کب تلک ویرانیاں ، یہ موت و ماتم ، کب تلک
ڈھونڈ پائے گا مسیحا ، میرا مرہم کب تلک
کب تلک نوحے فقط ، یہ چشمِ پُرنم کب تلک
کب تلک آخر عزا ، یہ گریہ و غم کب تلک
کب تلک اکھڑی رہے یہ سانس آخر کب تلک
کب تلک سینے میں یوں اٹکا رہے دم کب تلک
دشت و صحرا میں بھی آجاتی ہے آوازِ جرس
کب تلک بستی میں سناٹا یہ پپیہم کب تلک
کوئی ہنگامہ سہی ٹوٹے تو آخر یہ جمود
شہر کی سڑکوں پہ آخر ، ہُو کا عالم ، کب تلک
یک بہ یک کیونکر قفس لگنے لگا یہ آشیاں
کب تلک اپنے ہی گھر میں قید ہیں ہم ،کب تلک
کب تلک لوٹے گا ساقی ، جام و پیمانہ لئے
ساز و نغمہ پھر سنائی دے گا ہمدم ، کب تلک
عشق کو پھر حسن کا دیدار ہوگا کب نصیب
گوش مہجورِ پیام اور چشم پر نم ، کب تلک
کب تلک آئیں گے گلیوں میں نظر عشاق پھر
بام پر رونق تری، پھر حسن جانم ، کب تلک
کب تلک باغوں میں آئیں گے پرندےلوٹ کر
پھر چمن میں گُل ، گُلوں پر پھر سے شبنم ، کب تلک
جعفر رضوی












