فروری7 , 2020
کورونا محاز پر پہلے مسیحا کی شہادت !

میرے ہم منصب
چونتیس سالہ ڈاکٹر لی وین لینگ
ووہان سینٹرل ہسپتال کے ماہرِ امراض چشم
کیا غضب کی نظر رکھتے تھے
یہ وہی مسیحا تھے
جنہوں نے دسمبر کی 30 تاریخ کو
اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو مشترکہ گروپ میں خبردار کیا تھا
بتایا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ایسے سات مریض دیکھ چکے ہیں
جو سارس جیسے کسی وائرس کے اثر میں لگتے ہیں
اور اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا تھا
وہ متاثرہ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے
حفاظتی دستانے اور حفاظتی گاؤن ضرور پہنیں
اس پیغام کے پھیلتے ہی
چار دنوں بعد
ڈاکٹر لی وین کو پبلک سکیورٹی بیورو کے دفتر حاضر ہونا پڑا
ان پر الزام تھا
وہ غلط قسم کی افواہوں سے شدید نقص امن کے مرتکب ہو رہے ہیں
انہیں متنبہ کیا گیا
” اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں کٹہرے میں لایا جائے گا ”
تحریر کے نیچے ڈاکٹر لِی وین نے دستخط کر دیئے
اور یہ بھی لکھا
” ‘جی میں سمجھ گیا ہوں ”
ڈاکٹر لی وین ان آٹھ افراد میں سے ایک تھے
جنھیں ’افواہیں پھیلانے‘ کے الزام میں تفتیش کا سامنا تھا
یہ جنوری کے ابتدائی ایام تھے
جب دنیا بھر میں کوئی نہیں جانتا تھا کیا ہونے والا ہے
ووہان کے حکام بضد تھے
یہ وائرس صرف ان لوگوں میں پھیل سکتا ہے
جو براہ راست گیلے بازاروں میں کام کرتے ہیں
پھر ٹھیک ایک ہفتے کے بعد
ڈاکٹر لِی وین ووہان ہسپتال میں
کالے موتیے کا شکار ایک خاتون کا علاج کر رہے تھے
وہ نہیں جانتے تھے خاتون کورونا وائرس کی متاثرہ ہیں
چند دن بعد ہی ۔۔۔۔ 10 جنوری کو
ڈاکٹر لی وین کو کھانسی شروع ہوئی
ان کے ساتھ ان کے والدین بھی اتنے بیمار ہوئے کہ ہسپتال لانا پڑا
دس روز بعد 20 جنوری کو
چین نے
باضابطہ طور پر
دنیا کے سامنے
ناول کورونا وائرس کے
وبائی پھیلاؤ کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا
ڈاکٹر لِی وین کے بہت سے ٹیسٹ ہوئے
اور 30 جنوری کو
کورونا وائرس کی موجودگی کی تشخیص ہو گئی
اور آج 7 فروری 2020 ہے
ڈاکٹر لی وین لینگ ووہان میں انتقال کر گئے
وبا کے دنوں میں
پہلے مسیحا کی شہادت ہو چکی ہے
دکھ اور افسوس کی تاریکی
تاریک رات سے بھی
تاریک تر لگ رہی ہے
ایک کپکپا دینے والی سنسناہٹ ہے
میرا دل
کسی غیر معمولی تفکر سے ڈوبنے کو ہے
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
فروری9 , 2020
آہ دلخراش !

ہم ڈاکٹرز کی نظریں چین پر لگی رہتی ہیں
ووہان میں
لوگ مر رہے ہیں
وبا پھیل رہی ہے
آج چین ہی نہیں دنیا اداس ہے
آخری خبروں کے آنے تک
وہاں 811 اموات اور 37،198 انفیکشن ریکارڈ پر ہیں
ڈبلیو ایچ او کی ٹیم چین روانہ ہو چکی ہے
خدایا رحم ۔۔۔۔۔۔ ہر صاحب درد کا ورد جاری ہے
میرے ووہان میں
جاڑے کی افسردہ رات
کتنی خاموش اور پرسرار ہوگی
پھول سردی سے بے جان ہو چکے ہونگے
سوکھی ہوئی ٹہنیاں
بہار کے ماتم کی تیاری میں ہونگی
ووہان
تمہاری آہ دلخراش
مجھے سڈنی میں سنائی دے رہی ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم













