گاہے گاہے بازخواں ایں ,قسط نمبر 24 ,نصرت نسیم

0
1785

تیسری کہانی :تین عورتیں تین کہانیاں کا تیسرا کردارمیر ی سگی خالہ تھیں. جن کا اصل نام چمن تھا. یہ میری امی سے بڑی تھیں. ہماری نانی جوانی میں ہی فوت ہو گیں. اور دو بیٹیاں اور ایک نوزائدہ بیٹا جس کی پیدائش کے کچھ دن بعد وہ چل بسیں . بعد ازاں وہ بچہ بھی فوت ہوگیا. میری امی اپنے والد کے ساتھ ددھیال میں رہیں. جہاں انہوں نے سوتیلی ماوں کے ساتھ وقت گزارا. ماں کے مرنے کے بعد سوتیلی بہنوں کو ماں بن کر پالا. جب کہ خالہ کو ڈیڈی اپنے گھر لے آے جہاں پھپھو اماں نے اور بجو نے انہیں ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی. بچپن میں ہی بجو دیدی اور خالہ (آنٹی)تینوں کے رشتے بالترتیب تینوں بھائیوں سے طے پاگئے تھے. آنٹی کی منگنی تیسرے نمبر کے بھائی سے طے پا گئ تھی. جو انتہائی حسین اور وجیہہ تھے. سنتوش کمار کی طرح نظر آتے.
تیسرے نمبر کے یہ بھائی وجہیہ و شکیل بھی تھے اور فطرت” بہت اچھے انسان مگر اس کا کیا علاج کہ ان کے ایک دوست نے انہیں ایسا شیشے میں اتارا کہ اپنی سوتیلی خالہ سے رشتہ کروا دیا. وارسک ڈیم میں دونوں دوست اکٹھے کام کرتے تھے. اور وہ اکثرماموں کو گھر لے جاتا. بغیر کسی کو بتائے ماموں نے رشتے کے لئے ہاں کہہ دی. یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بچپن سے کسی لڑکی کو ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے. اور لڑکیاں تو رشتہ ہوتے ہی رنگین خواب بننے لگتی ہیں.

خالہ کی یہ شادی کے کچھ دن بعد کی تصویر ہے

(اپنی اس خالہ کو سب آنٹی کہہ کر پکارتے )آنٹی نے رشتے اورمنگنی کا سنا تو ان کے غم کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وہ پشاور ایک رشتے دار کے گھر مہینہ ڈیڑھ ٹہری رہیں. اس بات سے ہی ان کے غم کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے. چونکہ یہ گھر ایک مشترکہ گھر تھا. تو انہیں یہ بھی منظور نہ تھا. کہ ان کی ممانی اور وہ لوگ ا کی تکلیف کو دیکھ کر ہنسیں یا مذاق اڑائیں. 0جنہوں نے اسے ٹھکرایا .-اس لئے وہ ان کے سامنے اپنی کسی کمزوری یا دکھ کا اظہار کر کے انہیں ہنسنے اور خوش ہونے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی -لیکن بجو کا کیا کریں. خود جو ان کے اوپر جو گزری سو گزری پھر انہوں نے اپنی مرضی سے یہ کہہ کر کہ انہیں شادی میں کوئی دلچسپی نہیں وہ شادی نہیں کریں گی. -مطمئن ہو گئیں. مگر ان کے درد مند دل کا کیا علاج کہ دیدی، آنٹی اور باقی ساری عمر دوسروں کے غموں میں روتے دھوتے گزری.
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
گو کہ اس وقت میں بہت کم عمر تھی مگر یہ بات آج بھی مجھے اپنی تمام جزئیات کے ساتھ یاد ہے. بجو صحن میں بیٹھی کپڑے دھو رہی تھی. کہ پشاور میں منگنی کی رسم ادا ہونے کے بعد سب سے چھوٹا بھائی (چاروں بھائیوں میں )گھر میں اس شان سے داخل ہوا کہ گلے میں پھولوں کا بڑا سا کنٹھا پہنے ہوے، ہاتھ میں مٹھائی کا ٹوکرا اٹھاے ہوے، خوشی سے مبارک اور نئ بھابھی کی شان میں قصیدے پڑھتا ہوا !یہ سب دیکھ کر سب گنگ سے ہوگئے. بجو یکدم کپڑے چھوڑ کر سیڑھیاں پھلانگتی ہوی اوراوپر گئیں. دیدی اور میں ان کے پیچھے گئے. تو شدت غم سے جیسے وہ اپنے حواس میں نہ ہوں. روتے ہوے تنور میں جا کر کھڑی ہو گئیں. اور ایسا تڑپ تڑپ کر روئیں کہ بس. .
