.زہر لگتا ہے مجھے
تمہارا محبتوں میں
حساب رکھنا
،،اتنے منٹ ہیں مرے پاس،،
،،ایک گھنٹہ ہے ،،
فلاں دن ہے
ابھی تو سخت الجھا ہوں
کسی دن اور
رکھتے ہیں
اور دن کس نے دیکھا ہے
مرے خوش چشم
میں نے تو گھڑی کو
روک رکھا ہے
زمان و مکاں سے ماورا
تم کو چاہا ہے
ہر اک سیکنڈ،منٹ،گھنٹہ
مہینہ،سال کہ صدیاں
مجھے تو اک جنم
بھی کم ہے
کہ جی بھر کے تمہیں
دیکھوں
مری ہر سانس،ہر پل
ہر دن تمہارا ہے
فقط یہ ہی نہیں
گر ہے تو آئندہ
ہر اک جنم تمہارا ہے!!
ثانیہ شیخ













