کا وہ حصہ دسمبر کی آخری شام تک جلتا رہا
اور یہاں میری زمین جل رہی ہے
آسٹریلیا میں 100 سے زائد جگہوں پر آگ لگی ہوئی ہے
لوگ کہتے ہیں یہ موسمی آگ ہے
پر ایسی آگ پہلے تو کبھی نہ برسی تھی
بھلا ایسا کب ہوا ۔۔۔ جو اس بار ہوا
4.9 ملین ہیکٹرز جنگلات تباہ ہو گئے
آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بلین جانور نذر آتش ہو ئے
تین ہزار عمارتیں ملبہ ہو گیئں
اپنے پرائے زندہ تھے کہ مردہ ، کچھ پتہ نہ چلا
دھویئں میں لپٹا آسمان ۔۔۔ ہواؤں میں رچی دھونی
ہائے ۔۔۔۔۔۔
اس موسمی آگ نے تو زندگی کا حسن ہی چھین لیا
آسٹریلیا کے کئی شہروں میں ایمر جنسی نافذ ہے
پھر بھی ۔۔
نیا سال اپنی آب و تاب سے آنے کو بے قرارہے
نیو ساؤتھ ویلز میں سڈنی ہاربر پر
فائر ورکس کا آخری رقص شروع ہونے کو ہے
چینل سیون کی اینکر ہجوم کو بتا رہی ہے
” ہماری دنیا میں
نئے سال کے جشن کا آغاز ہو چکا ہے
نیوزی لینڈ سے شروع ہونے والا یہ جشن اس وقت روس کے جزائر میں ہو گا
وہاں سے آسٹریلیا اور پھر جاپان جائے گا
پھر جنوبی کوریا سے شمالی کوریا، فلپائن اور انڈونیشیا میں ہوگا
پھر تھائی لینڈ، میانمار، بنگلا دیش، نیپال، سری لنکا جائے گا
اور ۔۔ پھر بھارت سے ہوتا ہوایہ سال 2020 پاکستان پہنچے گا”
میں ٹی وی کے سامنے دم بخود بیٹھی ہوں
اسکرین کے دایئں جانب نئے سال کے رنگ بکھر رہے ہیں
بایئں جانب برازیل اور آسٹریلیا میں آگ دہک رہی ہے
نیچے ٹیکر پر کرونا وائرس کے وبا کی خبر چل رہی ہے
پھر ۔۔۔ ٹیکر پر دوسری خبر چلی
” اس سال چین میں نئے سال کا جشن نہیں ہوا ”
ٹیکر پر اب نئی خبر چل رہی ہے
” سڈنی میں آگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے
ساحلی علاقوں میں ہزاروں لوگ
خوف سے اپنے اپنے گھروں سے نکل پڑے ہیں
ٹریفک جام ہے ۔۔۔ عام اشیاء اور دواؤں کی قلت ہے ”
مین اسکرین پر اب سڈنی ہاربر کے ساحل پر
1.6 ملین ہجوم کے سامنے 6.5 ملین ڈالر کا فائر ورکس جاری ہے
اینکر کہہ رہی ہے
ایک ملین ڈالر موسمی آگ کی چیرٹی فنڈ میں جمع ہو گا
ملین ڈالر کی ہمدردی ۔۔۔اف۔۔۔ اتنی بے حسی ؟
دل میں کئی سوال کنڈلی مارے بیٹھے ہیں
یوں لگ رہا ہے ۔۔۔ جیسے
زمین کے پھیپھڑوں میں لگنے والی یہ آگ
بےزبان درختوں اور جانوروں کے خون کا بدلہ لے گی
اس بار ۔۔۔۔ انسانوں کو نگل لے گی
اف ۔۔ میرے خدا
کہیں کرونا وائرس اُسی بدلے کی کوئی کڑی تو نہیں ؟؟














Excellent message
My dear friend ❤️
عزیزی دوست جہان آرا
پسندیدگی کے لئے دل سے ممنون و سپاس گزار ہوں
امید کرتی ہوں آنئدہ بھی نظر نوازی رہے گی
بہت محبتیں