دیدی زبردستی انہیں نکال کر چھت پر بنے کمرے میں لے گئیں. کہ اب یہاں بیٹھ کر دل ہلکا کر لو. بجو نے بڑی بہن کی طرح آنٹی کی پرورش کی خیال رکھا.
دیدی اگر بہت حسین وجمیل تھی. تو آنٹی بھی کسی سے کم نہ تھی. سرخ و سفید رنگت، نازک سے نقش و نگار اور کمر سے نیچے تک لٹکتی چٹیا چھریرا جسم -اس بچپن کی مانگ کی وجہ سے بے شمار اچھے رشتے ٹھکراے گئے. ایک واقعہ جو بجو سناتی تھی. کہ آنٹی ددھیال کسی تقریب میں گئ ہوی تھی. کہ وہاں ان کا ایک کزن (جو نیا نیا کاکول سے پاس آوٹ ہو کر نکلا تھا )اس نے آنٹی کو دیکھ کر پوچھا کہ اتنی حسین لڑکی کون ہے؟ باقی کزنوں نے کہا تمہارے ماموں کی بیٹی اور یہ چونکہ ننھیال میں پلی بڑھی ہے اس لئے تم نہیں جانتے. بس پھر کیا تھا وہ تو کزنوں کے سر ہو گیا کہ میرا رشتہ کراو. کزنوں نے میرے دادا جو کہ تایا لگتے تھے آنٹی کے.
ان سے بات ەوگی. انہوں نے رضامندی دے دی. نکاح کی تیاری ہوگئ. لڑکے نے اپنی پسند اور شوق سے طرح طرح کے کپڑے خریدے. اور جب ڈیڈی کو بتا کر ان کی رضامندی لینا چاہی تو انہوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا. کہ یہ تو میرے بھتیجے کی منگ ہے. ہمارے دادا جنہیں سب میاں بابا کہتے تھے. خاندان کے بڑے تھے. (کیونکہ ہمارے نانا تو وفات پا چکے تھے )مگر وہ ڈیڈی کے آگے نہیں بول سکے.سارا خاندان غم و غصے میں ڈوب گیا. تو اتنے اچھے اچھے رشتے ڈیڈی نے جن کی خاطر ٹھکراے. آج انہوں نے یہ جواب دیا. ڈیڈی اپنے سارے بھتیجوں سے مزید ناراض اور چپ سے ہو گئے
(میری آپ بیتی کی شروع کی قسطوں میں پشاور کی شادی، رسم و رواج کا زکر ہے وہ انہی ماموں کا ہے جو مجھے اپنے ساتھ پشاور لے گئے تھے کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں )بجو، دیدی، آنٹی تینوں بہنیں نہیں تھیں. مگر بہنوں سے بڑھ کر پیار تھا. ایک بڑے سے رنگین پاوں والا چھپر کھٹ (بہت بڑی چارپائی )پر بجو اور آنٹی ساتھ ساتھ سوتیں. کبھی کبھی آپس میں کھٹ پٹ بھی ہو جاتی. مگر تھوڑی دیر میں پھر شیر وشکر ہو جاتیں. یہ تینوں اس زمانے کی آٹھویں جماعت تک پڑھی ہوئی تھیں. جب آٹھویں جماعت تک پڑھی ہوئی ان کی ہم جماعت استانیاں بن کر پڑھا رہی تھیں.
دیدی اور آنٹی خوبصورت بھی تھیں. اور فیشن ایبل بھی. اس زمانے میں پشاور کے درزی سے کپڑے سلواتیں .اچھے لوگوں میں آنا جانا اٹھنا بیٹھنا تھا. جب کہ دوسری طرف میری امی نے سوتیلی بہنوں کو ایسے ماں بن کر پالا کہ وہ مرتے دم تک امی کو دیدے (ہندکو زبان میں دیدے کا لفظ ماں کے لئے استعمال ہوتا تھا )کہتی تھیں.
امی کا بچپن بہنوں کی پرورش میں گزرا. اور وہ تعلیم بھی جاری نہ رکھ سکی.پھر چھوٹی عمر میں ان کی شادی اپنے چچازاد یعنی ابو سے ہوگئ. خیر ان کی کہانی پھر سہی ابھی بات کر رہے تھے کہ آپس میں یہ تینوں بہنوں سے بڑھ کر تھیں .مگر مزے کی بات یہ دونوں سگی بہنوں یعنی آنٹی اور امی میں ویسا کوئی پیار نظر نہیں آتا تھا. جیسا کە بہنوں میں ہوتا ہے. آنٹی سے ذیادہ بجو امی سے پیار کرتی اور خیال رکھتی تھی.
نانی کی وفات کے بعد ان کے نام لکھی گئی تمام جائداد زمین، باغات دونوں بہنوں کے نام منتقل ہوگئ. اور اکثر فصل کے پیسے آیا کرتے تھے ایک اور مکان تھا. جس کا کرایہ صرف آنٹی لیتیں کہ امی اپنے حق سے دستبردار ہو گئ تھی. وہ کرایہ دار کرایہ بہت لیت و لعل کے بعد دیتا اکثر 4ماہ کے بعد اکٹھا دیتا اور کرایہ آتے ہی آنٹی 10 روپے کا بکرا منگوا کر اللہ کے نام پر زبح کرواکر غریبوں میں تقسیم کرتیں. رجب کا مہینہ آتا تو یہ کہہ کر کہ یہ اللہ کا مہینہ ہے. نفل پڑھنے شروع کر دیتیں. اور پڑھتی جاتیں. اللہ کے نام کا بےحد احترام کرتیں. جہاں لکھا دیکھتی. جاکر چومتی. گھر تک تو یہ بات ٹھیک تھی مگر کسی کے گھر بھی جاتیں اور جیسے ہی اہل خانہ باہر جاتے. یہ صوفے اور کرسی پر چڑھ کر کھٹ سے اللہ کا نام چوم کر نیچے آجاتیں گھر میں دیدی کی حیثیت ملکہ کی سی تھی. اور بجو وآنٹی پوری جانفشانی سے گھر کا انتظام وانصرام سنبھالے ہوے تھیں. ڈیڈی کلب سے10 بجے آتے تو آنٹی انہیں کھانا گرم کر کے دیتیں. اور خود کمرے کے باہر سیڑھی پر بیٹھ کر کھانا کھا چکنے کا انتظار کرتیں . ان تینوں میں آنٹی تیز اور زہین تھیں. ہر چیز پر ان کی نگاہ ہوتی. بات کرتیں تو ایسی دلیل کے ساتھ کہ سب کہتے کہ وکیل ہونا چاہئے تھا.آنٹی کی طبیعت میں سخت گیری تھی اسلئے نظم و نسق کی پابندی سب کو کرنی پڑتی تھی ۔صادقو کے بار بار ترکاری مانگنے پر لکڑی کے چمچے سے تواضع بھی ہو جاتی تھی ۔اور تو اور انکل کو بھی نہیں بخشتی تھی ۔باہر سےآنے پر منہ قریب کر کے سونگھتی کہ سگریٹ پی کر تو نہیں آے ۔جگنو اورمیں بھی ان کی سخت گیری سے گھبراتے تھے ۔وہ خود اپنے کردار میں ایسی پاکیزہ تھیں ۔کہ کسی کو بات کی ہمت نہ ہوتی ۔اسی گھرمیں رہتے ہوے کبھی اپنےسابقہ منگیتر سے بات نہیں کی ۔نہ پہلے نہ بعد میں ۔خیراصل قصے کی طرف آتے ہیں ۔ان تین بھائیوں میں سے دو نے تو شادی کرلی۔لیکن دیدی کے منگیتر اب تک دیدی کی آس میں کنوارے بیٹھے تھے.مگر ڈیڈی کی ایک ناں تھی. وہ ان بھائیوں کا زکر سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے. بالآخر مایوس ہوکر انہوں نے آنٹی کا رشتہ مانگا .اور میرے دادا یعنی آنٹی کے تایا سے درخواست کی. انہوں نے ہاں کہہ دی. بجو دیدی بھی چاہتی تھیں کہ آنٹی کی تو شادی ہو جاے. شادی کی تیاریاں شروع ہو گیں یہ اس گھر میں پہلی شادی تھی. ڈیڈی ناراض ہو کر دوسرے گھر کے بالاخانے میں منتقل ہو گئے. اور کسی تقریب میں شامل نہ ہوے. میری گزشتہ اقساط میں ان کی شادی کا قصہ آپ پڑھ چکے )شادی کا کچھ عرصہ تو اچھا گزرا. پھر پرانی باتوں کی تلخیوں کا زہر آنٹی کی زندگی میں گھلنے لگا. آنٹی ایک دفعہ جسے ناپسند کرتیں تو دوبارہ کبھی اس بندے سے بات کرنا پسند نہ کرتیں. لہذا انہوں نے اپنی سسرال کو اور سسرال والوں نےانہیں پسند نہیں کیا. میرے یہ ماموں اپنی جگہ اچھے انسان تھے ڈیل کار نیگی کے حافظ اور ان پرعمل کر کے سب کا دل جیتنے والے. مگر آنٹی اور ان کے مزاج میں بہت فرق تھا. اب تک کے تلخ واقعات نے آنٹی کو قنوطی بنادیا. ہمارے نانا اور نانی کی سخاوت وفیاضی کی لوگ مثالیں دیتے تھے. پر آنٹی دوسروں کو تو چھوڑ خود اپنی زات پر بھی کچھ خرچ نہ کرتیں. ان کی سو خوبیوں پر اس خامی نے پانی پھیر دیا. 5 سال بعد ایک پیاری سی بچی کی ماں بنیں. اس کے بعد لاہور کے ہر ڈاکٹر سے رجوع کیا کہ ایک اور بچے وبیٹے کی خواہش تھی. جو پوری نہ ہو سکی. ان کی ساری زندگی
.اتار چڑھاو کا شکار رہی. وقت نے قنوطی بنا دیا تھا. خوشی کی بات پر بھی خوش نہ ہوتیں. بجو اور دیدی اس بات پر کڑھتیں کہ ہم سے تو بہتر ہو. اپنی اولاد تو ہے.
ان کی اکلوتی بیٹی میری بھابھی ہے. اور اسے بھابھی بنانے میں میرا کافی ہاتھ رہا. کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں پھر دیدی والی تاریخ نہ دہرای جاے. آنٹی نے اپنے 4نواسے نواسیوں سے بھر پور پیار کیا. اور بیوہ ہونے کے بعد باقی ساری زندگی بیٹی کے پاس ہی گزاری اور بچوں کی نگہداشت کی. صاحب جائداد ہونے کے باوجود غریبانہ انداز میں زندگی گزاری. اللہ نے محتاج نہیں کیا ایک دن کی بیماری میں سفر آخرت پر روانہ ہوئیں. میرا بیٹا اسد ہسپتال میں ان کے پاس تھا.اورکوما میں جانے سے پہلے اونچی آواز میں کلمے پڑھتی رہیں. جس رب کا نام وہ جہاں دیکھتی. چوم لیتیں. اس نے انہیں اپنی آغوش رحمت می لے لیا ہوگا. کہ ساری عمر کوی پیار ان کے حصے میں نہیں آیا.
اب گزشتہ سال تمثیل (بھائی )نے ان کی طرف سے حج بدل کیا. ان کی چھوڑی ہوی جائداد کی مالیت کروڑوں میں ہے. اور میں انکی زندگی کی محرومیاں یاد کرتی ہوں تو رو دیتی ہوں. یہ سب لکھتےہوے بھی اشک رواں ہیں اور دل غم سے بوجھل. شاید وہ وہاں بھی رب سے کہہ رہی ہوں کہ مجھے زندگی کی سمجھ نہیں آی. کیونکہ زندگی میں یہ ان کا تکیہ کلام تھا. کہ ہر خوشی کے موقع پر بھی کہتیں مجھے سمجھ نہیں آی. (مطلب کہ میں اس سے لطف اندوز نہ ہوسکی )بجو دیدی آنٹی تین عورتیں تین کہانیاں غم و الم سے بھر پور .ان میں آنٹی بہتر رہیں کہ بیٹی کی شادی اس کے بچے دیکھے. دیدی بجو کے غم سوا تھے. مگر غموں کو خوش دلی سے جھیلا. غموں میں بھی مسکرانے کا حوصلہ تھا اچھے کپڑے پہننے، باہر آنے .جانے پر خوب خوش ہوتیں. بچے نہیں تھے تو پہلے ہمارے ساتھ پیار اور پھر انکل کے بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر زندگی جی گییں.اللہ ان تینوں کو اپنے خاص جوار رحمت میں جگہ دے.اور خاتون جنت کی کنیزوں میں شامل کرلیں. آمین ثم آمین

SHARE

LEAVE A REPLY