لاہور کی احتساب عدالت نے جنگ، دی نیوز اور جیو کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمٰن سمیت تمام ملزمان کو پرائیویٹ پراپرٹی کیس میں باعزت بری کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں نومبر 2020ء میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایڈیٹر انچیف جنگ جیو میر شکیل الرحمٰن کی 34 سال پرانےنجی پراپرٹی کیس میں ضمانت منظور کی تھی۔
درخواست ضمانت کیس کے دوران جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا تھا کہ یہاں لاء افسروں کو بھی اضافی زمین اسی قیمت پرملی، انکےخلاف نیب کامقدمہ بنا؟
میر شکیل الرحمٰن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے موکل پر قومی خزانے کو ایک پینی کا بھی نقصان پہنچانے کا الزام نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہی دن وارنٹ جاری کیے اور اسی روز منظوری دی گئی، نیب نےسابق ڈی جی ایل ڈی اے،ڈائریکٹرلینڈ سمیت کوئی ملزم گرفتار نہیں کیا۔
جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ یہ بہت افسوس ناک کہانی ہے، کیا صوبے کو کوئی نقصان ہوا؟
وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایل ڈی اے میر شکیل کے خلاف شکایت کنندہ ہے نہ اس نے کوئی کارروائی کی،اس جگہ ایل ڈی اے سے نقشہ منظور کروا کے مکان بنایا،ایل ڈی اے نے واجبات نہیں مانگے، الزام لگایا 4 کنال12 مرلے اضافے زمین کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے مطابق نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ اضافی زمین کی قیمت 1987 میں ادا کردی گئی تھی، 34 سال بعد نوٹس جاری کرکے میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان پر گلیاں پلاٹ میں شامل کرنے کا الزام ہے جس پر وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ جن کو یہ گلیاں کہتے ہیں یہ وہی اضافی لینڈ ہے، اس وقت 1986 میں گلیاں تھیں ہی نہیں، کھیت کھلیان تھے، ماسٹرپلان1990میں منظورہوا،1987 میں گلیاں پلاٹ میں ڈالنےکا الزام کیسےلگایا جاسکتا ہے؟
جسٹس یحییٰ نےنیب پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ میرشکیل نے جو دستاویزات دکھائیں یہ درست ہیں یا غلط؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ میر شکیل الرحمٰن کی دستاویزات درست ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے پھر سوال کیا کہ بتائیں پھر آپ نے دوسرے لوگوں پر نیب کا ریفرنس کیوں نہیں بنایا؟ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مارکیٹ ریٹ کا تعین بعد میں کیا گیا۔
جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اس وقت کسی اور سے بھی مارکیٹ پرائس لی گئی؟ کیا آپ نے کسی اور کو بھی نوٹس دیا کہ وہ اضافی رقم دے؟ نیب پراسیکوٹر نے جواب دیا کہ ریکارڈ سے ایسا ثابت نہیں ہوتا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے پھر سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ کیا ہم اس درخواست ضمانت پر فیصلہ جاری کریں؟
جسٹس یحییٰ آفریدی نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا آپ درخواست ضمانت کی مخالفت نہ کریں۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم لکھ کر دے دیتے ہیں کہ درخواست ضمانت کی مخالفت نہیں کرتے












