“صنف مرثیہ پر تحقیق کرنے والے نوجوان محقق جناب ذیشان زیدی سے گفتگو”
مرثیئے کے قارئین میر انیس و مرزا دبیر کے علاوہ چند ایک ہی شعرا کے نام سے واقف ہوں گے ۔۔ جن کی وجہ شہرت مرثیہ گوئی یا مرثیہ نویسی رہی ہے۔۔ یہ غیر معمولی تحقیق اور صبر طلب مطالعہ ہے ۔ مگر اس میں چند نوجوانوں کی دلچسپی قابل تحسین ہے ۔ فروغ مرثیہ کے نام سے ایک پیج جو روزانہ کی بنیاد پر شعرا کا تعارف اور انکا مطبوعہ و غیر مطبوعہ کلام شائقین کے لئے پیش کرتا ہے اپنی طرز کا منفرد انداز ہے ۔جس کا خیال ذیشان زیدی صاحب کو کیونکر آیا آج انہی کی زبانی جانتے ہیں ۔۔
ذیشان زیدی صاحب نے سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے کمپیوٹر انجینئرنگ کی یے
اور برطانیہ آکر ٹیلی کمیونیکیشن میں آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی سے ماسٹرز یعنی ایم ایس سی مکمل کیا۔ 2007 سے انکی مستقل رہائش انگلینڈ میں ہے
ذیشان صاحب جس مستعدی اور تیز رفتاری سے مرثیے پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اس میں انکی برابر سے مددگار انکی شریک حیات بھی ہیں ۔۔ جو خود بھی آرٹسٹ ہیں اور اسلامک آرٹ و کیلیگرافی انکا خاص شعبہ ہے۔۔
انکی جانب سے مکمل تعاون کے باعث ہی ذیشان میاں مرثیے پر اپنی تحقیق کو زیادہ وقت دینے کے قابل ہوئے ہیں ۔۔۔ہم ان کو آج کی نشست میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔۔
سوال 1_ مرثیہ پڑھنے کا یہ مخصوص انداز ماضی میں بہت رائج تھا اسی مخصوص انداز سے گھروں کے بزرگ ایام عزا کا استقبال کرتے تھے اور طویل نشستوں میں لوگ صبر سے بغور انہیں سنتے تھے آپ اور چند احباب نے اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے۔ ماشا اللہ آپ کی یہ صلاحیت خداداد ہے یا گھر کے بزرگوں اور والدین کی مخصوص تربیت اس کا باعث بنی؟
جواب _
جی میں سمجھتا ہوں کہ یہ پروردگار عالم کی بہت بڑی عطا ہے اور اس ماحول میں پرورش پانے کا نتیجہ بھی جہاں مرثیے کو گراں قدر اہمیت دی جاتی ہو. ہمارے خاندان میں یہ مخصوص ذاکری پچھلی پانچ پشتوں سے کی جا رہی ہے. والدین کی تربیت بھی اس میں شامل ہے. میرے والد سید جعفر رضا زیدی نے میرے چچا سید شیدا حسن زیدی کے ساتھ مل کر تقریبا 60 سال سوزخوانی کی. چچا جان شیدا حسن شاعر اہلبیت بھی تھے انہوں نے مرثیے بھی کہے ہیں اور تحت میں بھی مرثیے پڑھے ۔ سادات بارہ کے نامور سوزخوانوں میں شمار ہوتے تھے اور میں نے ان سے کافی کچھ سیکھا. میرے دادا سید ظہور حسن زیدی بھی بہت پاٹ دار آواز میں سوز خوانی کرتے تھے جب کہ میرے پردادا سید ابن حسن زیدی تحت اللفظ مرثیہ پڑھتے تھے. اس بات پر میری والدہ فخر کرتی ہیں کہ مجھ میں دادا اور پردادا دونوں کا اثر ہے۔
سوال 2_ آپ نے تخت خوانی اور تحقیق کے لئے ذکرِ محمد و آل محمد میں مرثیے ہی کو کیوں منتخب کیا؟
جواب – اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ مرثیہ پڑھنے والوں کے خاندان سے تعلق ہے ۔ دوسرے یہ کہ میں نے متعدد کلاسیکل، جدید اور مابعد جدید مرثیوں کا مطالعہ کیا ہے. دیکھا جائے تو مرثیے میں حمد باری تعالیٰ ، نعت رسول مقبول، مدح اہلبیت ، اخلاقیات ، دینیات ، اصول دین ، فروع دین ، انقلاب ، فقہ کے احکام ، نفس کی پاکیزگی ، دنیا کی بے ثباتی ، رشتوں کی گہرائی ، ظلم اور ظالم سے برات ، مظلوم سے محبت کا درس ، انسانیت کا احترام وغیرہ سب کچھ شامل ہے
رثائی ادب میں نثر بھی شامل ہے اور نظم بھی شامل ہے. مرثیے کی تاریخ بہت پرانی ہے . بیشتر زبانوں میں مرثیہ کہا گیا ہے. علماء کہتے ہیں کہ سب سے پہلا مرثیہ حضرت آدم نے اپنے بیٹے ہابیل کے قتل پر کہا حضرت داودؑ نے طالوت کے قتل پر مرثیہ کہا سہراب کی ماں کا مرثیہ اپنے بیٹے کے قتل پر ہے۔۔ خسرو کا مرثیہ ملتان کی تباہی پر فردوسی کا مرثیہ عجم کی تذلیل پر ، جناب ابو طالبؑ کا مرثیہ اپنے والد کی وفات پر ، حضور اکرم کے وصال پر صحابی حسان بن ثابت کا مرثیہ موجود ہے سیدہ کائنات نے مرثیہ کہا ہے . مولاے کائنات نے سیدہ فاطمہؑ کی شہادت پر مرثیہ کہا ہے
امام علی بن موسیٰ رضا نے شاعر دعبل خزائی سے کہا تھا حسینؑ ابن علیؑ کے لئے مرثیہ پڑھو تم جب تک زندہ رہو ہمارے مددگار اور مداح خوان رہو اور جتنا ممکن ہو ہمارے ذکر سے کوتاہی نہ کرو۔ مرثیہ ایک طویل لیکن انتہائی دلچسپ صنف ِ سخن ہے . اس کی حفاظت ، اس کی تحقیق اور فروغ بہت ضروری ہے۔۔ مرثیے کو محمدﷺ و آل ِ محمدﷺ کی مرغوب ذاکری کہا گیا ہے اور ہمارے علماء بھی مرثیے کے قدر دان رہے ہیں جیسے حجت المسلمین مرحوم علامہ طالب جوہری مرثیہ نگار بھی تھے اور ہندوستان میں خاندان ِ اجتہاد کے کئی علماء مرثیہ نگار اور مرثیہ گو تھے۔ اردو کے زوال کی یہ بھی ایک وجہ ہے کہ رثائی ادب کو نظر انداز کر دیا گیا اور اس کو ایک مخصوص فرقے سے جوڑ دیا گیا۔
اردو مرثیہ بھی عربی اور فارسی سے ہوتا ہوا ہمارے پاس پہنچا لیکن نہ غزل ، نہ قصیدہ ، نہ مثنوی نہ کوئی اور ہئیت فارسی و عربی کے ہم پایہ بن سکی ۔۔ یہ صرف اردو مرثیہ تھا جس کو عروج فارسی اور عربی کے مرثیوں سے بڑھ کر ملا۔ شاید اسی لئے مولانا ابو الکلام آزاد کہتے تھے کہ مرزا غالب کی غزلیں اور میر انیس کے مرثیے دنیاء اردو ادب کو بہترین تحفے کی شکل میں پیش کیے جاسکتے ہیں۔ باباے اردو ولی دکنی نے 300 برس پہلے مرثیہ کہا تھا . میر تقی میر کے 30 سے زیادہ مرثیے مربع شکل میں موجود ہیں .غالب نے بھی 3 بند کا مرثیہ لکھا ہے گو . یہ سب اردو ادب میں چوٹی کے شاعر کہلاتے ہیں لیکن آخر ان کی مرثیہ نگاری کے ذکر سے اردو ادب کیوں غافل ہے
سوال 3_ فروغ مرثیہ اور شعرا کے تعارفات پر آپکا بہت اہم کام ہے اس کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟
جواب –
سال بھر کی عمر سے مرثیے سنتا آرہا تھا مگر صحیح معنوں میں ڈیجیٹیل دنیا میں اس کا آغاز 2013 میں کیا. پہلے تو سوز خوانی کرتے ہوئے صرف مصائب کے بند پڑھتا تھا لیکن ایسا وقت آیا کہ شعور بڑھا اور مجھے مرثیے تفصیل سے پڑھنے کا شوق ہوا پھر معلوم ہوا کہ مرثیے میں صرف بین اور مصائب ہی نہیں بلکہ کئی اور اجزا بھی ہوتے ہیں. اس طرح تحت خوانی کی طرف آغاز ہونا شروع ہوا پھر کلاسیکل اور جدید مرثیے کا تقابل کیا تو اندازہ ہوا کہ مرثیہ نگار شعرا نے اپنے اپنے زمانہ ِ شاعری میں کس کس طرح اس صنف سخن میں موتی پروئے ہیں. میں نے خود سے یہ عہد کیا کہ سوشل میڈیا پر ایک ایسا پلیٹ فارم ہو جہاں مدح معصومین علیہ السلام کرنے والے شعرا کا مختصر تعرف کروایا جائے. خصوصا یہ کاوش ان کے لیے ایصال ثواب کا کام کرے گی اور مدح معصومین پر کن کن شخصیت نے اشعار کہے ہیں اس پلیٹ فارم پر دوسرے مسلک اور مذھب کے شعرا بھی شامل کیے گئے ہیں جنہوں نے آئمہ طاہرین پر اشعار کہے ہیں. یہ پلیٹ فارم صرف مرثیے تک محدود نہیں بلکہ سوز ، سلام ، قطعات ، رباعیات ، مخمس ، مسدس اور مثنوی بھی پیش کی جاتی ہے جو زیادہ تر فضائل و مصائب معصومین سے مخصوص ہو
سوال 4_ اس فن میں آپ کے رہنمائی کس نے کی یا کس کو اپنا استاد یا مدد گار مانتے ہیں ؟
اپنے چچا جان شیدا حسن سے اصلاح لینا شروع کی جو کئی بار کراچی کی انچولی سوسائٹی میں مرثیہ تحت اللفظ بھی پڑھ چکے تھے۔ میں ان کو ہی اپنا پہلا استاد مانتا ہوں. 90 کی دہائی میں کراچی کی تحت اللفظ مجالس میں شرکت کی اور مشاہدات کیے تھے خصوصا سردار نقوی ، اکبر رضوی ، سبط حسن انجم ، چچا شیدا حسن زیدی ، آباد نقوی ، رفیق رضوی ، ظل صادق زیدی ، امید فاضلی کو مرثیے پڑھتے دیکھا اور ان کا کسب فیض رہا.
دور جدید میں تو انٹرنیٹ پر بھی کئی بہترین شعرا کرام اور بہترین تحت اللفظ اور لحن میں پڑھنے والوں کی ویڈیو موجود ہیں جیسے سبط حسن انجم صاحب ، ہلال نقوی ، *صفدر ہمدانی* صاحب جن کو میں برطانیہ میں رہتے ہوے 3 مرتبہ تو محفل و مجالس میں سن چکا ہوں اور واٹفورڈ کے شہر میں ان کی موجودگی میں مرثیے کے منقبتی اشعار بھی پیش کر چکا ہوں۔ اس کے علاوہ شہید استاد سبط جعفر، ابرار فتحپوری ، استاد رضا علی خان ، نواب حیدر جعفری ، فرحان رضا ، جاوید حسن صاحب ، یاد الله حیدر صاحب ، مرحوم علامہ ضمیر اختر نقوی اور ای مرثیہ کے ہیڈ اصغر مہدی اشعر تو صحیح معنوں میں ان سب شخصیات کی برقی رغبت نے بھی رہنمائی فرمائی ہے.
ایک سلسلہ ہندوستان میں بھی ہے جہاں میں سرسی ، جائس ، امروہا ، پرتاپ گڑھ ، حیدر آباد دکن وغیرہ میں مقیم شعرا حضرت یا ان کے خانوادے سے جڑا ہوا ہوں. مختصراً کسی سے ایک مصرعہ بھی حاصل ہوا ہے تو وہ مددگار ہے اس صنف سخن کے فروغ میں ۔
میں نے رثائی ادب پر متعدد کتابیں پڑھیں جن مشاہیر کی کتابوں نے رہنمائی فرمائی ان میں ڈاکٹر تقی عابدی ، ڈاکٹر ہلال نقوی ، علامہ ضمیر اختر نقوی ، جناب عاشور کاظمی ، پروفیسر اکبر حیدری ، کے نام سر فہرست ہیں. اس کے علاوہ نیر مسعود صاحب کی کتاب “مرثیہ خوانی کا فن” اور دور جدید دور میں برادر فرحان رضا کی لکھی ہوئی کتاب “تحت اللفظ خوانی : ایک فنی مطالعہ اس فن پر بہترین کتابیں ہیں میں اپنے پلیٹ فارم سے متعدد مومنین و مومنات کو یہ کتابیں پڑھنے کی تاکید کرتا ہوں۔۔
سوال 5 _ اپنے استاذہ سے کن کن موقعوں پر بہت زیادہ حوصلہ افزائی ملی ؟
جواب _دو خاص لمحات کی بات بتانا چاہوں گا۔ ایک بار بزرگ مغفور و مرحوم سوز خوان آباد نقوی زائر امروہوی مرحوم کی موجودگی میں ایک مرثیے کے 6 مصرے لحن میں پڑھے جس کو انہوں نے بہت پسند فرمایا اور قریب بیٹھے میرے چچا جان سے فرمایا کہ صاحبزادے ٌسر سے باہر نہیں نکلے. آباد صاحب کے اس جملے نے ہمت اور حوصلہ بڑھا دیا تھا۔
علامہ طالب جوہری صاحب سے بھی بہت گفتگو رہی اور بقول فرحان رضا کے علامہ صاحب کہتے تھے اس وقت کے دبیرییے دو ہی ہیں شیدا حسن زیدی اور صادقین نقوی۔ ایک بار چچا جان نے مجھے دبیر کے مرثیے کا ایک بند سنایا
کر مدحت ِ حسینؑ اسی میں نجات ہے
دنیاۓ بے ثبات کا ان سے ثبات ہے
بے عیب حق کی ذات ہے یا ان کی ذات ہے
حکم ان کا اور کلام ِ مجید ایک بات ہے
اس منزل ِ نیاز کے سالک حسین ؑ ہیں
جب تک خدا کا ملک ہے مالک حسینؑ ہیں
تو میں نے جواب میں دبیر کا ایک اور بند سنایا
نقاش و نقش و کاتب و خط ، بانی و بنا
بود و نبود ، ذات و صفت ، ہستی و فنا
آدم َملک ، زمین ، فلک ، گرد ، کیمیا
دنیا و دیں ، حدوث و ِقدم ، بندہ و خدا
سب شاہد ِ کمال ِ شہ مشرقین ہیں
جب تک خدا کا ملک ہے مالک حسین ؑ ہیں
تو چچا جان کو بہت پسند آیا اور عش عش کر اٹھے جب انہوں نے علامہ طالب جوہری صاحب کو یہ دو بند سنائے تو علامہ صاحب نے کہا “شیدا صاحب مجھے دبیر کا پورا کلام چاہیے”
سوال 6_ آل محمد کی مدح و ثناء اور مرثیہ پڑھنے کے لئے محض شاعری سے لگاؤ ہونا کافی ہے یا اس فن کو سیکھنے کے لئے معلومات عامہ اور تاریخ کا مطالعہ بھی اہم ہے ؟ کیا مرثیوں میں تاریخی واقعات کی مثالیں ملتی ہیں ؟
آل محمد کی مدح و ثناء اور مرثیہ پڑھنے کے لئے پہلی شرط تو آئمہ اطہار سے مودت ہے جس کا پس منظر پڑھنے والے کے دماغ میں ہونا چاہیے . قرآن کی سورہ ِ شوری’ میں آیت ہے قل لا أسألُکُم علیهِ أَجراً إِلاّ المَوَدَّةَ فیِ القُربی اس کے علاوہ بھی قرآن کرم میں متعدد مقامات پر پروردگار عالم نے اہلبیت کی شان میں آیات نازل فرمائیں ۔ کئی مرثیوں میں احادیث کو قلمبند کیا گیا ہے . جیسے دلگیر لکھنوی کہتے ہیں
فرماتے تھے حیدرؑ سے سدا احمدۖ ِ مختار
ُجز میرے کوئی شخص نہ سمجھا تجھے زنہار
اور خوب مجھے سمجھا تو اے حیدرؑ ِ کرار
محبوب ِ خدا میں ہوں تو ُتو عاشق ِ غَفار
پہچانا مجھے اور تجھے رب ِ صمدی نے
جز مرے ترے حق کو نہ پہچانا کسی نے
معلومات عامہ اور تاریخ کا مطالعہ بھی بہت ضروری ہے. تاریخ کا مطالعہ تو ہر عاقل انسان پر واجب ہے کہ ہماری تاریخ کیا ہے اور اس میں کیا کیا واقعات پیش آتے گئے اور آل محمد / اہلبیت نے تاریخ اسلام میں کیا کردار ادا کیا اور زمانے کے نشیب و فراز میں ان کا کیا موقف رہا پیغمبر اکرمﷺ نے کن کن مقامات پر اہل بیت کی فضیلت بیان کی. کچھ مثالیں پیش کرتا ہوں۔ پیغمبر اکرمﷺ نے اپنی رحلت سے قبل فرمایا تھا کہ کہ میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک ان کو نہ چھوڑو گے گمراہ نہیں ہو گے . میر انیس نے اس حدیث یعنی “حدیث الثقلین” کو یوں لکھا
تم پاس ہوں میں چھوڑتا دو امر ِ عظیم اب
قرآن ہے اور عترت ِ اطہار میری سب
ناجی ہے وہ ان دونوں سے رکھے گا جو مطلب
جو ہو گا خلاف ان سے نہ بخشے گا اسے رب
ان میں سے ہر اک مصحف ِ ایماں کا ورق ہے
تابع رہو ان کے یہ رضا مندئ حق ہے
مرثیہ “ماں ایک چمن میں جس میں مسلسل بہار ہے” کے خالق مسعود رضا خاکی شب ہجرت کی مناسبت سےکہتے ہیں جب پیمبرﷺ نے امام علی کو اپنے بستر پہ لٹایا اور ہجرت فرمائی
وہ شب جس کے لیے دشمن نے منصوبہ بنایا تھا
وہ شب جب ہر قبیلہ قتل ِ پیمبرﷺ کو آیا تھا
پے ہجرت خدا نے جب پیمبرﷺ کو بلایا تھا
نبیﷺ نے اپنے بستر پہ علیؑ ہی کو لٹایا تھا
خدا بہتر سمجھتا ہے یہ کس کی آزمائش تھی
بظاہر تو نبیﷺ کی جانشینی کی نمائش تھی
جنگ خیبر میں سرکار ختمی مرتبت نے فرمایا تھا کہ میں علم کل اس شخص کو دونگا جو غیر فرار ہوگا اور اسی کے ہاتھ پر خیبر کی فتح ہوگی . یہ ہے علم کی تاریخ جو ہم گھروں پر نصب کرتے ہیں اور حد درجہ ذوق و شوق سے اٹھاتے ہیں . علم اٹھانا سنت پیغمبر اکرم ہے. دیکھئے کس خوبصورتی سے تاریخ اسلام کے چار بڑے علمداروں کا ذکر کرتے ہیں میر صاحب
یہ وہ ہے علم جس کو پیمبر ۖ نے اٹھایا
کس فخر سے حمزہ ؑ سے دلاور نے اٹھایا
ہاتھ آيا شرف جب اسے جعفرؑ نے اٹھایا
وہ اٹھ گۓ دنیا سے تو حیدرؑ نے اٹھایا
ہو گا یہ ہما سایہ فگن اب نہ کسی پر
بس خاتمہ ہے حضرت ِ عباسؑ ِ علیؑ پر
یہی علم ہے جو آج تک سینہ یزید میں پیوست ہے . جشن شعبان میں قبلہ صفدر ہمدانی کے پاس بیٹھ کر ان سے سنا تھا
حسن ِ جہاد ، قوت لشکر ہے یہ َعلم
چشم حضور ، بازوے حیدر یہ َعلم
تاریکیوں میں مہر منور ہے یہ عَلم
ہاں سینہ یزید میں خنجر ہے یہ عَلم
عباسؑ کے علم میں ہے طاقت حسینؑ کی
اصغرؑ کا زور جرات و ہمت حسینؑ کی
تاریخ اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے مرثیوں سلاموں وغیرہ میں کئی جگہ مختلف واقعات کو پیش کیا گیا ہے. جب امام حسین سے بیعت طلب کی گئی تو اس کو بانو سیدپوری صاحب نے اپنے مرثیے میں کس طرح پیش کیا
جاہ و جلال ِ آدم ِ دوراں ہے مضطرب
نطق و بیان ِ موسیٰ ِ عمراں ہے مضطرب
عزم ِ خلیلؑ و نوحؑ و سلیماںؑ ہے مضطرب
مستقبل ِ حیات ِ رسولاں ہے مضطرب
خاموش انبیا کی صفیں ہیں کھڑی ہوئی
ُرخ سے حسین ؑ کے ہیں نگاہیں لڑی ہوئی
_سوال 7 تحقیق کے ساتھ ساتھ آپ کا مرثیہ پڑھنے کی طرف بھی رجحان ہے۔۔ اس کی اہمیت آپکے پیش نظر کیا ہے ؟
جواب ،میرے خیال سے اگر کسی کو اپنی اردو زبان درست کرنی ہے تو مرثیہ پڑھنے لگے زبان درست ہو جائے گی . شعر کہنے سے زیادہ شعر پڑھنا مشکل کام ہے۔ جہاں چار لوگ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں، وہاں شعر کی اہمیت سے زیادہ اسے پڑھنے کے انداز پر توجہ دی جاتی ہے۔ بچپن سے دیکھتا آ رہا تھا کہ مرثیے کو لحن یا تحت میں کس طرح پڑھا جاتا ہے تو ارمان تھا کہ ایک دن منبر افروز ہو کر امام حسین کا ذکر کروں گا. میری کوشش ہوتی ہے کہ مرثیے کو پڑھ کر حاضرین کے سامنے اس کے مطالب بھی پیش کیے جائیں سو یہ دعا قبول ہوئی بقول میر مونس کے
اے فیض ِ رساں دامن ِ محتاج کو بھر دے
پتھر بھی پگھل جائے وہ نالوں میں اثر دے
نہ تاج عطا کر نہ زر و لال و ُگہر دے
شبیرؑ کے مداحوں میں داخل مجھے کر دے
دنیا کے کسی خواب ِ پریشاں کو نہ دیکھوں
منبر جو ملے تخت ِ سلیماں کو نہ دیکھو
_ سوال 8، کن شعرا کا کلام بہت عمدہ تھا مگر کم پڑھا گیا ۔۔؟
جواب،میرے نزدیک جن شعرا کا کلام بہت عمدہ تھا مگر کم پڑھا گیا ان کی فہرست طویل ہے . میں اپنے پلیٹ فارم سے اس شعرا حضرات کے مرثیوں سے کچھ مثالیں پوسٹ کرتا رہتا ہوں جس سے بے حد پذیرائی ملتی ہے اور پڑھنے والوں کو ان بہترین شاعروں کے بارے میں علم ہوتا ہے کئی شعرا کا کم سے کم ایک شاہکار و منفرد مرثیہ یا سلام ضرور ہے. میں کچھ کی نشاندہی کرتا ہوں مرزا دبیر کے کچھ مخصوص مرثیے لحن میں ہر سال کئی مقامات پر پڑھے جاتے ہیں لیکن تحت میں مرزا دبیر کے پڑھنے والوں کی تعداد کم ہے . اس دور میں خصوصا فرحان رضا صاحب دبیر کے مرثیے تحت اللفظ میں پڑھ کر بہترین کام کر رہے ہیں جس سے دبیر شناسی ہو رہی ہے کیوں کہ اردو مرثیے نے مرزا دبیر کو ان کا اصل مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے. میں اپنے پلیٹ فارم پر بھی سب سے زیادہ کلام دبیر شایع کرتا ہوں اور قارئین کو دبیر شناسی میں مدد ملتی ہے. یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اردو ادب میں سب سے زیادہ اشعار مرزا دبیر نے لکھے ہیں سید آل رضا کے مرثیے کمال کے ہیں مگر لوگ ان کو صرف سلام آخر کے حوالے سے جانتے ہیں. ان کا یہ بند تو دیکھئے
تھا جہاں پھر وہیں قرآن کو لیے آئے حسینؑ
سج گئی جائے محمد کے قریں جائے حسینؑ
مرضی حق سے مزین تھا جو ایمائے حسینؑ
مشعل ِ راہ بنا نقش ِ کفِ پائے حسینؑ
اک عجب طرز سے اسلام دوبارہ چمکا
خون میں ڈوب کے ایمان کا تارا چمکا
میں نے 1996 میں پہلی بار مرحوم و مغفور جناب سردار نقوی کو کراچی کی مسجد و امام بارگاہ چہاردہ معصومین کی مجلس مرثیہ تحت اللفظ میں سنا اور جب انہوں نے یہ شعر پڑھا تو آج تک دماغ میں گونج رہا ہے سن رہا ہے حسین کی آواز
جس کی جتنی حد سماعت ہے
ان کے مرثیے غور طلب ہیں اور اردو مرثیے سے انصاف چاہتے ہیں
آتی ہے کربلا سے یہ آواز دم بدم
تفسیر ِ عہد و گردش ِ ادوار کی قسم
تاریخ ہے صداۓ حسینیؑ کا زیر و بم
انساں سے آج بھی ہے مخاطب وہ با کرم
ترویج ہو رہی ہے پیام ِ حسینؑ کی
آواز آ رہی ہے امام ِ حسینؑ کی
شاعر حسینیت جناب قیصر بارہوی کلاسیکل مرثیے سے ہٹ کر ایک منفرد اسلوب کے مالک ہیں ان کے مرثیے بھی توجہ چاہتے ہیں
وہ مشرقی پکار ہو یا مغربی صدا
مظلومیت کے ساز سے دونوں ہیں ہم نوا
محور بنا ہے ایک جنوب و شمال کا
تفریقِ رنگ و نسل پہ غالب ہے کربلا
تسکینِ روح سایۂ آہ و بکا میں ہے
ہر صاحبِ شعور کا دل کربلا میں ہے
میر عشق اور میر تعشق – ان دونوں بھائیوں نے شاہکار مرثیے کہے ہیں. دبستان میر عشق تو برصغیر میں مرثیہ گوئی کا تیسرا بڑا دبستان سمجھا جاتا ہے . میر تعشق کا تو کمال ہے کہ مرثیے میں تغزل کا رنگ پیش کیا
راجہ صاحب محمودآباد کے 8 شاہکار مرثیے موجود ہیں لیکن اس محسن پاکستان کو لوگ صرف تحریک پاکستان کا کا ایک بانی سمجھتے ہیں . ایک مرثیے سے کے بند پر تو غور کیجیے
بس کیا ہے اس میں جو ہو مصلحت رب کبیر
راہ نوردی سے نہیں جاتی الہی توقیر
حکم معبود نے دونوں کو بنایا راہگیر
چرخ پر مہر روانہ تھا زمیں پر شبیرؑ
مہر تنہا تھا یہاں گود کے پالے بھی تھے
ساتھ مولا کے کئی ہںسلیوں والے بھی تھے
وہ کڑے کوس وہ ہر گام پہ اک دشواری
دونوں آنکھوں سے مسافر کی تھی نہریں جاری
تھانہ سبزہ کہ کریں آنکھ کی مہماں داری
تھا فقط خیمہ شہ یا فلک زنگاری
چھوڑ کر اپنا وطن حق کا ولی نکلا تھا
اس تب و تاب میں فرزند ِ علیؑ نکلا تھا
خاندان اجتہاد میں کئی علماء و شعرا گزرے ہیں جن میں جاوید ، زاخر ، فاخر اور ساحر لکھنوی جیسے عظیم شعرا شامل ہیں. خاندان اجتہاد دبستان میر عشق کے بعد چوتھا بڑا دبستان مرثیہ گوئی ہے اور میں نے اس خاندان کے مرثیہ گو شعرا کے نام سے الگ البم بنا دیا ہے۔ مختصرا یہ کہ میری تحقیق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان جیسے عظیم مرثیہ نگار شعرا اور باقی گمنام شعرا کو منظر عام پر متعارف کروایا جائے اور ان کے کلام کے مختلف زاویے پیش کیے جائیں۔
سوال 9_ آپ نے اور آپکے ہی کچھ احباب نے ای مرثیہ ویب سائٹ کے نام سے ایک تاریخی کام کیا ہے ۔ یہ کس کا آئیڈیا / خیال تھا اور اس کو تیار ہونے میں کتنا عرصہ لگا ؟
جواب، ای مرثیہ کی تخلیق درحقیقت کینیڈا میں مقیم برادر اصغر مہدی اشر کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے یہ انہی کا آئیڈیا تھا . اس ویب سائٹ کو بننے میں ڈیڈھ سال لگا اور یہ ویب سائٹ پچھلے ٤ سالوں سے متحرک ہے اور کئی احباب اور سخن سنج شخصیت نے مختلف شعرا کرام کے مرثیے فراہم کرکے اور اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اگر اس کے اعدادوشمار دیکھیں توسوا لاکھ یوزرز ، 3000 سے زیادہ مرثیے اپلوڈ ہو چکے ہیں جو 2 لاکھ 26 ہزار بار ڈاونلوڈ ہو چکے ہیں۔ 250 مرثیہ نگاروں کے مرثیے شامل ہیں۔ اصغر بھائی مجھے بہت عزیز ہیں ان سے تقریبا ہر ہفتے بات ہوتی رہتی ہے اور فروغ مرثیہ کے اغراض و مقاصد اور پیش رفت کے بارے میں گفتگو رہتی ہے. اس ویب سائٹ پر کچھ شعرا کا تعارف اس ناچیز کی تحریر ہے میں عالمی اخبار کے زریعے قارئین سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ کوئی بھی مطبوعہ یا غیر مطبوعہ مرثیہ ہو تو از راہ کرم ای مرثیہ کو فراہم کردیں.
کئی گمنام مرثیہ نگار ہیں جن کے مرثیوں کی اشاعت نہیں ہوئی. ضرورت ہے کہ ان کے ورثا مرثیوں کی اشاعت کی طرف متوجہ ہوں اور فکر کریں کہ کلام زمانے کے ہاتھوں تلف نہ ہو جائے۔
سوال 10 _ کیا اس سلسلے میں قارئین کی طرف سے آپکو خاطر خواہ حوصلہ افزائی ملی؟
جواب ،یقین کیجیے ہم کو اتنی حوصلہ افزائی ملی ہے کہ جس کا شمار نہیں . میں کسی شاعر کا ایک بند اپنے پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتا ہوں تو قارئین کو تجسس ہوتا ہے کہ پورا کلام پڑھنا ہے تو میں ان کا رخ ای مرثیہ کی طرف کر دیتا ہوں جہاں سے وہ پورا مرثیے حاصل کر لیتے ہیں اور یوں ہم ایک اہم ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں،
سوال 11_ عام قاری کی معلومات کے لئے پوچھنا چاہوں گی کہ مرثیہ کو منتخب کرنے کے لئے کیا خاص باتیں مدنظر رکھی جائیں ؟
جواب ،مرثیہ موضوع کے اعتبار سے منتخب کرنا چاہیے ترکیب میں مرثیت کا عنصر لازمی طور پر موجود ہونا چاہیے۔ بے ساختگی، سلاست، روانی، زبان پر قدرت، فصاحت، الفاظ کا پورا صرف ہونا، حروف کے دبنے اور تنافر سے گریز، یہ سب یکجا دیکھنا ہو تو کلام انیس و دبیر انتہائی اعلی نمونہ پیش کرتا ہے، بند کے تمام مصرعوں میں داخلی ربط کا پورا اہتمام اور ان کے معانی میں ارتقا کا پورا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ بقول انیس کے داند آنکس کہ فصاحت بہ کلامے دارد ہر سخن موقع و ہر نکتہ مقامے دارد،
سوال 12.کیا اب بھی تحت اللفظ مرثیے کی محافل میں لوگ دلچسپی لیتے ہیں؟
جواب، جی اب بھی تحت اللفظ مرثیے کی محافل میں کافی لوگ دلچسپی لیتے ہیں. یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ سننے والوں میں مرثیے سے کتنے لوگ آشنا ہیں. مرثیہ پڑھنے والوں نے تحت اللفظ خوانی پر توجہ صرف کی، اتنی کہ اسے ایک اچھا بھلا فن بنادیا. شروع میں مرثیہ لحن میں پڑھا جاتا تھا جس سے سوز خوانی نے جنم لیا اور مقبولیت حاصل کی۔ میر و سودا کے عہد تک مرثیہ تحت اللفظ خوانی کی باقاعدہ ابتدا نہیں ہوئی تھی۔‘ پاکستان ہندوستان برطانیہ امریکا کینیڈا اور جرمنی میں بہت سارے اضافی مجالس اس حوالے سے شروع ہو گئی ہیں. لکھنؤ میں بھی کافی عشرے ہو رہے ہیں. کینیڈا میں بھی اچھی خاصی محفلیں ہو رہی ہیں. انگلینڈ میں بھی مرثیہ پڑھا جا رہا ہے۔۔

سوال 13,آپ کو مرثیہ پڑھتے ہوئے عرصہ گزر چکا ہے مرثیے کا اصل جوہر کسے کہیں گے ۔۔ ندرت کلام۔ انداز بیان یا شوکت الفاظ ؟
جواب – مرثیے میں پرشکوہ الفاظ ہوں مگر انداز بیان درست نہ ہو تو اپنا جوہر کھو دے گا. سب سے زیادہ اہمیت مرثیے پڑھنے کی ہے. یعنی پوری مشقت کے ساتھ مرثیہ پڑھا جائے اور دل سے پڑھا جائے بقول شاعر
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
پروفیسر نیر مسعود کی کتاب میں ہے کہ صفیر بلگرامی نے بیان کیا
“میں کلامِ دبیر کا شیدائی تھا، کلام انیس کا قائل نہ تھا۔ ایک مرتبہ اتفاقاً انیس کی ایک مجلس میں شرکت ہوئی اور میں بے ادبی سے ان کو سننے لگا، لیکن دوسرے ہی بند کی بیت:
ساتوں جہنم آتشِ فرقت میں جلتے ہیں
شعلے تری تلاش میں باہر نکلتے ہیں
انھوں نے اس طرح پڑھا کہ مجھے شعلے بھڑکتے ہوئے دکھائی دینے لگے اور ایسا محو ہوا کہ تن بدن کا ہوش نہ رہا یہاں تک کہ ایک شخص نے مجھے ہوشیار کیا”
یعنی مرثیے کی جاں ہے درد کا بیان جو بہت ہی ضروری ہے۔ میر انیس نے تو ایک معیار بنا دیا ہے
لفظ بھی چست ہوں مضمون بھی عالی ہووے
مرثیہ درد کی باتوں سے نہ خالی ہووے
سوال14 _ مرثیے کے سامعین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
جواب – رثائی ادب کے سنجیدہ قارئین کی تعداد روز بروز کم ہوتی جا رہی تھی مگر الحمد للہ ہم دنیا میں پھیلے ہوئے کچھ لوگوں نے پچھلے چند برسوں میں اس پر بہت کام کیا ہے اور کئی مومنین و مومنات کی توجہ اس سخن کی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہوئے. میں سننے والوں اور نئے سیکھنے والوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ کلاسیکل مرثیہ ، جدید مرثیہ اور ما بعد جدید جس میں شعرا کمال کے مرثیے لکھ رہے ہیں سب کو پڑھیے اور مرثیہ خوانی کے فن پر مکمل عبور حاصل کرنے کی کوشش کیجیے. جو بھی کام کرنا ہے دل سے کیجیے پروردگار عالم ضرور مدد کرے گا ۔ ان مرثیوں کی مدد سے ہی اپنے اندر تقویٰ و پرہیزگاری لائیے۔
دور جدید میں فرحان رضا صاحب نے کتاب مرثیہ خوانی کا فن کی اشاعت کرکے اس عظیم ورثہ کو تلف ہونے سے محفوظ کر دیا ہے۔یہ کتاب نوجوان نسل کو مرثیہ خوانی سے متعارف کرانے میں نہایت اہم کردار ادا کرکے مقبولیت کی سند حاصل کررہی ہے۔ میرا اور اصغر مہدی اشعر بھائی کا یہ موقف ہے کہ یہ ذاکری اور عزاداری کا فروغ ہماری آخرت سے زیادہ وابستہ ہے اور قبر میں شفاعت کا ذریعہ بنے گا. سید ابرار حسین کوثر الہ آبادی کے اس بند پر گفتگو تمام کرتا ہوں
نام ِ حسینؑ لفظ و معانی کی کائنات
لکھتے رہو جو گنگ زباں ہو نہ شل ہوں ہاتھ
کوثر تمہارا نام رہے مرثیے کے ساتھ
اس صِنف کا ثبات ہے سرمایہ ِ حیات
تم ہو نہ ہو یہ صنف رہے گی جوان یونہی
کتنے ُافق دکھایے گی یہ کہکشاں یونہی
میں آپ کا اور عالمی اخبار کی ٹیم کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ آپ نے فروغِ مرثیہ کی خاطر مجھ ناچیز کو کچھ تبصرہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔۔
ہم عالمی اخبار کی جانب سے اپنے مہمان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے انتہائی اہم معلومات سے ہمیں آگاہ کیا ۔ذیشان اس شوق و ذوق کے لئے یوں تو کم عمر ہیں لیکن انکے ارادے بہت بلند ہیں ۔ مطالعہ وسیع ہے ۔۔
امید ہے انکا یہ سفر جس کا آغاز انہوں نے تنہا کیا تھا کارواں کی صورت اختیار کرے گا باذوق لوگ ان کے ساتھ شامل ہوں گے ۔۔
اور ان کی تحقیق فروغ مرثیہ ہر فرد کی پہنچ میں ہوگی۔۔
روما رضوی














برادر ذیشان زیدی اس حوالے سے لائق صد تکریم اور قابل عزت ہیں۔کہ وہ اردو مرثیے کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔محترمہ روما رضوی نے بہت بہترین سوالات پیش کیے ہیں اور ان پر عمدہ گفتگو کی گئی ہے
ذیشان اور ان کے قریبی احباب فروغ مرثیہ کے لئے جس طرح کوشاں امید کی جاسکتی ہےبکہ مستقبل قریب میں یہ صنف ادب
کے پوری آب و تاب کے ساتھ اردو ادب کے شائقین کو آگاہی عطا کرے گی۔۔اور زبان اردو کی ترقی اسی میں پوشیدہ ہے
Geo Mama
عزیزی ذیشان جیتے رہو۔ تمہاری گفتگو سے فکر کے بہت سے در وا ہوئے، مجھے مرثیہ کہتے ہوئے نصف صدی ہو گئی ہے میرا مرثیے کا پہلا مجموعہ سرمایہ حیات ۱۹۹۱ میں جاپان میں شائع ہوا تھا جو آج تک جاپان میں شائع ہونے والا واحد مراثی کا مجموعہ ہے۔ ۱۹۹۲ کے آخر میں جب میں جاپان ریڈیو ٹی وی سے بی بی سی لندن آیا تو آٗزل ورتھ کے عزا خانے میں جناب یاور عباس مرثیہ انیس کے چند بند پڑھا کرتے تھے میں جب مرثیہ نو تصنیف پڑھنا شروع کیا تو ابتدائی چند سال بہت مشکل پیش آئی کہ مرثیہ تو پڑھنے سے زیادہ پڑھانے کی چیز ہے اور یہاں ٹُک ٹُک دیدم دم نہ کشیدم کا سماں تھا۔ خیر ہم نے حوصلہ نہیں ہارا جنت مکانی عاشور کاظمی نے بہت ساتھ دیا اور پھر چند برس بعد جب ایک ہی نشست میں ہلال نقوی، قمر زیدی اور میں نے تین مرثیے پڑھے تو اس روز یقین ہو گیا کہ اب لوگ مرثیہ سننے کے قابل ہو گئے ہیں لیکن سچ کہوں برطانیہ کے عزا خانوں خاص طور پر لندن کے عزا خانوں میں چنیدہ مولوی حضرات نے مراثی کی مجالس کی حوصلہ شکنی کی۔ میں نے لندن کے تین گھروں سے بارہ پندرہ برس سے مجالس مرثیہ کی بنیاد رکھی جو آج بھی منعقد ہوتی ہیں۔ تمہارا شکریہ کہ تم نے مرثیے کے اس طالب علم کا ذکر کیا ورنہ سوائے مرحوم جنت مکانی عاشور کاظمی کے کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی۔ میں ذرائع ابلاغ میں زندگی گزارنے کے باوجود تعلقات عامہ کا فن نہ جان سکا اور یہی میری سب سے بڑی خامی اور کمزوری ہے ورنہ دنیا کے بیس سے زیادہ ممالک اور یورپ کے متعدد ممالک میں مرثیہ بلکہ مکمل مجلس مرثیہ پڑھنے کی سعادت مل چکی ہے۔ مجھے قطعی لوگوں کی فہرست کی پرواہ نہیں ہاں یقین ہے آل رسول کی فہرست میں اس طالب علم کا نام موجود ہے۔ تمہاری علمی فکری تحقیقی ترقی کے دعا گو ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صفدر ھمدانی
Mashallah….SubhanAllah…Bhtt Khushi hui…Buzaurgo ka Naam ISI Roshan krte rho.Khuda Umardaraz kre aur tarqqi de
ماشااللہ بہت اچھی کاوش ہے آپ کی اس طرح کے مضامین لکھتے رہیے اور شائع کرتے رہے اللہ تعالی امام زمانہ کے صدقے ذیشان زیدی صاحب کی تمام مشکلات دور کرے